Thursday, 26 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Kya Hua Aur Kya Ho Raha Tha

Kya Hua Aur Kya Ho Raha Tha

کیا ہوا اور کیا ہو رہا تھا

دنیا ایک بار پھر ایک خطرناک موڑ پر کھڑی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، عالمی معیشت پر منڈلاتے سائے اور بڑی طاقتوں کی بے بسی۔ یہ سب مل کر ایک ایسا منظرنامہ تشکیل دے رہے ہیں جس میں جنگ اور امن کے درمیان لکیر انتہائی باریک ہو چکی ہے۔ ایسے میں پاکستان ایک بار پھر سفارتی میدان میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ موجودہ بحران میں پاکستان نے وہ کردار ادا کیا ہے جو کئی بڑی طاقتیں ادا کرنے میں ناکام رہیں۔ منظرنامہ گو کہ بہت خوشگوار بھی نہیں مگر تھوڑا پُر امید ضرور ہے۔ کیا ہوا اور کیا ہو رہا تھا، اس پر بات کرنے کے ساتھ کیا پسِ پردہ ہوا اس پر بات کرنا ضروری ہے۔ مضمون تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے کے سبب طویل ہو سکتا ہے لیکن اب تک کی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

راؤنڈ ون: Fight

امریکا، دنیا کی سب سے بڑی فضائیہ کے ساتھ سب سے بڑی بحریہ رکھتا ہے علاوہ ازیں گلف ممالک سمیت دنیا بھر میں فوجی اڈوں کی تعداد 119 ہے۔ اس کو اپنی طاقت پر اس قدر غرور ہے کہ وہ برملا کہتا رہتا ہے "میں کلا ای کافی آں۔ متھے رنگ دیاں گا"۔ اس طاقت کے ساتھ جڑتی ہے اسرائیل کی طاقت تو وہ اس اتحاد کو لگ بھگ فولادی دیوار بنا دیتی ہے۔ اٹھائیس فروری کو جب امریکا نے ایران پر پہلے حملے میں ہی سپریم لیڈر سمیت اعلیٰ عسکری قیادت کو نشانہ بنا کر مُکا ہوا میں لہرا دیا تو اس سمیت دنیا کو لگنے لگا کہ اب ایران ڈھ جائے گا۔ نظام بدلا جائے گا اور ایرانی عوام اس موقع سے فائدہ اُٹھا کر سڑکوں پر نکل آئے گی۔ لیکن اگلے چوبیس گھنٹوں میں یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ منظر امریکا کا خواب تھا۔ ایرانی قوم بیرونی جارحیت کے خلاف متحد ہوگئی اور پھر ایران کا جوابی وار شروع ہوا۔

پہلے چوبیس گھنٹوں میں ہی ایران کی جانب سے امریکی بحری بیڑے ابراہیم لنکن کو نشانہ بنانے کی خبر آئی۔ امریکا نے اسے مسترد کیا لیکن جلد ہی دنیا جو معلوم ہوگیا کہ کچھ تو ہوا ہے۔ ابراہیم لنکن کو امریکا وار زون سے نکال کر دور لے گیا۔ عملی طور پر بحری بیڑہ ناکارہ ہوا۔ دنیا کے سب سے بڑے بحری بیڑے جیرالڈ فورڈ کی داستان اس سے زیادہ سنسنی خیز ہے۔ اس میں اچانک لانڈری میں آگ بھڑک اُٹھتی ہے۔ ایران دعویٰ کرتا ہے اس نے جیرالڈ فورڈ کو ناکارہ بنا دیا ہے۔ امریکا حسب معمول دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے تکنیکی خرابی (سیوریج کے نظام کی خرابی) قرار دیتا ہے لیکن حیرت انگیز طور پر جیرالڈ فورڈ بھی وار زون سے دور لے جایا جاتا ہے۔ یعنی امریکی بحریہ عملاً جام ہو جاتی ہے۔ بیڑے تو موجود ہیں لیکن رینج سے دور کھڑے ہیں۔ کس قدر فعال یا تباہ حال ہیں یہ وثوق سے نہیں کہا جا سکتا۔ امریکی بحریہ کی حالتِ زار ہی وہ سبب بنتی ہے جس کے زیر اثر ٹرمپ نیٹو اور اتحادیوں کو پکارنے لگتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش تیل کے بحران کے ساتھ معاشی منڈیوں یعنی سٹاک ایکسچینجز پر بھی برا اثر ڈالنا شروع ہوتی ہے۔ معاشی دباؤ بڑھتا ہے مگر ہرمز کو کھلوانے کوئی آگے نہیں آتا۔ یہ تھی امریکی بحریہ کی "مائٹ" اور اس پر ایرانی گھونسا۔

