Final Solution?
فائنل سلوش؟

ایران کی جانب سے سعودی پیٹروکیمیکل کمپلیکس اور سول آبادی پر ڈرون اٹیک بہت نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ اس نازک سفارتی موڑ پر ایسی حرکت نہیں کرنا چاہئیی تھی۔ ایک جانب مذاکرات میں انگیج ہو رہے ہیں دوسری جانب سعودی مفادات پر حملہ کر رہے ہیں۔ پہلے ہی بمشکل پاکستان نے سعودیہ کو اس جنگ میں براہ راست شریک ہونے سے روکا ہوا ہے اور اس امید پر روکا ہے کہ سفارتی سطح پر حل نکالنے کی کوششوں کو بھرپور موقع دیا جائے۔ ان حملوں کی ذمہ داری پاسداران انقلاب نے قبول کی ہے۔
ایران کا مسئلہ پیچیدہ ہے۔ پاسداران انقلاب نامی فورس کسی کے اختیار میں نہیں۔ ایرانی فوج الگ ہے اور پاسداران الگ ہیں۔ ایک نظام پارلیمان اور سیاستدانوں کا ہے جس کا نمائندہ ایرانی صدر ہے جبکہ اس کے اوپر سپریم کونسل اور سپریم لیڈر ہے۔ پاسداران سپریم لیڈر کے کنٹرول میں ہیں۔ خامنہ ای صاحب تک تو معاملہ چل رہا تھا لیکن قیادت کے ہٹ ہونے کے بعد وہاں کچھڑی بن گئی ہے۔ سیاسی سیٹ آپ بات چیت میں نرمی دکھانا چاہتا ہے۔ پاسداران کی منشا کچھ اور نظر آتی ہے۔
عسکری محاذ پر ایرانی پلڑا بھاری رہا ہے۔ اس نے سپرپاور کو سرپرائزز دیے ہیں۔ دنیا کو جنگی حکمت عملی سے حیران پریشان کر دیا ہے۔ یہی وہ موقع ہے کہ اب وہ جنگ بندی کی جانب بڑھے۔ جنگ بندی دراصل ایران کی فتح کے مترادف ہے۔ امریکا اسرائیل اس کا خاتمہ کرنے آئے تھے، نظام بدلنے آئے تھے لیکن اپنے مشن میں تاحال ناکام رہے ہیں۔ بات آبنائے ہرمز پر آ چکی ہے۔ یہ ایران کی فتح ہی تو ہے۔ اب جوش کی بجائے ہوش سے کام لینے کا وقت ہے۔ اپنی برتری کو گنوائیں نہیں اور طاقت کو فیس سیونگ دے کر نکلنے دیں۔ ٹائم گین کرنا ایران کے لیے سود مند ہے۔ شوقِ شہادت کافی پورا کر لیا ہے باقی کا بچا رکھیں۔ نو کروڑ عوام ہیں ان کو سانس لینے دیں۔ بہادری اور بیوقوفی میں بہت باریک لائن ہوتی ہے اور جو اس لائن کا تعین کر لے وہی سکندر کہلاتا ہے اور یہی پاکستان ان کو پیغام دے رہا ہے۔
معاملہ صرف ایران تک محدود نہیں۔ امریکہ کی صف میں بھی یہی الجھن موجود ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اسرائیل کو کس حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے یا اس کے گلے میں پٹا کون باندھے گا۔ یا کیا جا سکتا بھی ہے یا نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس وقت خطہ ڈیٹرنس اور ڈپلومیسی کے درمیان لٹکا ہوا ہے۔ اگر ایران اپنی اندرونی ہم آہنگی قائم نہیں کرتا اور اگر امریکا اسرائیل کو قابو میں نہیں رکھتا جنگ قابو سے باہر ہو کر مشرق وسطیٰ میں پھیل جائے گی۔ پاکستان کے لیے اس بحران میں کامیابی واقعی کسی معجزے سے کم نہیں ہوگی کیونکہ یہ صرف امریکا اسرائیل ایران کے درمیان کشیدگی نہیں بلکہ ایک پورے خطے کے متضاد مفادات، نظریات اور طاقت کے مراکز کا ٹکراؤ ہے۔
اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو یہ جنگ پورے خطے کو لپیٹ میں لے گی۔ عرب ممالک کے براہ راست اس میں شامل ہونے کے امکانات یقین میں بدل جائیں گے۔ وہ ممالک جو اب تک احتیاط برت رہے ہیں وہ بھی ایران کے متعلق "فائنل سلوش" یا آخری حل کی جانب چلے جائیں گے اور یہ منظرنامہ بہت بھیانک ہوگا۔ دنیا اس وقت ایک اور جنگ عظیم کے دہانے پر کھڑی ہے۔ لیکن میدان یورپ نہیں، ہمارا ہمسائیہ مڈل ایسٹ ہے اور یہ صورت ہمارے لیے بھی ڈراؤنی ہے۔

