Sunday, 12 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Bachon Ko Pakistan Ki Kahani Zaroor Sunayen

Bachon Ko Pakistan Ki Kahani Zaroor Sunayen

بچوں کو پاکستان کی کہانی ضرور سنائیں

اگر آپ اپنی اولاد اور پاکستان سے یکساں محبت کرتے ہیں تو اپنے بچوں کو پاکستان کی کہانی ضرور سنایا کریں تاکہ ان کے اندر پاکستانیت موجزن رہے۔ یہ آجکل کے حالات میں تو فرض جتنا ضروری سمجھتا ہوں۔ ہماری ایک پوری نسل سوشل میڈیا کے پروپیگنڈا وار کا شکار ہو چکی ہے۔ اس نسل نے پاکستان کو خبروں، ٹرینڈز اور منفی بیانیوں کے آئینے میں دیکھا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سوالات بڑھ گئے مگر جواب دینے والا کوئی نہ رہا۔ اب اگر ہم نے اگلی نسل کو بھی اسی خلا میں چھوڑ دیا تو پھر شکایت کا کوئی حق نہیں رہے گا۔

میرا ایک ہی بیٹا ہے جو اب سولہ سال کا ہو رہا ہے۔ جب وہ چھوٹا تھا تب سے ہی اکثر اوقات میرے پاس آ بیٹھتا تھا اور کہتا تھا بابا مجھے کوئی کہانی سنائیں۔ میں اسے اپنے سفروں سے کوئی واقعہ کہانی بنا کر سنا دیتا۔ جوں جوں بڑا ہوتا گیا اس کی فرمائش بدلتی گئی۔ بابا پاکستان کے بارے یہ کیوں کہا جاتا ہے، وہ کیوں کہتے ہیں، کچھ لوگ تو یہ کہتے ہیں، کچھ لوگ تو وہ کہتے ہیں۔ ہر بچے کو اس کی عمر کے مطابق ڈیل کرنا چاہئیے۔ یعنی ایسی باتیں بتانی چاہئیے جو اس کے ننھے ذہن میں سما سکیں نہ کہ اوپر سے گزر جائیں۔

اب جب وہ پری ٹین ایج میں آ گیا ہے اس کے اندر بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں جن کا جواب وہ مجھ سے مانگتا ہے۔ میں اسے کہتا ہوں بیٹا دنیا میں جہاں چاہو جاؤ، تعلیم حاصل کرو، جہاں سیٹل ہونے کا دل کرے ہو جاؤ، اپنے اچھے مستقبل کی تلاش میں جو خطہ تمہیں بہتر لگے وہاں بس جاؤ، وہاں اپنی فیملی بنانا چاہو تو اجازت ہے، لیکن ایک بات ذہن نشین رکھنا کہ تم پاکستانی ہو۔ تمہاری پہچان پاکستان ہے۔ تمہاری جڑیں اس دھرتی میں ہیں۔ میں تو کافی دنیا گھوم کر دیکھ چکا تم بھی دیکھ لو گے۔ مجھ سے بیرونی دنیا کے لوگ پاکستان کے بارے بہت سخت اور جائز سوالات پوچھتے رہتے ہیں۔ ان سوالات کا کبھی کبھی میرے پاس کوئی دفاع نہیں ہوتا۔ میں مان جاتا ہوں کہ ہاں پاکستان میں بہت سنگین مسائل ہیں۔

الیکٹورل پراسس، نظام مملکت، اسٹیبلشمنٹ کی حکمرانی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، لاء اینڈ آرڈر کی نازک صورتحال، مسلکی و سیاسی تقسیم در تقسیم، دہشتگردی کے مسائل، غربت، جہالت، طبی سہولیات کا فقدان، وغیرہ وغیرہ وغیرہ ایک لمبی فہرست ہے۔ ان پر اٹھنے والے سوالات کا دفاع نہیں کر پاتا کیونکہ مجھے اس کے دفاع کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ حقائق سے فرار ممکن نہیں اور لیپا پوتی سے منظر حسین نہیں ہو جاتا۔ مگر اگر کوئی جان بوجھ کر پاکستان پر طعنے کسے، غیر منطقی بات کرنے لگے، اس کا مزاق اڑانا چاہے، اس پر ناجائز الزام لگائے یا تہمت دھرے جو حقائق کے منافی ہو تو وہاں چپ نہیں رہنا۔ وہاں وطن کا دفاع فرض ہو جاتا ہے۔ جب حقائق کو تسلیم کرنے میں عار نہیں تو الزام تراشی و تہمت و ٹرولنگ کو برداشت کرنے میں ذرا سی بھی سستی نہیں برتنا۔ وطن سے محبت ایمان کا تقاضہ ہے۔

