Tuesday, 24 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Iran, White Revolution Aur Inqilab

Iran, White Revolution Aur Inqilab

ایران، وائٹ ریولوشن اور انقلاب

ستر کی دہائی کا ایران ایشیا میں چمکتا دمکتا ہیرا تھا۔ عرب اسرائیل جنگ کے دوران جب عربوں نے امریکا کو تیل دینے سے انکار کر دیا تو امریکی مفادات پہلے سے زیادہ ایران سے وابستہ ہو گئے۔ شاہ ایران عربوں کے خلاف امریکا کی ہر ضرورت پوری کر رہا تھا۔ امریکی گلہ ایرانی تیل سے تر تھا۔ جمی کارٹر صدر بنے تو اس نے شاہ کو خطے میں استحکام کا جزیرہ قرار دے دیا۔ لیکن اندر ہی اندر عوامی غصہ لاوے کی صورت پک رہا تھا۔ اس لاوے کو دہکانے کا ذمہ آیت اللہ خمینی صاحب کے پاس تھا جو سنہ 64 سے جلاوطن ہو کر عراق گئے اور انقلاب سے قبل کے آٹھ ماہ پیرس کے ایک چھوٹے سے گھر میں رہائش پذیر رہے۔

خمینی صاحب شاہ کی حکومت کے سخت خلاف تھے۔ وہ مذہبی نمائندے تھے اور عوام میں اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ ان کے بیانات سے تنگ آ کر شاہ ایران نے ان پر زمین تنگ کر دی اور بلآخر ان کو جلاوطنی اختیار کرنا پڑی۔ پیرس میں قیام کے دوران خمینی صاحب اپنی رہائش گاہ پر لیکچرز دیتے جو کیسٹ پر ریکارڈ ہوتا اور وہ کیسٹس ایران میں سمگل کی جاتیں۔ پھر ان کی ہزاروں کاپیاں بن جاتیں اور لوگوں میں تقسیم ہو جاتیں۔

سنہ 1963 میں شاہ نے ایک منصوبہ "وائٹ ریولوشن" شروع کیا جس میں زمین کی اصلاحات، تعلیم، خواتین کے حقوق اور شہری ترقی شامل تھی۔ تیل کی فروخت نے اس پروگرام کو مالی قوت دی، خاص طور پر 1973 کی عرب-اسرائیل جنگ کے بعد جب ایران نے عرب تیل پابندی میں شامل ہونے سے انکار کیا تو تیل کی آمدنی میں زبردست اضافہ ہوا۔ 1975 تک شرحِ خواندگی دگنی ہو کر 32 فیصد ہوگئی، ایک نیا متوسط طبقہ ابھرا، خواتین کو ووٹ کا حق ملا اور قوانین زیادہ سیکولر ہوتے گئے۔ لیکن ایران جمہوری ریاست نہیں تھا۔ شاہ نے اقتدار کو اپنے ہاتھ میں مرکوز کر لیا۔ اس نے وفادار مگر کمزور وزراء مقرر کیے، سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی اور 1975 میں رستاخیز پارٹی کے ذریعے ایک جماعتی نظام نافذ کر دیا۔ شاہ کی خفیہ پولیس (SAVAK) نے مخالفین کو کچل دیا جن میں نیشنل فرنٹ اور کمیونسٹ تودہ پارٹی شامل تھیں۔

اگرچہ وائٹ ریولوشن سے شہری اور سیکولر طبقے کو فائدہ ہوا مگر معاشرے کے دیگر حصے اس سے ناراض تھے۔ تیز رفتار ترقی کے ساتھ مہنگائی، بدعنوانی، آمدنی میں عدم مساوات اور سماجی کشیدگی بھی بڑھ گئی۔ دیہات سے شہر آنے والے مزدوروں کو جلد ہی احساس ہوا کہ وہ شاہ کی پالیسیوں سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ حکومت نے تیل کی آمدنی کا بڑا حصہ صنعت اور فوج پر خرچ کیا، جبکہ دیہی علاقوں کو نظرانداز کیا گیا۔ 1975 کے بعد جب تیل کی قیمتوں میں کمی آئی تو بے روزگاری اور بدعنوانی میں اضافہ ہوا اور لوگ شاہ کے خلاف کھل کر بولنے لگے۔ شاہ نے امریکا کی مدد سے دنیا کی پانچویں بڑی فوج کھڑی کر لی تھی جس کے پاس جدید امریکی اسلحہ اور طیارے تھے۔