امریکی فضائیہ کی داستان مضحیکہ خیز بھی ہے اور سنسنی خیز بھی۔ اب تک سولہ جہاز بشمول ایف ففٹین، ایف پینتیس اور کے سی 135 ری فیولر کے یا تو گر کر ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں یا عملاً ناکارہ ہو گئے ہیں۔ زخمی جہازوں کی تعداد اس کے سوا ہے۔ امریکا اسے "فرینڈلی فائٹ" کہتا ہے اور کبھی "تکنیکی مسئلہ" لیکن ایران اسے اپنی کارکردگی قرار دیتا ہے۔ علاوہ ازیں ڈرونز چاہے اسرائیلی ہوں یا امریکی وہ بھی گرائے گئے ہیں۔ لیکن سب سے دلچسپ بات ایف 35 کا ناکارہ ہونا ہے۔ امریکی فضائیہ اور دنیا کا مہنگا ترین جہاز جس کو اسٹیلتھ ٹیکنالوجی سے مزین کیا گیا اور جس پر امریکا کا دعویٰ رہا کہ وہ ناقابل نشانہ ہے۔ اس کا نشانہ بنانا عسکری تاریخ میں کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ اس نے امریکی تشخص کو مسخ کیا ہے اور اس کی پول اُدھیر کر رکھ دی ہے۔

وہ جہاز جو ریڈار پر نظر نہیں آ سکتا تھا اس کو ایران نے انفرا ریڈ ریڈار ہر ٹریک کیا۔ لاک کیا اور نشانہ بنا دیا۔ آج سے چالیس سال پرانی انفرا ریڈ ٹیکنالوجی جو شاہ کے زمانے میں ایرانی فوج کا حصہ بنی تھی اس نے دنیا کا مہنگا اور ناقابل تسخیر جہاز نشانہ بنا ڈالا۔ ٹرمپ اسی لیے کہتا ہے "ہمارا مقابلہ اونچے آئی کیو والے لوگوں سے ہے"۔ ایف 35 کو ہیٹ سگنلز سے ٹریک کیا گیا۔ جدید ریڈارز کی ضرورت ہی نہیں پڑی اور ایران نے میسج دے دیا کہ ٹیکنالوجی چاہے جتنی جدید ہو جگاڑ لگانے والے لگا لیتے ہیں اور اس کیس میں یہ جگاڑ نہیں یہ واقعی سنسنی خیز ہے۔ ایف 35 سے خارج ہوتی انجن ہیٹ سے اسے ٹریک کر لینا واقعی "جینئیس" اپروچ ہے۔ ساری دنیا یہ بھی جان گئی ہے کہ امریکی اسٹیلتھ طیاروں کو کیسے شکار کیا جا سکتا ہے۔ یقیناً یہ امریکا کو ملا ایک بہت بڑا دھچکا ہے۔

