Friday, 27 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Dua Hai Iran Salamat Rahe

Dua Hai Iran Salamat Rahe

دعا ہے ایران سلامت رہے

ٹرمپ کا پانچ دن کی مہلت کا اعلان عام اعلان نہیں اس کے پیچھے بہت سے عناصر کارفرما رہے ہیں اور ان میں ایک پاکستان ہے۔ پاکستان نے اپنا کردار کمال احسن طریقے سے ادا کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایران میں فیصلہ کون کرے گا؟ سپریم لیڈر کی خاموشی، مسعود پزشکیان کی محتاط گفتگو، یا پاسداران انقلاب کے کمانڈرز۔ یہ تینوں اکائیاں مل کر ایران کو پیچیدہ بنا دیتی ہیں جس میں کسی ایک دروازے سے داخل ہو کر کوئی معاہدہ نہیں کیا جا سکتا۔ شاید اسی لیے قالیباف کا نام اچانک ابھرا ہے۔ قالیباف نہ صرف انقلابی گارڈ کے سابق کمانڈر رہ چکے ہیں بلکہ ریاستی ڈھانچے کے اندر ایک ایسے شخص کے طور پر جانے جاتے ہیں جو سخت مؤقف رکھنے والوں کو بھی مطمئن رکھ سکتا ہے اور بیرونی دنیا سے بات بھی کر سکتا ہے۔ اگر کوئی دروازہ کھلے گا تو عین ممکن ہے کہ وہ اسی راستے سے کھلے۔

پاکستان اس پوری بساط پر ایک اور غیر متوقع کھلاڑی ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ریاض میں ہونے والی ملاقاتیں ہوں، ایرانی قیادت سے مسلسل رابطے ہوں یا ایرانی قیادت کے نوروز پیغام میں پاکستان کا غیر معمولی ذکر اس کے بعد فیلڈ مارشل اور ٹرمپ کے درمیان رابطہ ہونا اور پھر اچانک امریکی پالیسی میں وقتی نرمی۔ اس کے فوراً بعد وزیراعظم اور ایرانی صدر کے درمیان گفتگو اور اعلیٰ سطحی وفود کی متوقع آمد و رفت۔ یہ سارا منظر ایک واضح پیغام نشر کرتا ہے کہ اسلام آباد اس وقت ایک ثالث کے طور پر متحرک ہے۔

دوسری طرف امریکی فوجی اشارے بھی خاموشی سے اپنی کہانی سنا رہے ہیں۔ 82nd Airborne Division جیسی زمینی کارروائی میں اسپیشلسٹ فورس کی سرگرمیوں میں تبدیلی اس بات کا عندیہ ہے کہ امریکا نے میدان بھی تیار رکھا ہوا ہے۔ یہ تمام اشارے ایک ساتھ رکھیں تو تصویر واضح ہونے لگتی ہے کہ یہ پانچ دن دراصل فیصلہ کن ہیں مگر فیصلہ جنگ اور امن کے درمیان نہیں بلکہ "کس قسم کی جنگ" اور "کس حد تک امن" کے درمیان ہوگا۔ اگر مذاکرات شروع ہوتے ہیں اور پیش رفت ہوتی ہے تو ایک محدود یا کنٹرولڈ ڈی اسکیلیشن سامنے آ سکتی ہے جو وقتی ہو مگر ضروری ہو۔ اگر ناکام ہوتے ہیں تو یہ وقفہ ایک بڑی کارروائی سے پہلے کی تیاری ثابت ہوگا۔ یہی اس لمحے کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ امن اور جنگ اب متضاد نہیں رہے بلکہ ایک ہی کھیل کے دو مرحلے بن چکے ہیں۔

دنیا کو درپیش معاملات کو دیکھنے پرکھنے کے کئی زاویے ہوتے ہیں۔ انسانوں کی اکثریت اسی زاویے سے دیکھتی ہے جس سے وہ دیکھنا چاہتی ہے۔ مثلاً ایک نام نہاد سیکولر یا ملحد ایران کو کرہ ارض پر تمام برائیوں کی جڑ سمجھتا ہے اور امریکا کے نغمے گاتا ہے۔ ایک مختلف مکتب فکر کا ترجمان ایران اور اس کی پراکسیز کو مسلم دنیا میں کلمہ گوؤں کے قتال کا ذمہ دار سمجھتا ہے لیکن ایران مخالف مسلم ریاستوں کے ہاتھوں یا ان کی پراکسیز کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتال کو درگزر کر دیتا ہے اور پھر وہ جو ایران کو دنیا میں واحد الہیٰ ریاست اور شیعت کا ٹھیکیدار سمجھتا ہے حالانکہ وہ ایک ریاست ہے مکتب تشیع کی ترجمان نہیں۔ سنیت اور شیعت انقلاب ایران سے قبل بھی اس دنیا میں ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔

مثلاً کہنے کو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایران وہ واحد ریاست ہے جہاں کے جرنیل اور ٹاپ لیڈرشپ عوام سے پہلے اپنی جانوں کا نذرانہ دے دیتے ہیں۔ حالانکہ وہ بدترین سیکئورٹی لیپس ہے۔ ریاستی ناکامی ہے۔ ناکامی کا سبب حریف کی ٹیکنالوجی اور سرمایہ پر گرفت ہے۔ حریف اس قدر طاقتور ہے کہ اس نے پیجرز دھماکوں سے حزب اللہ کی قیادت اڑا دی۔ حماس کے رہنما کو ایران کے اندر مار دیا۔ ایران سپریم لیڈر سمیت اپنی ساری اعلیٰ قیادت کی حفاظت نہ کر پایا۔ زاویہ نظر ہی ہوتا ہے جو اپنی خامی کو اپنی برائی بنا کر دکھاتا ہے۔

کہنے والے کہہ سکتے ہیں شام میں زینبیون اور حزب اللہ نے قتال کیا۔ شام میں بشار ظالم تھا مگر اس کو ہٹا کر اب جو بٹھایا ہے یہ اسرائیلی کٹھ پتلی اور ویسا ہی ظالمانہ ماضی رکھتا ہے۔ النصرہ فرنٹ کیوں بنا کیسے بنا اور الجولانی داعش سے الگ ہو کر اس تنظیم کا سربراہ کیسے بنا۔ تو بھائی ظالم اپنا اپنا ہی ہوتا ہے۔ بشار ظالم گیا تو اسرائیلی کٹھ پتلی آ گیا۔ جیت ہار، حق باطل کا فیصلہ آپ خود کر لیں۔

یا تو فریقین ایک دوسرے سے سمجھوتہ کرکے، ایک دوسرے کو فیس سیونگ دے کر جنگ سے پہلی پوزیشنز پر واپس جا سکتے ہیں اور دنیا آگے بڑھ سکتی ہے۔ یا کسی ایک فریق کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رکھ سکتے ہیں۔ دنیا کی ایک ہی حقیقت ہے اور وہ یہ کہ طاقت اپنی بات منواتی ہے بصورت دیگر تباہ کر دیتی ہے۔ ایران کے روئیے پر بڑا دارو مدار ہوگا۔ جنگیں جذبات سے جیتیں جاتیں یا ایمانی جذبہ فتح کا علمبردار بن سکتا تو ایمان، خدا اور عقیدہ لیبیا، عراق، شام، لبنان، یمن، غزہ کا بھی وہی ہے جو ایران کا ہے۔ خدا ریاستوں کے معاملات میں کھُلی یا معجزانہ مداخلت نہیں کرتا۔ آفاقی اصول سروائیول آف دی فٹسٹ ہے۔ جذبات ایران کو تیار کرکے کربلا میں تو کھڑا کر سکتے ہیں لیکن کربلا کا انجام بہت دردناک تھا۔

میری تو دعا ہے ایران بچ نکلے اور زندہ سلامت رہے۔ آگے بڑھے۔ ابھی اس کو معیشت اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے بہت لمبا سفر طے کرنا ہے اور آنے والا وقت اندرونی طور پر ایران کے لیے بہت مشکل نظر آتا ہے۔ اب سب ایرانی قیادت کی دانش پر منحصر ہے۔ ایران قدیمی تہذیب، فن ضرب و حرب کے ساتھ فن گفت و شنید و فلسفے کا بھی امین ہے۔ اُمید رکھنا چاہئیے کہ جذبات کی پاسبان عقل رہے گی اور کوئی راہ نکلے گی۔

Check Also

Batin Ki Bedari Aur Khuda Shanasi

By Asif Masood