شاہ کی مخالفت مختلف شکلوں میں سامنے آئی۔ بائیں بازو کے دانشور، قوم پرست اور مارکسسٹ گروہ شاہ کی مطلق العنانیت اور امریکی مداخلت کے خلاف متحد ہونے لگے۔ کچھ تنظیمیں فدائین خلق اور مجاہدین خلق مسلح کارروائیاں بھی کرنے لگیں۔ تاہم سب سے مؤثر مخالفت مذہبی علما کی طرف سے آئی۔ وہ وائٹ ریولوشن کی سیکولر پالیسیوں، بدعنوانی، بیرونی اثرات اور شاہ کی مطلق طاقت کے خلاف تھے۔ چونکہ وہ مذہبی حیثیت رکھتے تھے اس لیے وہ SAVAK کے مکمل جبر سے کسی حد تک محفوظ رہے اور اپنے خطبات میں سیاسی پیغام دیتے رہے۔ شاہ کے خلاف صرف ایک طبقہ نہیں بلکہ مختلف قوتیں اکٹھی ہو رہی تھیں۔ بائیں بازو کے دانشور، قوم پرست سیاسی گروہ، مارکسسٹ تنظیمیں اور سب سے بڑھ کر مذہبی علما۔ یہ سب مختلف نظریات رکھتے تھے مگر ایک بات پر متفق تھے کہ شاہ کو جانا ہوگا۔ ان سب میں سب سے مؤثر آواز خمینی صاحب کی تھی۔

سنہ 1978 کے آغاز تک معاشی بحران اور سیاسی بے چینی نے احتجاج کو جنم دیا۔ پہلی چنگاڑی ایرانی ریاست کی 2500 سالہ تقریبات منعقد کرنے کے بعد بھڑکی۔ اس عالی شان تقریبات پر سو ملین ڈالرز پھونک ڈالے گئے۔ دنیا بھر سے حکمرانوں اور اہم شخصیات کو مدعو کیا گیا۔ ان کی خاطر مدارت کو عالی شان انتظامات کیے گئے اور رنگا رنگ تقریبات اور پارٹیاں منعقد کی گئیں۔ ان شاہی اخراجات کی خبر ایرانی عوام میں پھیلی تو اخراجات کے خلاف مظاہرے شروع ہونے لگے۔ تہران میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر گولی چلا کر متعدد لاشیں گرا دیں۔ اس کے بعد جنازے بڑے احتجاجی مظاہروں میں بدل گئے اور ایران بھر میں پھیل گئے۔ بڑے شہروں میں فسادات پھوٹ پڑے اور سنیما ریکس کا سانحہ پیش آیا جس میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے۔ عوام نے اس کا الزام حکومت پر لگایا۔

احتجاج بڑھتے گئے، خاص طور پر مساجد اور تعلیمی اداروں میں۔ شاہ نے فوج کو محدود طاقت استعمال کرنے کا حکم دیا مگر ردعمل غیر منظم رہا۔ کچھ وزراء اصلاحات کا مشورہ دیتے رہے جبکہ حکومت نے مفاہمتی اقدامات بھی کیے مگر وہ ناکافی ثابت ہوئے۔ 7 ستمبر کو مارشل لا نافذ کیا گیا مگر اگلے دن ایک لاکھ مظاہرین تہران کے جالہ اسکوائر میں جمع ہوئے جہاں فوج نے فائرنگ کر دی۔ یہ واقعہ Black Friday کے نام سے مشہور ہوا اور اس نے حالات کو مزید خراب کر دیا۔

1978 کے آخر تک ملک بھر میں احتجاج جاری رہا۔ میڈیا اور ریاستی ادارے بھی اپوزیشن کے حق میں جھکنے لگے۔ جنوری 1979 میں شاہ نے شاپور بختیار کو وزیر اعظم بنایا جس نے اصلاحات شروع کیں، مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ ایرانی فوج اور خفیہ ایجنسی SAVAK کے لوگ بھی خمینی صاحب سے متاثر ہو رہے تھے۔ احتجاج خونی ہوتے جا رہے تھے۔ ایرانی مظاہرین کو اسلحہ روس نے فراہم کیا۔ روس ایران سے امریکا کا صفایا چاہتا تھا۔ بلآخر سولہ جنوری کو شاہ ایران چھوڑ کر مصر بھاگ گیا۔ یکم فروری 1979 کو خمینی صاحب جلاوطنی سے واپس تہران آئے۔ دس لاکھوں افراد نے ان کا استقبال کیا۔ اگلے دس روز مزید خونی ثابت ہوئے۔ شاہ کے وفادار فوجی دستے یعنی امپیریل گارڈز مظاہرین پر فائرنگ کرتے رہے۔ لیکن آخر کار 11 فروری کو فوج نے غیر جانبداری اختیار کر لی اور یوں شاہ کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ خمینی صاحب شاہی محل میں داخل ہو گئے۔ مارچ 1979 میں ریفرنڈم ہوا جس میں اکثریت نے اسلامی جمہوریہ کے حق میں ووٹ دیا۔ ایرانی انقلاب نے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کی سیاست بدل دی۔ امریکا ایک اہم اتحادی کھو بیٹھا، جبکہ ایران ایک نئی نظریاتی ریاست کے طور پر ابھرا جس کی بنیاد مذہب اور انقلاب پر تھی۔

