Bhayanak Manzar Nama
بھیانک منظرنامہ

مشرق وسطیٰ کی جنگ ختم ہوتی نظر نہیں آتی بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ خلیجی ممالک پر دباؤ ہے گوکہ ابھی تک وہ ضبط کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور بیان بازی سے آگے بڑھ کر عملی طور پر کچھ نہیں کر رہے۔ ایک جانب خلیجی ممالک کے اندر یہ غور و فکر جاری ہے کہ امریکا ان کی حفاظت کرنے میں ناکام رہا ہے، دوسری جانب ان کو اپنی خود مختاری پر ایرانی میزائلز کا گرنا بھی ناقابل قبول ہے۔ عرب ممالک کشمکش کا شکار ہیں۔ دونوں جانب کھائی ہے۔ ایران کے ساتھ براہ راست فوجی سینگ پھنسا لینے کا بھی بھاری خمیازہ ہوگا اور کچھ نہ کرنے پر بھی وہ بھاری مالی نقصانات برداشت کر رہے ہیں۔ لیکن یہ صورتحال زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتی۔ ایران نے اگر ان کو اعتماد میں نہ لیا یا ان کو مطمئن کرنے کے لیے عملاً کچھ نہ کیا تو بلآخر خلیجی ممالک کوئی واضح سائیڈ لے سکتے ہیں۔ میں نے پہلے بھی مفصل عرض کی تھی کہ ایران کی عسکری حکمت عملی ایک جوا ہے۔ جس میں وہ جیت بھی سکتا ہے اور یہ اس پر بھاری بھی پڑ سکتی ہے۔
پاکستان از ممکن کوششوں میں مصروف ہے عرب ممالک اور ایران کے آمنے سامنے آنے کی صورتحال پیش نہ آنے پائے۔ اس کی کوششوں میں عمان بھی شامل ہے اور پس پردہ چین بھی متحرک ہے۔ بنیادی طور پر اس جنگ کا خمیازہ مسلم دنیا نے بھگتا ہے۔ وہ ایران ہو یا عرب ریاستیں، معاشی و عسکری و جانی نقصانات انہوں نے اُٹھائے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ کا معاشی بوجھ دونوں فریقوں پر یکساں نہیں پڑ رہا۔ ایران کے لیے یہ جنگ وجودی نوعیت کی ہے۔ پہلے ہی برسوں سے پابندیوں کی زد میں آنے والی معیشت پر مزید دباؤ پڑ چکا ہے۔ ایران نے دہائیوں کی پابندیوں کے باوجود جو عسکری اور اسٹریٹیجک اثاثے بڑی مشکل سے بنائے تھے وہ تباہ ہو چکے ہیں اور جو بچے ہیں وہ اب مسلسل حملوں کی زد میں ہیں۔ بنیادی ڈھانچہ، معاشی و عسکری تنصیبات اور قیادت سب ختم ہوتی جا رہی ہے۔
اس کے برعکس امریکا کے لیے یہ جنگ مالی اعتبار سے کوئی فیصلہ کن بوجھ نہیں۔ اندازوں کے مطابق اب تک تقریباً ساڑھے گیارہ ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جو امریکی معیشت کے پیمانے پر تقریباً کچھ بھی نہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی معیشت، جس کا حجم پچیس ٹریلین ڈالر کے قریب ہے، جس کا دفاعی بجٹ ایک ٹریلین ڈالر ہے اس کے لیے یہ اخراجات دفاعی بجٹ کے ایک چھوٹے سے حصے کے برابر ہیں۔ گوگل جیسی ایک ٹیک کمپنی کی ماہانہ آمدن ہی بتیس ارب ڈالر کے قریب ہے۔ یعنی جس رقم کو جنگی اخراجات کے طور پر بڑا سمجھا جا رہا ہے، وہ امریکی کارپوریٹ معیشت کے پیمانے پر معمولی سی رقم ہے۔
ایران کے لیے معاملہ مختلف ہے۔ وہ ایک ایسے ملک کے طور پر لڑ رہا ہے جس پر پہلے ہی سخت معاشی پابندیاں عائد رہی ہیں۔ اب اس کے محدود وسائل، اس کے اثاثے اور اس کی انسانی قوت سب اس جنگ کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ایران کے پاس پیچھے ہٹنے کا راستہ بھی نہیں ہے کیونکہ یہ اس کے لیے بقا کی جنگ ہے۔ ایسے حالات میں غالب امکان یہی ہے کہ یہ لڑائی جلد ختم نہیں ہوگی۔ یہ اس وقت تک جاری رہ سکتی ہے جب تک یا تو ایران کی مزاحمتی صلاحیت مکمل طور پر ٹوٹ نہ جائے یا پھر امریکا اور اسرائیل اپنی حکمتِ عملی بدلنے پر مجبور نہ ہو جائیں یا کر دیے جائیں۔
