Sunday, 18 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Hunar, Rang Aur Ustad Ka Hath Kahan Hain

Hunar, Rang Aur Ustad Ka Hath Kahan Hain

ہنر، رنگ اور استاد کا ہاتھ کہاں ہیں

لاہور پر واقعی عجیب وقت آن پڑا ہے۔ شہر وہی ہے، چھتیں وہی ہیں، فروری بھی وہی ہے مگر ہنر غائب ہے۔ پتنگ صرف کاغذ اور تیلا نہیں ہوتی تھی وہ ایک صنعت، روایت اور نسل در نسل منتقل ہونے والا علم تھی۔ یہ استاد کے ہاتھوں میں ہوتا تھا اور وہ ہاتھ اب خالی ہو چکے ہیں۔ پتنگیں بنانے والے نہیں رہے۔ جو پرانے لوگ تھے ان میں سے کچھ پنجاب میں پابندی لگنے پر پشاور، کراچی اور دیگر علاقوں میں چلے گئے اور اکثریت نے پیشہ بدل لیا۔ وہ منیاری، دکانداری، مزدوری اور دوسرے شعبوں میں ڈھل گئے۔ پنجاب میں پتنگ ساز انڈسٹری سے تیس لاکھ لوگ وابستہ تھے۔ موچی دروازہ، مریدکے، شاہدرہ اور گجرات کے کئی دیہات میں بسنے والوں کا کام دن رات پتنگیں بنانا تھا۔ مجھے یاد ہے سیالکوٹ کے دارہ آرائیاں کا بازار۔ وہ بازار نہیں تھا وہ رنگوں کی نمائش تھی۔ قطار در قطار لٹکتی پتنگیں دور سے ہی بلا لیتی تھیں۔

آس پاس کی گلیوں میں شکستہ گھروں کے اندر وہ خاندان رہائش پذیر تھے جہاں مرد و زن، بچے بڑے سب گڈی بناتے تھے۔ ایک ماہر کائٹ میکر ہوتا تھا اس کا نام استاد ٹیڈی بٹ تھا۔ استاد ٹیڈی بٹ جیسے لوگ صرف کاریگر نہیں تھے وہ ڈیزائنر تھے، آرٹسٹ تھے، ہوا کے معمار تھے۔ اس سے میں نے ایسی ایسی دلفریب اور فینسی پتنگیں بنوائیں تھیں کہ جب ان کو اڑاتا پورا محلہ میرے پیچھے پڑ جاتا اور میری گڈی کو کاٹ کر ہی دم لیتا۔

اب جب لاہور کی حد تک بسنت کی اجازت ملی ہے کائٹ میکر نہیں مل رہے۔ وہ استاد نہیں رہے اور جو چند واپس آئے ہیں وہ بوڑھے ہو چکے ہیں۔ ان میں کھپت پوری کرنے کی سکت نہیں رہی۔ دیہاڑی باز لوگ لائسنس لے چکے ہیں۔ اناڑی لوگ گڈی بنا رہے ہیں۔ پیپر تیسرے درجے کا، تیلا بے جان، آگ پر سینکنے کا صبر ندارد، لوچ پیدا کرنے کی سمجھ غائب۔ وقت کم ہے ڈیمانڈ بے تحاشہ سو خوبصورتی عیاشی بن گئی ہے۔ اب فینسی یا رنگین پتنگوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہو رہا۔ پلین کلرز میں گڈی بن رہی ہے جس میں کوئی خوبصورتی نظر نہیں آتی اور قیمتیں؟ قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ پتنگ ساز کی مجبوری کہ مارکیٹ میں پیپر اور بانس نہیں ہے یا ہے تو ذخیرہ اندوزوں نے منہ مانگے دام وصول کرنا شروع کیے ہیں۔

میں نے آج چھٹی کے روز گوالمنڈی، موچی دروازے اور اچھرہ کی گلیوں میں چکر لگایا۔ بس مجھے دیکھنا تھا کہ کیا چل رہا ہے۔ دیکھ کر دل ہی بُجھ گیا ہے۔ یہ کوئی پتنگ ہے؟ یہ کوئی رنگ ہیں؟ اور کیا ہی اناڑی لوگ کام پر ہیں۔ آج گوالمنڈی، موچی دروازہ، اچھرہ ہر جگہ یہی منظر تھا۔ کام چل تو رہا ہے مگر کام ہو نہیں رہا۔ یہی حال مانجھا لگانے اور پنا بنانے والوں کا ہے۔ سوزو واٹر پارک کے قریب اڈہ لگا ہوا ہے مگر وقت اور موسم سازگار نہیں۔ دھند بھرے دن ہیں۔ گیلی ڈور ہی پنے پر لپیٹے جا رہے ہیں۔۔ آرڈر بے تحاشہ ہے سو ڈور کو سوکھانے کا وقت ہے نا موسم ہے۔ بس چل چلاؤ ہے۔

سوچا تھا کہ اندرون لاہور بسنت کے موقعہ پر تصاویر لوں گا دہائیوں بعد لاہور کا آسمان رنگوں سے بھرے گا۔ سوچا تھا اندرون لاہور میں چھتوں پر بھی رنگ بکھرے ہوں گے۔ طرح طرح کے پکوان پکیں گے، موسیقی ہوگی، شور ہوگا، زندگی ہوگی۔ شاید باقی تو سب کچھ ہوگا مگر آسمان پر سادہ رنگوں کی گڈیاں بغیر جان بغیر کشش ہوا میں لٹکی ہوں گی۔ یہ وہ بسنت ہے جس میں سب کچھ ہے سوائے اس کے جو اصل تھا۔ ہنر، رنگ اور استاد کا ہاتھ۔ لاہور شاید پھر بھی منا لے گا مگر جو کھو گیا ہے وہ ایک دن میں واپس نہیں آئے گا۔

یہ صورتحال دیکھ کر میرا تو دل کر رہا پشاور سے رنگین پتنگیں منگوا لوں مگر ان پر بار کوڈ نہیں ہوگا اور یہ ایس او پیز کی خلاف ورزی ہے۔ ایسا نہیں کر سکتا مگر ہائے پشاور کائٹ مارکیٹ کی رنگ برنگی فینسی پتنگیں دیکھ کر ایک بار تو دل مچل جاتا ہے۔

Check Also

Choti Chot Nekiyan Aur Bare Bare Mojze

By Javed Chaudhry