انقلاب کے بعد خمینی صاحب کو سپریم لیڈر کا عہدہ دیا گیا اور انہوں نے اسلامی قوانین کے مطابق ایران پر حکومت کرنا شروع کی۔ انہوں نے امریکہ کو "بڑا شیطان" قرار دیا اور اسرائیل کو فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کرنے والا کہہ کر مخاطب کیا۔ خمینی صاحب کے سپریم لیڈر کا عہدہ سنبھالنے کے چند ہی دنوں بعد ان کے طلبہ حامیوں نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر لیا اور 66 امریکیوں کو یرغمال بنا لیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکا میں کینسر کا علاج کروانے والے شاہ کو ان کے جرائم کا سامنا کرنے کے لیے ایران واپس بھیجا جائے۔

امریکہ اور اسرائیل کی دشمنی ایرانی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ بن گئی۔ سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے کچھ ہی عرصہ بعد صدام حسین کی قیادت میں عراق نے ایران پر حملہ کر دیا۔ صدام کو امریکی آشیرباد حاصل تھی۔ یہ جنگ نو سال تک جاری رہی۔ جنگ نے ایرانی معیشت جو پہلے ہی انقلاب کے بعد عالمی پابندیوں کا شکار تھی وہ مزید خطرناک حد تک بگڑ گئی۔

جب سلمان رشدی نے سنہ 1989 میں توہین آمیز کتاب لکھی تو دنیا بھر کے مسلمانوں نے اس کی شدید مخالفت کی۔ آیت اللہ خمینی نے فتویٰ جاری کیا کہ سلمان رشدی کی یہ کتاب اسلام، پیغمبر اسلام اور قرآن کے خلاف ہے اور انہوں نے فتویٰ جاری کیا کہ اس کتاب سے وابستہ ہر شخص کو موت کی سزا سناتا ہوں۔ میں پوری دنیا کے مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ یہ افراد جہاں بھی ملیں انہیں قتل کر دیا جائے۔ ایران کی ایک تنظیم نے سلمان رشدی کے سر کی قیمت دو کروڑ 60 لاکھ ڈالرز رکھی۔ پرتشدد ہجوم نے برطانیہ، اٹلی اور امریکا میں ان تمام کتابوں کی دکانوں کو نشانہ بنایا جہاں وہ فروخت کی جا رہی تھی۔ اس کے بعد کئی یورپی ممالک نے تہران سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا۔ ایران سے یورپ کے سرد ہوئے تعلقات سفارتی طور پر بھی سمٹ گئے۔

جیسے جیسے خمینی صاحب بوڑھے ہوتے گئے ان کے جانشین کے نام پر غور کیا جانے لگا۔ اس کے لیے خمینی صاحب نے انقلاب اسلامی کے بڑے حامی اور ان کے پیروکار آیت اللہ محمد منتظری کا انتخاب کیا لیکن کچھ ہی عرصے میں وہ ملک کے محافظ کے طور پر ان کی قابلیت پر شک کرنے لگے۔ مارچ 1989 میں خمینی صاحب نے آیت اللہ منتظری کو کئی صفحات کا ایک خط لکھا جس میں انہوں نے ایران کے عوام کو آزادی پسندوں کے حوالے کرنے کا الزام لگایا۔ منتظری نے اس لمبے خط کا پانچ سطروں میں جواب دیا اور اعلان کیا کہ وہ خمینی کے جانشین بننے کی دوڑ سے دستبردار ہو رہے ہیں اور وہ اس عہدہ کو حاصل کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ اس کے بعد خمینی صاحب نے اس وقت کے صدر علی خامنہ ای کا انتخاب کیا۔