بات کی جائے زمینی جنگ کی تو ایران نے مشرق وسطیٰ میں لگے اردن تا بحرین پھیلے خلیجی ممالک کے دفاع واسطے تعینات اینٹی میزائل سسٹمز تھاڈ اور پیٹریاٹ کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ کُل آٹھ تھاڈ سسٹمز میں سے چار کو میزائل حملوں سے ناکارہ کر دیا۔ اسرائیلی آئرن ڈوم کو گرم کرکے ٹھنڈا کر دیا اور میزائل تل ابیب، یروشلم و حیفہ کے ساتھ ساتھ گلف ممالک پر برستے رہے۔ تھاڈ سسٹمز کا ناکارہ ہونا ایک بڑا عسکری نقصان ہے۔ جس کی بھرپائی کے لیے امریکا کو یوکرین اور جنوبی کوریا سے پیٹریاٹ اینٹی میزائل سسٹم مڈل ایسٹ کی جانب منتقل کرنا پڑا ہے۔ یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں ایران کے لحاظ سے یہ غیر معمولی عسکری کامیابی ہے۔ یہ بحث الگ موضوع کے کہ ایران کے خلیجی ممالک پر میزائل حملوں نے عربوں کو زچ کیا ہے اور وہ ایران کو "نیوٹرل" کرنے کے خواہشمند ہو رہے ہیں۔ تاکہ کل کلاں پھر وہ ان کے آسمان پر آتش بازی نہ کر سکے۔ وہ ایران جس کے بارے دعویٰ کیا گیا کہ صرف نقشے پر باقی ہے وگرنہ تو اس کی بحریہ و فضائی قوت سب خاک کر دی ہے اس نے ایسے پلٹ وار کیے کہ امریکا کو راؤنڈ ٹو پر آنا پڑ گیا ہے۔

راؤنڈ ٹو: Pause

آبنائے ہرمز کی بندش، امریکی عسکری اثاثوں کی تباہی اور اسرائیلی بستیوں کا ملبہ امریکا کو مجبور کرتا چلا آیا ہے۔ خاص کر تازہ صورتحال جس میں ایران نے اپنی توانائی تنصیبات پر حملوں کے جواب میں خلیجی ریاستوں کی توانائی اور صاف پانی پیدا کرنے کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ عرب ریاستوں کا دارو مدار سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والے پلانٹس پر ہے۔ اگر ان پر حملہ کیا جاتا ہے تو یہ ان کی شہہ رگ پر حملہ ہوگا۔ اس دھمکی نے عربوں میں بے چینی پیدا کی ہے اور امریکا پر اس بے چینی کا دباؤ آیا ہے۔

اس سارے منظرنامے میں نیتن یاہو اور ٹرمپ کے بیانات نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کی زبان دازی اور دھمکیوں سے نیٹو سمیت غیر نیٹو اتحادی ممالک بھی جنگ سے دور رہے۔ امریکا اسرائیل کو سفارتی تنہائی کا سامنا ہے۔ اس فرسٹریشن میں امریکی صدر یورپ اور جاپان سمیت کینیڈا کو بھی ٹرول کر رہا ہے۔ رد عمل میں ساری دنیا کی جانب سے خاموشی ہے۔ مجبوراً ٹرمپ کو پوٹن کے پاس جانا پڑا ہے۔ پوٹن بھیا بھی ٹرمپ کو جھولا دے رہے ہیں۔ چائنہ سے آبنائے ہرمز کھلوانے کی درخواست بھی رد ہوئی ہے۔ یعنی صورتحال یہ بن چکی تھی امریکا کو اپنے مخالف بلاک روس و چائنہ سے رابطے کرنا پڑے تھے۔ دوسری جانب یورپی ممالک نے امریکا کو کٹ آف کرکے ایران سے براہ راست بات چیت کا آغاز کیا۔ سپین، اٹلی اور جرمنی نے اپنے تیل بردار جہازوں کے لیے ایران سے براہ راست بات کرکے راستہ مانگا ہے اور ان کو راستہ دے دیا گیا ہے۔

