Better Call Mahboob (2)
بیٹر کالم محبوب (2)

"بس یار اب ہوگیا تو کیا کروں؟ نکاح نہیں کیا۔ ابھی تو بس بھاگ کر تمہارے پاس پہنچا ہوں۔ تم کہتے ہو تو یہاں سے چلا جاتا ہوں۔ تم پریشان نہ ہو میں کچھ کرتا ہوں کہیں اور چلا جاتا ہوں"۔ میں نے انتہائی سنجیدہ لہجہ اپناتے اداکاری کی۔
محبوب یہ سن کر پھر سامنے صوفے پر بیٹھ گیا۔ اس نے ٹانگ پر ٹانگ جمائی اور پریشانی میں مسلسل ہلاتے بولا "تم بنا نکاح کے آ گیا ہے؟"
"ہاں۔ تم اتنے مذہبی کب سے ہو گئے ہو؟ کر لوں گا نکاح بھی پہلے کچھ پریشانی تو کم ہو"۔
"شاہ صاحب، بندہ خراب ہو تو کوئی ایشو نہیں مگر تم اچھا بندہ ہے اور تم اس طرح خراب ہو تو ایشو ہے۔ مجھے تمہارے بارے یہ جان کر اچھا نہیں لگا۔ سیدھا سادھا انسان تھا تم کس چکر میں پھنس گیا ہے"۔ اس کی ٹانگ مسلسل ہلتی رہی اور وہ ہکا بکا بیٹھا پریشان رہا۔ میں کچھ دیر کو چپ ہوگیا۔ دو منٹ خاموشی رہی۔ میں سر جھکائے یوں بیٹھا رہا جیسے مجھے اپنے کئے پر سخت شرمندگی ہو۔ چند منٹ یونہی سناٹے میں گزرے۔ پھر اس کی آواز آئی
"اچھا۔ چلو نیچے گنیش (ہنزہ کے علاقے کا نام) میں مسجد ہے۔ نکاح کا بندوبست میں کرتا ہوں۔ گواہ شواہ سب ہو جائے گا۔ مگر لڑکی پکی ہے ناں؟ بھاگ تو نہیں جائے گا نکاح سے؟ وہ پولیس کے سامنے بیان دے گا کہ اپنی مرضی سے نکاح کیا؟ تم کو ہزار فیصد اس پر یقین ہے ناں؟"۔
"ہاں۔ ہزار فیصد یقین ہے کہ وہ مر جائے گی مگر میرا ساتھ نہیں چھوڑے گی"۔
"اور اپنی پہلے بیوی کو کیا کرے گا تم؟ بچوں کا کیا کرے گا؟ کیسا بھیانک غلطی کر دیا تم نے یہ"۔
ابھی وہ بات کر ہی رہا تھا کہ سیڑھیوں سے بیگم اُتر کر آتی دکھائی دی۔ محبوب اسے دیکھ کر سہم گیا۔ میں محبوب کو دیکھ کر آخر کار ہنس پڑا۔ مجھ سے ضبط نہیں ہو سکا۔ میری ہنسی چھوٹی تو سنبھلنا مشکل ہوگیا۔ بیگم اور محبوب مجھے دیکھ کر حیران کھڑے رہے اور میں ہنس ہنس کر صوفے پر دہرا ہوگیا۔ محبوب کو شک سا گزرا کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔ بیگم نے مجھے یوں لوٹ پوٹ ہوتے دیکھا تو پہلے وہ ہنسی پھر سنجیدہ ہوتی بولی"آپ کو کیا ہوگیا ہے۔ ایسی کیا بات ہوگئی ہے؟"۔ میں نے ہنسی ضبط کرتے بمشکل اتنا کہا "بیگم تیاری کر لو کل محبوب ہمارا پھر سے نکاح کروا رہا ہے"۔
وہ شام رات میں ڈھل گئی۔ محبوب پر ساری بات کھُلی تو وہ بہت ہنسا۔ پھر اس نے غیر ملکی مہمانوں کے سامنے خوب رقص کیا۔ دیر رات تک محفل جمی رہی۔