تیل کی قیمتیں نیچے آنے کی توقع نہیں ہے۔ خطرات اوپر کی جانب ہیں۔ تین ہفتوں بعد طویل جنگ نے معاشی مسائل کو بڑھا دیا ہے۔ تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں یورپ میں گیس کی قیمتیں دگنی ہوگئی ہیں، مالیاتی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ ہے اور دنیا بھر کے صارفین مہنگائی میں اضافے کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ دنیا کے بڑے مرکزی بینک، جن میں بینک آف انگلینڈ، فیڈرل ریزرو اور یورپئین سینٹرل بینک شامل ہیں خبردار کر رہے ہیں کہ یہ جنگ افراطِ زر کو بڑھا سکتی ہے اور عالمی معاشی ترقی کو متاثر کر سکتی ہے۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ مسائل بڑھ رہے ہیں۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ، پروازوں کی منسوخی اور کووڈ کے بعد سب سے بڑی سفری رکاوٹیں سامنے آ رہی ہیں۔ کھاد کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں جس سے عالمی سطح پر کسان متاثر ہو رہے ہیں اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ یورپ کی بھاری صنعتیں جو پہلے ہی روس یوکرین جنگ کے بعد توانائی بحران سے متاثر تھیں وہ اب مزید دباؤ میں ہیں۔ جرمنی کی بڑی کیمیکل کمپنی BASF قیمتیں بڑھا رہی ہے جبکہ دیگر صنعتیں بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ قطر کی اہم گیس تنصیب پر حملے کے بعد قطر نے خبردار کیا ہے کہ ایل این جی کی بحالی تعطل کا شکار رہے گی۔
گارڈین نے دنیا کو لاحق خدشات اور اس جنگ کے ایفکٹس بارے مفصل رپورٹ میں لکھا ہے کہ طویل جنگ کی صورت میں توانائی کی قلت کھاد، پلاسٹک، کیمیکلز اور ادویات کی پیداوار کو متاثر کرے گی۔ قطر کی جانب سے ہیلیم کی پیداوار بند ہونے سے مائیکروچپس اور طبی آلات کی سپلائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ منظر عالمی سپلائی چینز کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اگر تیل کی قیمت 100 ڈالر کے آس پاس رہی تو عالمی ترقی کی شرح کم ہو کر 2.8 فیصد رہ جائے گی جبکہ افراطِ زر بڑھ کر 3.8 فیصد تک جا سکتا ہے اور اگر آبنائے ہرمز بند رہنے سے قیمتیں 170 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں تو دنیا عالمی کساد بازاری کا شکار ہو جائے گی۔ اگرچہ امید ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد سپلائی بحال ہو جائے گی لیکن اس کے طویل مدتی اثرات جیسے مہنگائی، سست ترقی اور عالمی معیشت کی تقسیم برقرار رہ سکتے ہیں۔
جنگ سمٹتی نظر نہیں آتی بلکہ پھیلنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ اگر یہ خدشات حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں، عرب ممالک اس جنگ میں براہ راست فریق بن جاتے ہیں اور آبنائے ہرمز بند رہتا ہے تو پاکستان بھی ساری دنیا کے ساتھ شدید متاثر ہوگا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ایک جانب ہمارے پاس مختلف مصنوعات کی تیاری کے لیے را میٹریل دستیاب نہیں ہوگا اور انڈسٹری کو گیس کی شدید قلت لاحق ہونے کے سبب کھاد اور دیگر ضروریات زندگی کی پیداوار شدید متاثر ہوگی۔ یہ منظرنامہ ساری دنیا کے لئے بھیانک ہے۔

