Aman Qaim Hona Chahiye
امن قائم ہونا چاہئے

مشرقِ وسطیٰ ایسا خطہ ہے جہاں صحرا بھی سیاست کرتا ہے، تیل بھی طاقت کی زبان بولتا ہے اور آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسی آبی گزرگاہیں محض راستے نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ سمجھی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے جب ایران اور امریکا آمنے سامنے آئے تو اس کی گونج صرف تہران اور واشنگٹن تک محدود نہیں رہی بلکہ بیجنگ، دوحہ، انقرہ، اسلام آباد اور نیٹو کے اجلاسوں تک سنائی دی۔
اسی شور، خوف اور سفارتی دھند کے درمیان پاکستان ایک بار پھر اس خطے میں middle way بن کر ابھرا ہے۔ دنیا اب یہ سمجھنے لگی ہے کہ پاکستان کو صرف دہشت گردی، سیاسی بحرانوں یا معاشی مشکلات کے عدسے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس ریاست کے پاس ایک اور سرمایہ بھی ہے اور وہ ہے متضاد قوتوں کے درمیان رابطہ قائم رکھنے کی صلاحیت۔ وزیراعظم کا چین کا دورہ ہو یا فیلڈ مارشل کی تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقاتیں ہوں یہ محض رسمی سفارتی سرگرمیاں نہیں بلکہ ایک بڑے علاقائی منظرنامے کا حصہ ہیں۔
پاکستان اس وقت ایک ایسے دروازے کا کردار ادا کر رہا ہے جس کے ایک طرف ایران کھڑا ہے اور دوسری جانب امریکا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں اس دروازے کو بند بھی نہیں کرنا چاہتے۔ ایران جانتا ہے کہ پاکستان اس کا ہمسایہ بھی ہے اور ایک ایسا ملک بھی جس نے مشکل ترین ادوار میں تہران سے رابطے منقطع نہیں کیے۔ دوسری طرف واشنگٹن کو یہ احساس ہے کہ اسلام آباد کے پاس وہ کنجی ہے جو ان کے لیے بند دروازے کھول سکتی ہے۔ پاکستان کی سفارتکاری شور مچانے والی سفارتکاری نہیں رہی بلکہ یہ عین اسی راستے کی سفارتکاری رہی جس راستے پر ستر کی دہائی میں پاکستان نے چین امریکا تعلقات بحال کرائے تھے۔
پاکستان کے لیے یہ لمحہ اپنی نئی شناخت بنانے کا موقع بھی ہے۔ ایک طویل عرصے تک دنیا پاکستان کو سیکیورٹی اسٹیٹ کے طور پر دیکھتی رہی۔ مگر اب اسلام آباد خود کو ایک ڈپلومیٹک اسٹیٹ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات، خلیجی ریاستوں سے قربت، ایران سے ہمسائیگی اور امریکا کے ساتھ رابطے یہ سب پاکستان کو نئی شناخت دیتے ہیں۔ پاکستان کو ایران کے اعتماد کو بھی برقرار رکھنا ہے اور امریکا کی ناراضی سے بھی بچنا ہے۔ خلیجی ریاستیں بھی چاہتی ہیں کہ خطے میں جنگ نہ پھیلے کیونکہ جنگ سب سے پہلے تجارت اور سرمایہ کاری کو کھا جاتی ہے۔ اس لیے اسلام آباد کے لیے ہر لفظ، ہر ملاقات اور ہر اشارہ غیرمعمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
کبھی دنیا پاکستان سے پوچھتی تھی کہ آپ کس کے ساتھ ہیں؟ آج سوال بدل گیا ہے۔ اب دنیا جاننا چاہتی ہے کہ کیا آپ یہ مسئلہ حل کروا سکتے ہیں؟ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان اس سارے منظر میں انتہائی حساس مقام پر جا کھڑا ہوا جہاں اگر بات بگڑتی تو فریقین میں سے کوئی بھی اس کا الزام پاکستان کے سر دھر سکتا تھا اور ملک کے اندر بے چین سیاسی عناصر بھی تنقید برائے تنقید کے لیے تیار بیٹھے مل جاتے اور اگر بات بن رہی ہے تو یقیناً یہ پاکستان کا اعزاز ہے۔ اُمید نظر آ رہی ہے۔ باہمی رضامندی سے ایک مسودہ تیار ہو چکا ہے۔ فریقین کی جانب سے مستقل جنگ بندی کا اعلان ہو سکتا ہے جس کے بعد مذاکرات کا ایک دو ماہ پر محیط عمل شروع ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے اس عمل میں بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ ایک جانب اسرائیل جیسے سپائلر کو کارنر کیا ہے جس کا مشن صرف و صرف ایران سے جنگ اور خطے کی تباہی تھا، دوسری جانب بھارت کو سفارتی محاذ پر کارنر کر دیا ہے اور افغانستانی رجیم کو بھی نیا سبق پڑھایا ہے۔
سچ بات تو یہ ہے کہ اس جنگ میں ثالثی کا کردار نبھاہنا سفارتی سطح پر خود کو منوانے سے کہیں زیادہ پاکستان کی اپنی ضرورت تھی۔ پاکستان کی حالت اس شخص جیسی ہے جو گھر میں آٹے، بجلی اور قرض کی قسطوں کے بحران میں پھنسا ہوا ہے۔ معیشت کا حال یہ ہے کہ ملک میں ہفتے میں چار دن کام کرانے کے مشورے دیے گئے، بجلی بچانے کو اسکول بند ہوئے اور آئی ایم ایف کی قسط آتے ہی ایسے خوشی منائی جاتی ہے جیسے کسی رشتے دار نے دبئی سے آئی فون کا تحفہ بھیج دیا ہو۔ اس بیچ سعودی عرب نے اربوں ڈالر کی مدد دی۔ خلیجی ممالک پاکستان کے تیل اور ایل این جی کے بڑے سپلائر ہیں۔ ایران سرحد پر بیٹھا ہے۔ افغانستان میں جنگ الگ چل رہی ہے۔ بلوچستان سلگ رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کو آزو بازو امن کی ضرورت ویسے ہی ہے جیسے گرمی میں لوڈشیڈنگ زدہ شہری کو پنکھے کی۔ بہرحال، ایک مستقل امن معاہدہ تیار ہے اور اس میں پاکستان کا بڑا اور اہم ترین کردار ہے۔
امن معاہدہ سائن ہوتا ہے یا اس کا حتمی اعلان ہوتا ہے تو پھر پاکستان کے اندرونی و بیرونی حالات، کیا کھویا کیا پایا کا جائزہ لینا مناسب رہے گا۔ فی الوقت یہی دعا رہنی چاہئیے کہ خطے میں امن قائم ہو۔

