Saturday, 21 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Mehdi Bukhari
  4. Akhri Jang

Akhri Jang

آخری جنگ

دنیا میں کچھ دشمن ایسے ہوتے ہیں جن کے لیے سرحدیں پار کرنی پڑتی ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو خود ہی اقتدار کے ایوان میں بیٹھ کر اپنا کام شروع کر دیتے ہیں اور اپنی ریاست کے آپ دشمن بن جاتے ہیں۔ ٹرمپ بلاشبہ دوسری قسم کا شاہکار ہے۔ یہ وہ واحد "سپر پاور لیڈر" ہے جس نے بیک وقت اپنے ہی ملک امریکا کی انتظامیہ، اقوام متحدہ اور نیٹو ممالک کو ایسے مخاطب کیا جیسے محلے کی کسی کمیٹی کے نالائق ممبران ہوں۔ اس نے اپنی حرکات اور بدزبانی کے سبب امریکا کو سفارتی طور پر کارنر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ سفارتکاری جسے دنیا میں فن سمجھا جاتا ہے ٹرمپ نے اسے ٹرولنگ میں تبدیل کر دیا۔

ٹرمپ کی خاص بات یہ نہیں کہ وہ متنازعہ ہے، خاص بات یہ ہے کہ وہ مستقل مزاجی سے متنازعہ ہے۔ صبح اٹھ کر اگر وہ کسی اتحادی کو ناراض نہ کرے تو شاید اسے اپنا دن ادھورا لگتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے امریکی خارجہ پالیسی اب اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نہیں بلکہ ٹرمپ کے موڈ سوئنگز کے ذریعے چل رہی ہو۔ اس کے ہوتے امریکا کو کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں اور مجھے محسوس ہوتا ہے امریکی مڈٹرم انتخابات میں کانگریس میں شکست کھائے گا اگر ایسا ہوا تو کانگریس میں اپوزیشن برتری لے جائے گی اور اس کے خلاف مواخذے کے تحریک آنا بعید از قیاس نہیں ہے۔ تازہ سرویز کے مطابق ٹرمپ کو صرف 12 فیصد امریکیوں کی حمایت حاصل ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس کی باڈی لینگوئج منتشر ہے۔ خیالات منتشر اور زبان تو پہلے ہی سفارتی آداب سے عاری تھی۔

ایران پر مسلط جنگ امریکا عسکری محاذ پر تو جیت سکتا ہے۔ لیکن سفارتی محاذ پر اس کی قیمت چکا کر اور وہ قیمت آنے والے سالوں میں طاقت کا توازن بدل سکتی ہے۔ ایران کے لیے یہ جنگ وجودی نوعیت کی ہے۔ اس نے دہائیوں کی پابندیوں کے باوجود جو عسکری اور اسٹریٹیجک اثاثے بڑی مشکل سے بنائے تھے وہ تباہ ہو چکے ہیں اور جو بچے ہیں وہ اب مسلسل حملوں کی زد میں ہیں۔ بنیادی ڈھانچہ، معاشی و عسکری تنصیبات اور قیادت سب ختم ہوتی جا رہی ہے۔

لیکن ایران کے لیے معاملہ مختلف ہے۔ اس کے پاس پیچھے ہٹنے کا راستہ بھی بہت محدود ہے کیونکہ یہ اس کے لیے بقا کی جنگ ہے۔ یہ اس وقت تک جاری رہ سکتی ہے جب تک یا تو ایران کی مزاحمتی صلاحیت مکمل طور پر ٹوٹ نہ جائے یا پھر امریکا اور اسرائیل اپنی حکمتِ عملی بدلنے پر مجبور نہ ہو جائیں۔ باقی دنیا کے لیے یہ ایک جغرافیائی سیاسی کھیل ہو سکتا ہے مگر ایران کے لیے یہ زندہ رہنے کا سوال ہے چاہے اس کے سب اثاثے ختم ہی کیوں نہ ہو جائیں۔ ایران اسے اپنی آخری جنگ سمجھ کر لڑ رہا ہے اور امریکا پر نظر رکھنے والے ماہرین بھی اسے امریکا کی آخری جنگ دیکھ رہے ہیں جس کے بعد امریکا کی سفارتی طاقت اور مہم جوئی کی صلاحیت کے ساتھ اس کے سب اتحادی بھی رخصت ہوتے نظر آ رہے ہیں یا کم از کم امریکا کی ہر آواز پر لبیک کہنے سے دور ہٹ رہے ہیں۔

سوال یہ نہیں کہ ٹرمپ امریکا کو کہاں لے جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ امریکا ٹرمپ کو برداشت کرتے کرتے خود کہاں جا رہا ہے؟ ایسا لگتا ہے جیسے امریکا نے خود ہی اپنے سسٹم میں "Bug" انسٹال کر لیا ہو۔ مسئلہ تو یہ بھی ہے کہ وہ جو کر رہا ہے پورے اعتماد سے کر رہا ہے اور عالمی سیاست میں سب سے خطرناک چیز غلطی نہیں ہوتی، غلطی پر اعتماد ہوتا ہے۔ امریکا مخالف طاقتوں کے حق میں سب سے بہتر تو یہی ہے کہ ٹرمپ ہی کچھ سال صدر رہے تاکہ ان کو زیادہ محنت نہ کرنا پڑے لیکن اس میں جوکھم یہ بھی ہے کہ اس کے ہوتے عالمی امن خطرناک حد تک بگڑ بھی سکتا ہے۔

Check Also

Dukh

By Nusrat Sarfaraz