عسکری ناکامیاں، سفارتی تنہائی اور غیر واضح مستقبل نے ہی صرف امریکا کو عارضی طور پر جنگ روک کر غور کرنے پر ہی مجبور نہیں کیا۔ اس عارضی وقفے کے پیچھے پاکستان کی سفارتکاری کا بڑا کردار ہے۔ پاکستان سفارتی محاذ پر مسلسل سرگرم رہا ہے۔ سعودیہ، ایران میں کشیدگی کم کرنے کی ہر ممکن کوششوں میں رہا ہے اور اس میں کامیاب بھی رہا ہے۔ دوسری جانب امریکی انتظامیہ کو اسٹیو وٹکاف کے ذریعہ بھی انگیج رکھا ہے۔ اتوار کے روز فیلڈ مارشل نے ڈائریکٹ صدر ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو کی ہے اور اس کا نتیجہ سامنے آیا ہے۔ ماضی میں ٹرمپ کہہ چکا ہے کہ ایران کو پاکستانی فیلڈ مارشل سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ اس کا پس منظر چند ماہ قبل ہونے والی بارہ روزہ اسرائیل ایران جنگ ہے، اس موقع پر امریکا دورے کے دوران عاصم منیر نے ایران کی صورتحال پر ٹرمپ کے کان کھولے تھے۔ پاکستان میں لاکھ خامیوں کے ہوتے ایک خوبی اور بہت بڑی خوبی یہ رہی ہے کہ وہ ہر دور کے تقاضوں مطابق سفارتی میدان میں خود کو عالمی پھڈوں سے بچ بچا کر چلتا آیا ہے۔ اسی دوران اپنے ایٹمی و میزائل پروگرام کو بھی تحفظ دیتا آیا ہے اور اس میں عسکری و سویلین حکمرانوں کی کاوشیں شامل ہیں۔ اس پر مفصل مضمون پہلے ہی تحریر کر چکا ہوں۔ پاکستان نے اپنے مفادات کا تحفظ کیا ہے اور آج وہ دنیا کی دس بڑی پروفیشنل افواج میں شامل ہونے کے ساتھ ایٹمی قوت رکھنے والے دس ممالک میں شامل ہے۔

ہمارے ہاں اس جنگ میں سعودیہ اور ایران کو لے کر بہت نفرتیں پھیلائیں گئیں۔ نفرتوں کے سوداگروں نے اندیشوں اور مفروضوں کی بنیاد پر پاکستان کو سعودی کیمپ کا حصہ قرار دے کر اینٹی ایران ثابت کرنے کو ایڑھی چوٹی کا زور لگا دیا۔ وجہ کچھ سیاسی تھی کچھ مسلکی۔ مقصد صرف اپنا توا گرم رکھنا تھا تاکہ گرما گرم پھُلکے اترتے ہیں اور گلشن کا کاروبار چلتا رہے۔ میں سیاسی و مسلکی وجوہات کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا آپ سب سمجھتے ہیں وہ کونسے طبقے ہیں جو ریاست مخالف بات کرتے کو موقع کی تلاش میں بیقرار رہتے ہیں اور اگر موقع نہ بھی ملے تو خود سے مفروضے تراش کر گولہ باری شروع کر دیتے ہیں۔

پاکستان کا مفاد ایران میں استحکام سے وابستہ ہے۔ وہاں کسی قسم کی اسرائیل نواز حکومتی تبدیلی یا بصورت دیگر خانہ جنگی کو پاکستان افورڈ نہیں کر سکتا۔ بھارت اور ڈیورنڈ لائن پہلے ہی سردرد بنے ہیں۔ ایران تیسرا ہمسائیہ ہے وہاں محاذ کھولنا پاکستان کے مفاد میں کسی صورت نہ تھا نہ ہے نہ ہوگا۔ یہی بات روز اول سے کرتا آیا ہوں۔ سعودیہ اور ایران میں توازن قائم رکھنا ہی ہمارا مفاد ہے اور پاکستان نے بڑی مشکل سے یہ قائم رکھا ہوا ہے۔ اس ملک کے کچھ زمینی حقائق بھی ہیں جن کے مدنظر نہ یہ ایران کے خلاف جا سکتا ہے نہ ہی سعودیہ کے خلاف۔ یہی پاکستان کی سفارتی خوبصورتی ہے۔ دونوں کو ساتھ رکھا ہے۔ بڑے بلاکس میں امریکا بھی راضی رکھا ہے اور چین بھی، روس سے تعلقات بھی بڑھا رہا ہے۔ ان سب پیچیدہ موضوعات پر کئی بار مفصل لکھ چکا ہوں۔