کئی اقوام ایسی بھی ہیں جنہیں احساس نہیں ہو پاتا کہ وہ کیسی قیمتی جگہ گھر بنائے بیٹھے ہیں جیسی جگہ پانے کے لیے ایک دنیا پاگل ہے۔ انہی میں سے ایک ناشکرے پاکستانی ہیں۔ کسے معلوم کہ ہر جانب سے خشکی سے گھرا افغان کتنی حسرت سے پاکستان کا ہزار کلومیٹر ساحل دیکھتا ہوگا۔ ایک سعودی کے پاس بھلے سب کچھ ہو پر اسے دریا کا کنارہ کیسے سمجھائیں؟ کوہ الپس کے دامن میں بستے یورپئین کیا جانیں کہ نانگا پربت کتنا اونچا ہوتا ہے۔ پونے دو سو ممالک کے باشندے گلیشیرز صرف تصاویر ہی میں تو دیکھتے ہیں۔ مصر کے پاس ایک دریائے نیل ہے۔ 90 فیصد مصری دریائے نیل کے آرپار صرف سو کلومیٹر چوڑی پٹی پر آباد ہیں۔ پاکستان کے پاس تین بڑے دریا ہیں اور گلگت بلتستان میں تو رواں صاف شفاف نالوں کی یہ حالت ہے کہ

اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

افریقہ والے ماؤنٹ کِلی منجارو (5895 میٹرز)کو ہی آسمان سمجھتے ہیں۔ پاکستانی 20-25 ہزار فٹ اونچے تین عظیم پہاڑی سلسلوں (ہمالیہ، قراقرم، ہندو کش) کو بھی باپ کے ترکے جیسا سمجھتے ہیں۔

پاکستان جیسا بھی ہے، جتنا بھی آزاد یا غلام ہے، اس کی ناشکری کرنے والے کبھی آزو بازو نظر دوڑا کر شمالی کوریا، چین، روس، لاطینی امریکا کے کچھ ممالک اور عرب ریاستوں کی "آزادی" نہیں دیکھتے جہاں آپ حکمرانوں کو ہلکی آواز میں بھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔ جہاں بات کرنے پر سخت پابندیاں ہیں، جہاں سوشل میڈیا ریاست کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ جہاں چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی۔ پاکستان میں آج بھی منہ بھر کے حکمرانوں کو گالی دی جا سکتی ہے۔ افواج پر جائز اور نپے تلے انداز میں بھرپور تنقید کی جا سکتی ہے بلکہ مفصل مضامین لکھے جا سکتے ہیں۔ آج بھی پاکستانی بیوروکریسی کو کوس سکتے ہیں، ججوں کے فیصلوں پر کھلی رائے دے سکتے ہیں۔

اسی ملک میں بھوک و افلاس سے کوئی کوئی مرتا ہے لیکن اوور ایٹنگ یا شکم خوری سے بدرجہا زیادہ اموات ہوتی ہیں۔ مہنگائی اور افراط زر گو کہ آسمان کو چھوتا لگتا ہے لیکن بازار اشیائے خورد و نوش سے بھرے ہیں۔ افراط ہے قحط نہیں۔ مہنگائی کا واویلا ہونے کے باوجود ریسٹورنٹس پر بھی رش کم نہیں۔ ادبی و ثقافتی پروگرام بھی حسبِ سابق جاری ہیں۔ لوگ لطیفے سناتے بھی ہیں ان پر ہنستے بھی ہیں اور موبائل فون کے سیلفیانہ بخار میں بھی باقی دنیا کی طرح مبتلا ہیں۔ پاکستان میں عمومی عدم تحفظ کے باوجود مساجد، امام بارگاہیں، گرجے اور شادی ہال ویسے ہی کھچا کھچ بھرے ہیں جیسے کہ بھرے ہونے چاہئیں۔