اگلی صبح میرے پاس آیا اور بولا "شاہ جی، شمن آج بلایا ہے۔ فارنرز کی فرمائش تھی۔ آپ نے شمن سے کچھ پوچھنا ہے تو بتاؤ؟"
صدیوں قبل یہ سارا خطہ شمن ازم کا شکار تھا۔ یہاں جو مذہب پھیلا اس میں شمن ازم یا آپ اسے Pagans کہہ لیں کافی گہری جڑیں رکھتا تھا۔ شمن ازم کے عقائد میں یہ تھا کہ روحانی قوت رکھنے والا ایک شخص جو شمن کہلاتا ہے وہ چالیس سے پینتالیس منٹس تک یوں دُھت ہو کر ناچتا کہ آخر کار زمین پر گر پڑتا اور جب اسے ہوش آتی تو پھر وہ پیش گوئیاں کرتا۔ شمن کا ناچ دراصل روحوں سے رابطہ کرنے کا ذریعہ ہوتا۔ یہ ناچ خاص قسم کا ہوتا۔ جب شمن ناچتے ناچتے روحوں یا مؤکلوں سے رابطہ استوار کر لیتا تب وہ ان سے غیب کی خبریں لیتا اور پھر تھک کر بیہوش ہو کر زمین پر گر پڑتا۔ شمن ازم کو بدھ مت نے ختم کر دیا۔ بودھ مذہب ہمالیہ و قراقرم کی وادیوں میں نیپال تا چین پھیل گیا۔ بدھ مت کو اسلام نے ختم کیا اور ہمارا علاقہ زیر اسلام آ گیا۔ مگر آج بھی شمن وجود رکھتے ہیں اور مقامی لوگ شمن پر یقین رکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی پیش گوئیاں اکثر سو فیصد سچ نکلتیں ہیں۔ وقت کے ساتھ شمن ختم ہوتے جا رہے ہیں مگر سینہ بہ سینہ یہ علم چلتا ہوا اب بھی موجود ہے۔
میں نے شمن کی آمد کا سُن کر انکار میں سر ہلاتے کہا "نہیں پوچھنا مجھے کچھ نہیں۔ ہم بس اس کا ناچ دیکھیں گے"۔
ہنزہ میں ہوٹلز والے اپنے مہمانوں کی درخواست پر ایک معقول معاوضے کے عوض شمن کو بلایا کرتے تھے۔ فارنرز کے واسطے اس کا ناچ ایک تفریح ہوتی اور تفریح سے زیادہ وہ شمن ازم کلچر کو انجوائے کرتے۔ دوپہر کو ہنزہ ایمبیسی کی چھت پر میلہ سج گیا۔ شمن آیا۔ فارنرز نے اس کے سامنے اپنے اپنے کچھ سوالات رکھے اور وہیں محبوب نے اس سے یہ معلوم کرنے کا کہا کہ ہم دونوں میاں بیوی کی زندگی کیسی گزرے گی۔ شمن خوب ناچا۔ پچاس منٹ شاید۔ پھر گر پڑا۔ پھر اسے ہوش دلایا گیا۔ فارنرز نے تالیاں بجائیں۔ شمن نے ہوش میں آ کر پوچھے گئے سوالات کے جوابات مؤکلوں یا روحوں سے پوچھ کر دئے۔
ہمارے بارے شمن نے بتایا کہ ہم دونوں مرنے تک ساتھ رہیں گے اور انتہائی پرمسرت زندگی گزاریں گے۔ شمن بروشسکی زبان میں بولتا تھا اور اس کا ترجمہ محبوب کرکے سب کو مطلع کرتا تھا۔ دو دن مزید گزار کر ہم دونوں واپس آ گئے۔ بیگم کو محبوب بہت اچھا لگا۔ وہ اس کی معصومیت، اخلاق اور اس کی باتوں سے بہت متاثر ہوئی۔