راؤنڈ تھری: Talk

پاکستان کی سفارتکاری نے تاحال کامیابی سمیٹی ہے۔ لیکن مکمل کامیابی کا دارو مدار اصل فریقین یعنی امریکا اور ایران پر منحصر ہے۔ پاکستان ان دونوں ممالک کو گفتگو کی میز پر لانا چاہتا تھا اور اس میں کامیاب رہا ہے۔ ابھی تک فریقین میں براہ راست یا بالواسطہ گفتگو کا آغاز نہیں ہوا ہے۔ پاکستان، ترکیہ اور مصر نے بلا واسطہ امریکی نمائندہ خصوصی رائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے گفتگو کرتا رہا ہے۔ یہاں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ اصل سہرا پاکستان کے سر اس لیے ہے کہ ترکیہ اور مصر کو ساتھ انگیج کرکے فریقین سے بات کا آغاز کرنے کا پہلا قدم پاکستان نے ہی لیا ہے۔ اگر ایران امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرتا ہے جو کہ محسوس ہوتا ہے وہ کرے گا، تو یہ مذاکرات اسلام آباد یا پھر استنبول میں ہو سکتے ہیں۔ اسلام آباد کے متعلق میں کنفرم نہیں ہوں۔ لیکن گفتگو شروع ہوتی ہے تو پاکستان اس کا حصہ ہوگا۔

پاکستان، ترکیہ اور مصر یہ تین ممالک ہی کیوں اور ان تینوں پر فریقین کا اتفاق رائے کیوں؟ یہ بھی دلچسپ پہلو ہے۔ پاکستان جانتا ہے کہ ترکیہ، مصر اور ہمارا یعنی ان تینوں کا امریکا کے ساتھ اچھا تعلق ہے۔ مصر اور ترکیہ اب بھی اس کے اسٹریٹجک اتحادی ہیں جن کے ہاں امریکی بیسز بھی موجود ہیں اور پاکستان ماضی میں امریکا کا اہم اتحادی رہا ہے۔ لہذا ان تینوں پر امریکا بطور مذاکراتی سہولت کار اعتبار کر سکتا ہے۔ دوسرا فریق ایران ہے۔ ایران ہمارا مسلسل شکریہ ادا کرتا چلا آ رہا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے پاکستان اس کے لیے سفارتی محاذ پر دل و جاں سے لڑ رہا ہے اور اس کی بھلائی چاہتا ہے۔ تہران اور اسلام آباد میں قربتیں بڑھی ہیں۔ ماضی کی تلخیاں رفع ہوئی ہیں۔ اس کا سبب پاکستان کی ایران کی جانب گرمجوشی ہے اور اسے باور کرانا ہے کہ بھارت سے قریبی ہم ہیں جو ہمسائیہ بھی ہیں اور ماضی کے پارٹنرز بھی۔ یوں بھی بھارت نے خود کو سفارتی محاذ پر ایران کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں دو تین پہلو اور ہیں جن میں سعودیہ و قطر سے ایران کے اچھے تعلقات کی بحالی بھی شامل ہے۔ ترکیہ سے ایران کے تعلقات بہتر ہیں، دونوں کی سرحد مشترک ہے اور تجارتی تعلق بھی رکھتے ہیں، مصر سے نہ بہتر ہیں نہ کشیدہ ہیں۔ لہذا ایران کو بھی ان تینوں پر اعتبار ہے۔

