America Aur Iran Mein Dakhli Taqseem
امریکہ اور ایران میں داخلی تقسیم

اب جنگ میدانِ جنگ سے زیادہ ٹی وی اسکرینوں، ٹویٹر تھریڈز اور امریکی کانگریس میں لڑی جا رہی ہے اور امریکا اس وقت دو حصوں میں نہیں بلکہ دو الگ کہانیوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ شروع کی لیکن اس جنگ نے امریکا کے اندر ایک نئی جنگ شروع کر دی۔ امریکا میں جاری صورتحال کا جائزہ لیں تو معلوم پڑتا ہے کہ امریکی سماج دو حصوں میں بٹ چکا ہے اور یہ خلیج گہری ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
ٹرمپ کے حامیوں کے مطابق یہ جنگ نہیں ایک ضروری ویکسین ہے تاکہ ایران نامی وائرس مزید نہ پھیلے۔ دوسری طرف مخالفین کے نزدیک یہ وہی پرانی فلم ہے جس کا نام پہلے عراق وار اور پھر افغانستان وار رکھا گیا تھا۔ عراق میں weapon of mass destruction کا نعرہ لگا کر گھسا گیا لیکن وہاں سے صرف ریت برآمد ہوئی۔ افغانستان میں جن کو دشمن قرار دے کر حملہ کیا گیا وہ بیس سال بعد آج بھی حکومت سنبھالے ہوئے ہیں۔ ایران پر حملے کا جواز اس کے پاس موجود مبینہ ایٹمی مواد اور رجیم کی تبدیلی بتایا گیا۔
امریکی کانگریس اس وقت کسی جنگی کمانڈ سینٹر سے کم نہیں۔ کانگریس مین ریپبلکنز پر تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں۔ سروے مسلسل ریپبلکنز کے گراف میں گراوٹ دکھا رہے ہیں۔ ایک طرف ریپبلکنز ہیں جو کہتے ہیں کہ اگر ابھی نہ روکا تو کل دیر ہو جائے گی۔ دوسری طرف ڈیموکریٹس ہیں جو جواب دیتے ہیں اگر ابھی ہم ریپبلکنز کو روک نہ سکے تو کل معاشی نقصان ہوگا اور کانگریس پر عوامی اعتماد بھی نہیں رہے گا۔ یوں لگتا ہے جیسے امریکا ایران سے کم اور اپنی ہی پالیسیوں سے زیادہ برسرِ پیکار ہے۔ امریکی میڈیا کا ایک چینل کھولو تو لگتا ہے ایران کل صبح واشنگٹن کو کال کرکے سرنڈر کر سکتا ہے۔ دوسرا لگاؤ تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ امریکا دلدل میں پھنس گیا ہے۔ دائیں بازو کا میڈیا جنگ کو "بقا کی جنگ" بنا چکا ہے جبکہ بائیں بازو کے لیے یہ ٹرمپ ازم کا مسئلہ ہے۔
اگر عام امریکی شہری سے پوچھیں تو وہ ایران سے زیادہ اپنی گاڑی کے فیول پر فکر مند ہے۔ سرویز بتاتے ہیں کہ لوگوں کو سب سے زیادہ فکر یہ ہے کہ کہیں ان کے بچے اس جنگ کا حصہ نہ بن جائیں اور کہیں ان کا بجٹ اس جنگ کی نذر نہ ہو جائے۔ امریکی سماج عجیب مخمصے میں ہے اسلحہ ساز کمپنیاں خوش ہیں کیونکہ جنگ ہے۔ عوام پریشان ہیں کیونکہ جنگ ہے جو مہنگائی لا رہی ہے اور حکومت کنفیوژ ہے کیونکہ کارپوریٹ سیکٹر اور عوام دونوں کو خوش رکھنا ہے۔ یہ جنگ ایک ایسی سرمایہ کاری بن چکی ہے جس کا منافع کچھ کو ملتا ہے اور نقصان سب کو۔ امریکا اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ چاہتا ہے اور یہی بات کانگریس کو ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ لگتا یوں ہے کہ اب اصل جنگ ایران سے کم امریکا کے اندر زیادہ ہے۔ ایک امریکا کہتا ہے کہ ہم دنیا کے تھانیدار ہیں ہمیں ہر جگہ اپنا قانون نافذ کرنا ہے۔ دوسرا امریکا جواب دیتا ہے کہ ہمیں پہلے اپنے گھر کا سوچنا ہوگا۔ ایک جانب اس جنگ کو اسرائیل کی جنگ کہا جا رہا ہے اور دوسری جانب اس کو اشد ضروری جنگ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ صرف پالیسی کا اختلاف نہیں بلکہ یہ شناخت کا بحران بھی بن رہا ہے۔