اگلے سال میں اکیلا گیا۔ خزاں موسم تھا۔ سال بعد محبوب سے ملاقات ہوئی تھی۔ یہ سنہ 2017 کی خزاں تھی۔ محبوب نے شام کو "ہنزہ واٹر" چڑھائی اور اپنے مہمانوں کو مقامی رقص میں لبھانے لگا۔ فارنرز بھی ناچنے لگے۔ محبوب ان کو ناچتا چھوڑ کر نکل جاتا۔ ابھی وہ "سرور" میں تھا یعنی ہوش سے بیگانہ تھا کہ باتوں باتوں میں بولا "شمن کو کہتا ہوں کہ مہمانوں کو خوش کرنا ہے کوئی ایسی بات نہ کرے جس سے کوئی پریشان ہو جائے۔ شروع شروع میں شمن کہتا تھا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا۔ میں وہی کہوں گا جو جنات مجھ سے کہیں گے۔ میں جھوٹ نہیں بولوں گا۔ یہ سن کر میں نے کہا کہ اچھا چلو پھر پیسے بھی اپنے جنات سے لے لینا۔ جب پیسے مجھ سے لینے ہیں تو بات بھی میری ماننا پڑے گی۔ بس اس دن کے بعد سے شمن وہی کہتا ہے جو اچھا اچھا ہو"۔ یہ انکشاف سُن کر میں ہنسا۔ محبوب نے مجھے دیکھا اور بولا " شاہ جی، تمہارے بارے بھی اسے میں نے کہا تھا کہ اچھا اچھا بتانا اور بس"۔
گذشتہ سال انہی دنوں چیری بلوسم سیزن میں محبوب ہنزہ میں ملا تو کچھ خاموش خاموش سا تھا۔ وہ گلگت سے آیا تھا، میں سمجھا سفر کے سبب خاموش ہے یا تھکا ہوا ہے۔ میں نے اس سے اجازت چاہی تو بولا "شاہ جی، تمہارا سر کا بال سائیڈز سے سفید ہو رہا ہے، داڑھی بھی سفید ہو رہی ہے۔ میں وہ وقت سوچ رہا تھا جب تم ایکدم جوان ہنزہ میں آیا تھا۔ وقت کیسے پلک جھپکتے گزر جاتا ہے۔ میں بھی بوڑھا ہوگیا ہوں۔ ہنزہ بھی برباد ہوگیا ہے۔ کنکریٹ کا جنگل بن رہا ہے۔ درخت کٹ رہا ہے۔ کیا سے کیا بنتا جا رہا ہے۔ تم کو یاد ہے یہاں کھیت تھے (دور ایک جگہ اشارہ کرتے ہوئے) اب وہاں ہوٹل ہے"۔
یہ سن کر میں چپ ہوگیا۔ اس سے اجازت لے کر اُٹھا۔ کریم آباد میں چلتے سوچتا رہا کہ وقت کیسے گزر جاتا ہے۔ ابھی کل کی بات لگتی ہے جب ہنزہ بھی جوان تھا۔ درختوں کی بہتات تھی۔ ہوٹلز گنتی کے تھے۔ وادی کنکریٹ کا جنگل نہیں بنی تھی۔ وادی میں شور سنائی نہ دیتا تھا۔ فضا کیسی شفاف تھی اور چاند کیسا روشن نکلا کرتا تھا۔ شاید اب بھی ویسا ہی ہو مگر ویسا محسوس کیوں نہیں ہوتا؟ میرے سامنے راکا پوشی کی چوٹی چاندنی میں نہائی کھڑی تھی۔ کچھ اوپر آسمان پر چاند روشن تھا۔ مگر دیکھتے دیکھتے دھندلا گیا۔ ایک وقت جلد آئے گا جب محبوب یا میں دونوں میں سے کوئی یونہی پلک جھپکنے کی دیر میں دنیا سے بھی گزر جائے گا اور پیچھے رہ جائیں گی یہی گزری بسری یادیں۔ اُجلے دھندلے مناظر۔ بنتے بچھڑتے رشتے۔