ایران میں مذہبی طاقت کے لحاظ سے خامنہ ای صاحب درجہ میں بہت چھوٹے تھے اور ان کا تجربہ اتنا نہیں تھا کہ انہیں اعلیٰ ترین مذہبی عہدے کے لائق سمجھا جائے۔ خمینی صاحب نے اپنی خراب صحت کے پیش نظر پارلیمنٹ کا ایک خصوصی اجلاس بلایا جس میں خامنہ ای صاحب کو اپنا جانشین بنانے کے لیے آئین میں ترمیم کی گئی۔ خمینی صاحب کی وفات کے بعد علی خامنہ ای صاحب نے ان کی جگہ لی اور ہاشمی رفسنجانی ایران کے نئے صدر بن گئے۔ خامنہ ای صاحب نے امریکا مخالف پالیسی پر عمل کیا لیکن ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے امریکہ کا ساتھ بھی دیا۔ جب 11 ستمبر2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ ہوا تو ایران نے صدر بش اور امریکی عوام کو تعزیت کا پیغام بھیجا تھا۔ تہران میں ہزاروں لوگوں نے شمع جلا کر مرنے والوں سے تعزیت کی تھی اور وہ مشرق وسطیٰ میں واحد ملک تھا جہاں ایسا کیا گيا تھا۔

محمد خاتمی کے ایران کے پانچویں صدر منتخب ہونے کی وجہ سے ایسا ممکن ہوا۔ اس الیکشن میں خامنہ ای صاحب نے بنیاد پرست رہنما علی اکبر نوری کی حمایت کی تھی لیکن اس کے باوجود خاتمی جیت گئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ 1997 تک ایرانی عوام اسلامی حکومت سے مایوس ہو چکے تھے اور انہیں ایران کی بگڑتی ہوئی معیشت اور بیرونی دنیا سے الگ تھلگ ہونے کا ذمہ دار ٹھہرانا شروع کر دیا۔ مہنگائی 40 فیصد تک بڑھ گئی تھی۔ ایرانی کرنسی ریال کی قدر آدھی رہ گئی تھی اور بیروزگاری کی شرح 30 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ اگرچہ خاتمی اس وقت تک ایران کی سیاست میں کوئی بڑا نام نہیں تھے لیکن جیسے جیسے انتخابی مہم زور پکڑتی گئی، ان کا نام تبدیلی کی علامت بن گیا۔ خاتمی نے الیکشن جیتتے ہی سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کی بڑی پہل کی۔ یہی نہیں بلکہ ستمبر 1998 میں سلمان رشدی کے خلاف جاری کیا گیا فتویٰ بھی واپس لے لیا۔

لیکن 2005 میں محمد احمدی نژاد کے اقتدار میں آنے کے بعد ایران اپنی پرانی پالیسیوں پر واپس چلا گیا۔ خامنہ ای صاحب نے خود انحصاری، مضبوط دفاعی صلاحیت اور چین روس کی طرف جھکاؤ کو اپنی اہم پالیسی بنایا۔ موجودہ صدر مسعود پزشکیان کو گو کہ آزاد خیال تصور کیا جاتا رہا ہے لیکن وہ بنیادی ایرانی پالیسی جس کے خدو خال خمینی صاحب کے بعد خامنہ ای صاحب طے کر گئے ہیں اس پر کاربند رہے۔ موجودہ ایرانی رجیم میں علی لاریجانی اور مسعود پزشکیان یہ دو ایسے افراد تصور کیے جاتے تھے جن کو امریکا اور یورپ سپریم لیڈر یا کُلی اختیار پر فائض شخص کے روپ میں دیکھنا چاہتا تھا کیونکہ طاقتوں کا خیال تھا یہ اشخاص بنیاد پرست نہیں لہذا ان سے بات چیت ممکن ہو سکتی ہے۔ علی خامنہ ای صاحب کی شہادت نے علی لاریجانی جیسے مذاکرات کار اور مذاکرات کے حامی شخص کو بھی بددل کر دیا اور وہ سخت گیر مؤقف اپنانے لگے۔ بلآخر امریکا نے ان کو بھی ہٹ کر دیا۔

آج ایران پھر ایک بڑے فیصلہ موڑ پر کھڑا ہے۔ اس کا مستقبل کیا ہوگا یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ معاشی مشکلات، بڑے عسکری و مالی نقصانات اور علاقائی کشیدگی نے اسے ایک نازک صورتحال میں لا کھڑا کیا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایران موجودہ چیلنجز کے باوجود اپنی موجودہ نظریاتی ساخت یا رجیم کو آنے والے سالوں میں برقرار رکھ سکے گا یا جنگ کے بعد آنے والے وقت میں کوئی بڑی سیاسی یا نظریاتی تبدیلی رونما ہوگی۔

Check Also

Iran, White Revolution Aur Inqilab

By Syed Mehdi Bukhari