ایران کے اندر بھی تقسیم موجود ہے۔ واشنگٹن پر صیہونی حاوی ہیں تو تہران پر پاسداران انقلاب۔ سپائلرز دونوں کے ہاں ہیں۔ پاسداران اس جنگ کو تلوار کی دھار سے بدلنا چاہتے ہیں۔ آج ایران ایک عجیب موڑ پر کھڑا ہے۔ نہ وہ جنگ میں ہے، نہ امن میں۔ جیسے کسی نے دروازہ آدھا کھول کر چھوڑ دیا ہو اور اندر بیٹھا شخص یہ طے نہ کر پا رہا ہو کہ باہر نکلے یا واپس کنڈی چڑھا دے۔ باہر سے آوازیں آ رہی ہیں۔ مشورے بھی، دھمکیاں بھی اور کچھ ہمدردی کے جملے بھی مگر اندر فیصلہ سازی کا فقدان ان سب پر بھاری ہے۔ فیصلہ سازی کا فقدان دراصل وقت کی وہ ریت ہے جو مٹھی میں رکتی نہیں۔ سفارت کاری میں تاخیر کبھی کبھی فیصلہ خود بن جاتی ہے اور اکثر وہ فیصلہ آپ کے حق میں نہیں ہوتا۔
ایران کے لیے سب سے بڑا مسئلہ شاید داخلی توازن ہے۔ ایک طرف وہ بیانیہ ہے جو مزاحمت کو فتح کا نام دیتا ہے، دوسری طرف وہ حقیقت ہے جو روٹی، ایندھن اور روزمرہ زندگی کے سوالات میں ڈھل جاتی ہے۔ قومیں صرف نعروں پر زیادہ دیر نہیں چل سکتیں انہیں کسی نہ کسی مقام پر حقیقت سے مصافحہ کرنا ہی پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی وقت ایران کے ساتھ ہے؟ یا وقت خود ایک دباؤ بن چکا ہے؟ کیونکہ ناکہ بندی میں دن بھاری ہو جاتے ہیں، بوجھ بڑھتا ہے۔ تیل جب فروخت نہ ہو تو وہ صرف زمین کے نیچے دولت نہیں رہتا بلکہ ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔ ایران ناکہ بندی کا شکار ہے۔
نہ روس کھلی مدد کر سکتا ہے نہ چین کر سکتا ہے۔ ڈھکے چھپے اطلاعاتی مدد پہلے بھی کرتے رہے، آگے بھی کر لیں گے مگر اس سے فیصلہ کن جنگ نہیں لڑی جا سکتی۔ یہ وہی لمحہ ہوتا ہے جہاں سفارت کاری ایک فن بن جاتی ہے اور فنکار وہی کامیاب ہوتا ہے جو وقت کی نبض پہچان لے۔ ایران کے پاس موقع ہے کہ وہ مذاکرات سے فیصلوں کو اپنی شرائط کے قریب لا سکے۔ سب سے بڑا نقصان بروقت فیصلہ نہ کرنے سے ہوتا ہے۔ جیت ہمیشہ اس کی ہوتی ہے جو بروقت فیصلہ کر لے کیونکہ وقت کسی کا اتحادی نہیں ہوتا۔ جیو پولیٹیکل، ٹیکنیکل اور اخلاقی محاذ پر ایران یہ جنگ جیت چکا ہے۔ امریکا اسرائیل تنہا ہیں۔ دنیا ان کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئی۔ ایران کی یہی فتح ہے کہ دنیا کی بڑی وار مشین اس کے ساتھ بات چیت سے مسئلہ حل کرکے اس جنگ سے نکلنا چاہتی ہے۔ یہی وقت تھا کہ اب وہ گفتگو کی دعوت قبول کرتے ہوئے اپنے ملک اور عوام کو جنگ سے نکال کر مستقبل کی جانب لے جائے۔
رہا پاکستان تو پاکستان کے لیے یہ کوئی نظریاتی معرکہ نہیں بلکہ خالصتاً معاشی اور علاقائی مفادات کا سوال ہے۔ نہ ایران میں بیرونی جارحیت کی بدولت حکومت کی تبدیلی ہمارے لیے فائدہ مند ہے، نہ عربوں و ایران میں کھلی جنگ اور نہ ہی مہنگائی کا وہ طوفان جس کا بوجھ پہلے ہی کمزور معیشت اٹھانے سے قاصر ہے۔ اسی واسطے پاکستان نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ کسی طرح فریقین مستقل حل کی جانب بڑھیں۔ دراصل یہ ایک ایسا میدان کارزار ہے جہاں ہر فریق خود کو فاتح سمجھتا ہے مگر نقصان سب کا مشترکہ ہوتا ہے۔ ایسے مخدوش و جنگی حالات کو امن کی جانب لے جانے کی کوشش کرنے والا ہی اصل فاتح ہوگا۔