تیسرا فریق اسرائیل ہے۔ ترکیہ سے اسرائیل کے سفارتی تعلقات ہیں، تجارتی تعلقات ہیں۔ ان دونوں ممالک کے مابین تجارت کا حجم چالیس بلین ڈالرز ہے۔ نیتن یاہو کا اردوان نے ریڈ کارپٹ استقبال کیا ہوا ہے۔ یہی صورتحال مصر کی ہے۔ جنرل سیسی کی حکومت اور اسرائیل ہم آہنگ ہیں۔ لہذا اسرائیل کو ان دو پر کوئی اعتراض نہیں ہونے والا۔ رہ گیا پاکستان تو پاکستان اس کا ڈائیریکٹ دشمن بھی نہیں ہے۔ سعودیہ و ترکیہ کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے ہوتے وہ پاکستان جو کہ ان دونوں ممالک کا اسٹریٹجک پارٹنر بن رہا ہے پر اعتراض نہیں کر سکتا۔ اگر مذاکرات ہوئے اور ان میں پیش رفت ہوئی (اگر اس لئے کہہ رہا ہوں کہ کوئی پتہ نہیں ٹرمپ کب کس سبب گیس ہو جائے اور پھر جنگ شروع کرنے کا کہہ دے، یا ایران پیشگی شرائط کو دیکھ کر ہی انکاری ہو جائے) جس نے امکانات روشن ہو رہے ہیں تو دوطرفہ ضمانتیں بھی چاہئیے ہوں گی۔

اس سٹیج پر آ کر ترکیہ، مصر اور پاکستان میں صرف پاکستان ایسا ہے جو ایران کی ضمانت دے سکتا ہے۔ ترکیہ امریکا کی اور مصر اسرائیل کی دے سکتا ہے۔ یہ پرفیکٹ ضمانتی ایکو سسٹم ہے اور کوئی معاہدہ ہونے میں کامیابی ملتی ہے تو تینوں ممالک اس کے مشترکہ ضمانتی ہوں گے۔ یہ مرحلہ پیچیدہ ہے، طویل ہو سکتا ہے اور مشکل ترین ہے۔ دعا ہے کہ کوئی حل نکل سکے اور دنیا بالعموم اور ہمارا خطہ بالخصوص سکون میں آئے۔

صاحبو، پاکستان یہاں تک لے آیا ہے۔ یہی کر سکتا تھا۔ مذاکرات کو کامیاب کرانا اس کے بس کا نہیں یہ صرف و صرف فریقین پر منحصر ہے۔ آپ پوچھیں گے کہ آپ کو کیا لگتا ہے اگر گفتگو کا آغاز ہوتا ہے تو فریقین کسی معاہدے پر راضی ہو سکتے ہیں۔ اس سوال کا جواب امریکی شرائط پر منحصر ہے۔

اگر شرائط یہ ہوئیں کہ ایران امریکا کی منشا سے سپریم لیڈر یا سربراہ منتخب کرے، میزائل پروگرام کو ختم کرے، افزودہ یورینیم کی حوالے کرے تو جواب ہے نہیں۔ یہ ایران کے بقا کی جنگ ہے جو اس پر مسلط کی گئی ہے اور وہ اپنی جانیں دے چکا ہے۔ وہ نظریاتی سرنڈر یا عسکری سرنڈر نہیں کرے گا۔

اور اگر سب سے اہم یا اول شرط یہ ہوئی کہ آبنائے ہرمز کو کھولا جائے۔ معمول کے مطابق ٹریفک بحال کی جائے۔ ایران اس پر مان سکتا ہے۔

