Islamabad Mein Kawa Bolne Ko Hai
اسلام آباد میں کوا بولنے کو ہے

فیلڈ مارشل ابھی تک ایران میں ہیں۔ دو راتیں وہاں گزار چکے ہیں اور متعدد ذمہ داران سے طویل نشستیں کی ہیں۔ اس دورے کا بہت اہم مقصد تھا جو پورا ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ایران کے اندر خامنہ ای صاحب کی شہادت کے بعد سیاستدانوں یعنی پارلیمان اور پاسداران انقلاب یعنی سپریم لیڈر کے آفس کے مابین کچھ فاصلے پیدا ہوئے تھے اور یہ متوقع تھا۔ ایرانی سیاسی لوگ مستقل حل کی جانب مائل تھے جبکہ پاسداران انقلاب لڑو یا مرو پر کاربند تھے۔ ان اندرونی فاصلوں نے ایران میں فیصلہ سازی کی قوت کو متاثر کر رکھا تھا۔
پاسداران انقلاب اکتیس بریگیڈز میں منقسم ہے۔ یعنی ہر صوبے کا اپنا کمانڈر ہے اور وہ مکمل بااختیار ہے۔ یہ ایران کی جنگی حکمتِ عملی تھی کہ اگر مرکزی قیادت کو نشانہ بنایا جائے تو بھی سینٹرل کمانڈ کے ٹوٹنے سے مزاحمت ختم نہ ہونے پائے۔ یہی وجہ ہے کہ سینٹرل کمانڈ نہ ہونے کے باوجود بھی ایران نے پہلے سے طے شدہ عزائم پر عمل جاری رکھا۔ اس سارے منظرنامے میں مشکلات بھی پیش آئیں۔ ایرانی صدر عرب ریاستوں سے معذرت بھی کرتے رہے اور عباس عراقچی عرب ریاستوں کے ساتھ اعتماد سازی کی کوششیں بھی کرتے دکھائی دئیے مگر پاسداران انقلاب کی جانب سے طے شدہ حملے پھر بھی جاری رہے۔ پاسداران کے مسائل حقیقی تھے۔ کمانڈرز کا آپسی رابطہ منقطع تھا۔ سب کمانڈرز انڈر گراؤنڈ تھے اور موبائلز یا گیجٹس کا استعمال ترک ہو چکا تھا کیونکہ انہی ڈیجیٹل ڈیوائسز کے سبب اسرائیل ان کو ٹریک کرکے نشانہ بنانے میں کامیاب رہا ہے۔
فیلڈ مارشل نے گذشتہ روز چھ گھنٹے طویل ملاقات کی جس میں پاسداران انقلاب کے متعدد کمانڈرز شامل ہوئے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے اس بات کی ضمانت لی گئی کہ ملاقاتوں کے دوران کسی کو ٹارگٹ نہیں کیا جائے گا۔ ایرانی پولیٹیکل سسٹم اور جرنیلوں سمیت پاسداران کے کمانڈرز نے پاکستانی ضمانت پر مکمل اعتبار دکھایا ہے اور سب نے مل کر ملاقاتوں میں ممکنہ معاہدہ کی جانب پیش رفت کی ہے۔ وہ عناصر جو ہارڈ کور تھے یا مائل بہ انتقام تھے ان کو بھی سمجھایا گیا ہے کہ وقت اور حالات کے مطابق فیصلہ لیں۔ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای صاحب سے ملاقات ممکن نہیں۔ وہ انتہائی خفیہ مقام پر موجود ہیں لیکن وہ اس سارے عمل میں شامل رہے ہیں اور ان تک پیغام رسانی ہوتی رہی ہے۔ ایرانی قیادت کے اندرونی مسائل یا گیپ کو بھرا گیا ہے۔ تاحال فیلڈ مارشل ایران میں ہی ہیں۔
فریقین معاہدے پر راضی ہو چکے ہیں اور اس کے خدو خال لگ بھگ طے ہو چکے ہیں۔ عاصم منیر نے خود ایران اس لئے جانا مناسب سمجھا کہ وہ جنگی امور کے ماہر ہیں اور پاسداران کے کمانڈرز یا ایرانی جنگی ماہرین سے ہی نشستیں کرنا مقصود تھا۔ وزیراعظم یا کوئی اور یہ کام نہیں کر سکتا تھا۔ جرنیلوں کو جرنیل ہی سمجھا سکتا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ معاملات خوش اسلوبی سے طے پاتے نظر آ رہے ہیں۔ اسلام آباد میں صفائیاں شروع ہوگئی ہیں۔ پنجاب پولیس کی بھاری نفری کو طلب کر لیا گیا ہے۔ سرینا ہوٹل پھر سے سج سنور رہا ہے۔ مہمانوں کی پیشگی آمد کی اطلاع دیتا اطلاعاتی کوا منڈیر پر بیٹھ گیا ہے۔ مہمان بھی بس چند یوم میں آنے والے ہوں گے۔ تہران میں جرنیل بیٹھے ہیں، اسلام آباد میں کوا بیٹھا ہے اور دنیا بیٹھ کر دیکھ رہی ہے کہ کیا اس بار تاریخ واقعی بدلنے والی ہے۔ اگر بدل گئی تو اس کہانی میں ایک کردار ضرور یاد رکھا جائے گا۔