بھکاری سے لے کر صنعت کار تک سب ہی کل کی طرح روتے بھی جاتے ہیں، کماتے بھی جاتے ہیں۔ حرام و حلال کے انفرادی پیمانے جیسے پہلے تھے ویسے ہی آج بھی ہیں۔ حسد، کینہ، بغض، شیطانیت، انسانیت، خواتین کا احترام و بے حرمتی، بچوں کی پرورش و عدم پرورش سب کچھ وہی ہے جو کسی بھی فوجی و سویلین، دائیں یا بائیں کے دور اور دیگر ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے۔ غربت کے باوجود کیا زندہ دل لوگ ہیں۔ تہواروں اور خوشیوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ان کو بھرپور منانا چاہتے ہیں چاہے اس کے واسطے اُدھار اٹھانا پڑ جائے۔ ابھی تازہ مثال بسنت فیسٹیول کی لے لو بیٹا۔ غریب ہیں مگر اپنی خوشیاں انمول دام بھی خرید لیتے ہیں۔ مل کر کھاتے ہیں۔ کھلا کر خوش ہوتے ہیں۔ جہاں مہذب و ترقی یافتہ معاشروں میں کسی کے پاس ملاقات تک کا وقت نہیں وہیں یہاں لوگ تنہائی سے گھبراتے ہیں۔ مل بیٹھنے کے بہانے تلاشتے ہیں۔ بیروزگاری کے باوجود حال پوچھنے پر جواب ملتا ہے "اللہ کا شکر ہے"۔

بیٹا جی یہ وہ ملک تھا جس نے ناسا سے پہلے سپارکو نامی خلائی ادارہ قائم کیا تھا اور راہبر ون راکٹ خلا میں بھیجنے کا مشن پورا کیا تھا۔ سات جون سنہ 1962 کو راہبر ون راکٹ اسی پاؤنڈز پے لوڈ لے کر خلا میں گیا۔ اس نے 130 کلومیٹر کا سفر خلا کی جانب طے کیا اور زمین کے مدار سے کامیابی سے باہر نکلا۔ اس اچیومنٹ نے ناسا تک کو حیران کر دیا تھا۔ پاکستان دنیا کا پہلا ترقی پذیر ملک تھا جس کا راکٹ پروگرام برازیل، چائنہ و بھارت سے پہلے شروع ہوا تھا اور خلا میں جانے میں کامیاب ہوا تھا۔ یہی وہ ملک تھا جس نے سنہ ساٹھ کی دہائی میں امریکا و چین کے سفارتی تعلقات بحال کرائے تھے۔ یہی وہ ملک ہے جس نے اپنے سٹریٹجک پارٹنر چائنہ کے ساتھ مل کر سعودی ایران سفارتی تعلقات بحال کرائے اور یہ ہی وہ ملک ہے جو ایک اور جنگ عظیم کی روک تھام کے لیے آج عالمی منظر نامے پر سفارتکاری کا جھنڈا گاڑے کھڑا نظر آتا ہے اور کاکا جغرافیائی تحفظ کا احساس کتنی بڑی نعمت ہے یہ شام، لبنان، لیبیا، فلسطین، بوسنیا، آرمینیا، عراق، جاپان، جنوبی کوریا سمیت عرب ممالک میں بسنے والوں سے پوچھ لینا۔

وہ سنتا رہتا ہے۔ موضوع بدلتے رہتے ہیں۔ مجھے یقین ہے میں دنیا میں رہوں یا چل بسوں، یہ کل کو جہاں بھی جائے گا، جہاں بھی بسے گا، اپنے ملک اور اپنے بابا کو یاد کرتا رہے گا۔ آپ اپنی اولاد کو وطن سے محبت کا درس دیں گے، اس کا مثبت چہرہ دکھائیں گے تو وہ پاکستانی بنیں گے۔ منفی چہرہ تو سب کو صاف نظر آ ہی جاتا ہے۔ اپنی اولاد کو پاکستانی بنانے پر وقت صرف کریں تاکہ مستقبل میں کوئی جگاڑی سیاسی راہنما، کوئی جبہ و دستار والا مذہبی راہنما، کوئی وردی والا مفاد پرست شخص اور کوئی پیر، مُلا، وزیر، جماعت، گروہ، لشکر ان کو ورغلا نہ پائے۔

اگر ہم نے اپنی اگلی نسل کو صرف شکایت کرنا سکھایا تو وہ شکایت ہی کرے گی۔ اگر ہم نے انہیں سمجھنا، سوال کرنا اور محبت کرنا سکھایا تو وہ ایک متوازن شہری بنیں گے۔ ایسا شہری جسے نہ کوئی پروپیگنڈا بہکا سکتا ہے اور نہ کوئی جذباتی نعرہ۔ اپنے بچوں کو محبت سکھانا ایک سرمایہ کاری ہے۔ ایسی سرمایہ کاری جو آنے والے وقت میں ایک باشعور، باوقار اور مضبوط پاکستانی کی صورت میں واپس مل سکتی ہے۔

Check Also

Pakistan Jeet Gaya

By Dr. Abrar Majid