اس صورتحال میں امریکا اپنی فتح کا اعلان کرتے ہوئے وہی موقف لے سکتا ہے کہ ہم نے اہداف مکمل کر لیے۔ ایران کے اثاثے ختم کر دیے۔ دنیا پہلے سے زیادہ محفوظ ہوگئی۔ آبنائے ہرمز کھُل گئی۔ ایران اب خطرہ نہیں رہا وغیرہ وغیرہ۔۔

ایران اپنی فتح ڈکلئیر کر سکتا ہے۔ ہم زندہ رہے۔ نظام کھڑا رہا۔ عوام متحد رہے۔ امریکا کو بڑا عسکری نقصان اٹھانا پڑا۔ امریکا اپنے عزائم میں ناکام ٹھہرا۔ ایران ناقابل تسخیر رہا۔ وغیرہ وغیرہ

حقیقت یہ ہے کہ ایران نے عسکری سطح پر بھی شدید نقصان اٹھایا ہے۔ اہم تنصیبات کو بھی نقصان ہوا ہے۔ قیادت بھی گنوائی ہے۔ معیشت بھی برباد ہوئی ہے۔ اس کو بھرپائی کرتے سالوں لگ سکتے ہیں اور جنگ ختم ہونے کے بعد ایران میں مہنگائی کا طوفان سر اٹھائے گا تو کیا وہاں عوام اس نظام کے ساتھ چل پائیں گے۔ یہ بڑا اہم سوال ہے اس کا جواب آنے والا وقت دے گا اور ایران کے لئے آنے والا وقت اقتصادی لحاظ سے سخت مشکل معلوم ہوتا ہے۔ امریکا نے عسکری و سفارتی محاذ پر نقصان اُٹھایا ہے۔ اس کے اہداف نامکمل رہے۔ ٹرمپ کا ایڈونچر مس ایڈونچر ثابت ہوا۔ ایران لوہے کا چنا نکلا۔ اسرائیل مزید رسوا ہوا۔ نیتن یاہو اور ٹرمپ آنے والے وقت میں اس غلطی کا بھاری سیاسی خمیازہ بھگت سکتے ہیں۔

فریقین میں کوئی بات کا آغاز کرے یا نہ کرے۔ بات ہو تو معاہدہ ہو پائے یا نہ ہو پائے۔ جنگ مستقل بند ہو سکے یا پھر شروع ہو جائے۔ فریقین "ون ون" سیچوئیشن کی راہ لے لیں یا ایک دوسرے کو مکمل ختم کرنے تک جاری رکھیں۔ پاکستان نے اپنی کوششوں کا لوہا منوا دیا ہے۔ اس کے بس میں جو تھا اس سے بڑھ کر کیا ہے۔ فریقین کو بات چیت کا ماحول اور پلیٹ فارم مہیا کرنے کی آفر کے ساتھ اپنی پوری کوشش کر دی ہے۔ پاکستان نے بیک وقت کئی محاذوں پر کام کیا ہے۔ ایران کے ساتھ رابطہ، خلیجی ممالک کو اعتماد میں لینا، امریکا کے ساتھ بیک چینل سفارتکاری اور علاقائی طاقتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا۔

پاکستان نے کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا ہے، رابطوں کا پل بنایا ہے اور خود کو ایک سنجیدہ سفارتی کھلاڑی کے طور پر منوایا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جنگ روکنے کا مکمل اختیار پاکستان کے پاس نہیں حتمی فیصلہ امریکا اور ایران نے کرنا ہے۔ پاکستان نے دروازہ کھولا ہے، اندر داخل ہونا فریقین کا کام ہے۔ پاکستان عالمی طاقتوں کی راہداریوں میں سنجیدہ اور توانا آواز بن کے اُبھرا ہے اور یہ بطور پاکستانی ہم سب کے لیے خوشی کا باعث ہے۔ دعا ہے معاملات حتمی نتائج پر منتہج ہوں اور یہ جنگ تھم جائے۔

Check Also

Iran Ki Sharait Aur Jang Ka Mustqbil

By Noorul Ain Muhammad