Aankhne Nahi Rahi Ke Tamasha Nahi Raha
آنکھیں نہیں رہیں کہ تماشا نہیں رہا

آج نئے سال کا پہلا دن ہے۔ وطنِ عزیز دہائیوں سے سال ہا سال مسائل سے جُوج رہا ہے اور ہر گزرتے سال کے ساتھ اس کے سیاسی، سماجی اور مذہبی مسائل بڑھتے چلے آئے ہیں۔ ان زہریلے مسائل کا تریاق کسی کے پاس نہیں یا جن کے پاس ہے ان کی توجہ نہیں یا وہ اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ میں اس قدر مصروف ہیں کہ ان کو اپنے سوا کچھ دِکھتا نہیں۔ دعا ہے کہ نیا سال پاکستان کے لیے استحکام اور خوشیاں لائے۔ ایک عام فرد کے بس میں اب دعا یا بد دعا کے سوا کچھ نہیں رہا۔ بد دعا منفی فعل ہے لہذا ہمیشہ دعا کرنا چاہئیے۔
آج کا پاکستان جن مسائل سے نبرد آزما ہے اس میں سر فہرست سیاسی عدم استحکام، عوام کی نظام سے مایوسی اور طاقتور حلقوں کی جانب سے وہ نفسیاتی و عملی رویہ ہے جس میں ان کو ہر مسئلہ کیل نظر آتا ہے اور کیل کا حل تو ٹھونکنا ہے اور بس۔ اس کے سوا گرتی ہوئی معیشت، بیروزگاری، ڈگری یافتہ نوجوانان کا تاریک مستقبل اور مسلسل بے ہنگم بڑھتی ہوئی آبادی جو ٹائم بم کی مانند ہر لمحہ ٹِک ٹِک کرتی جا رہی ہے۔ وسائل سے دس گنا زیادہ آبادی ہے۔ ایک نوالہ اور دس منہ ہیں۔ اس کے بعد روزمرہ کے مسائل جن میں انتظامیہ، پولیس و کچہری کا رویہ، رشوت کا بازار، غنڈہ گردی، لاء اینڈ آرڈر کی معطلی، سکولوں کالجوں یونیورسٹیوں کا بوسیدہ تعلیمی نظام اور ان میں پڑھتے طلباء میں پھیلتا ڈپریشن، ڈرگ مافیا اور غیر قانونی تعلقات ہیں۔ پھر مذہبی مسائل ہیں۔ تفرقہ بازی، فتوؤں کی صنعت، عدم برداشت، مسلکی منافرت اور مذہب کے نام پر مسلح یا غیر مسلح جتھوں نے سماج کو گھیر رکھا ہے۔
آج کا پاکستان دو انتہاؤں کے بیچ گُم ہے۔ مجھے تو ان کے بیچ پاکستان نظر نہیں آتا۔ ایک جانب سہیل آفریدی، مینا خان آفریدی، شفیع جان، مراد سعید، جنید اکبر، شاہد خٹک اور یوٹیوبرز وغیرہ وغیرہ جیسے غیر سنجیدہ کرداروں کا گروہ ہے تو اس کے بالمقابل مریم صفدر، عظمیٰ بخاری، مریم اورنگزیب، حنا پرویز بٹ، ثانیہ عاشق وغیرہ وغیرہ جیسی غیر سنجیدہ کرداروں کا گروہ ہے۔ جو سنجیدہ مزاج سیاستدان ہیں وہ اس دوطرفہ بدتمیزی کے سامنے ہاتھ کھڑے کیے چپ ہیں یا سائیڈ لائن ہیں۔ سندھ میں "بِجا تیر دلا، چلے دشمناں تے" والی دُھن بج رہی ہے اور بلوچستان میں کسی کو کچھ خبر نہیں مکس اچار حکومت کا والی وارث کون ہے۔ وہاں عملاً سدرن کمانڈ کی حکومت ہی ہوتی ہے۔ وفاق ہابرڈ پلس نظام کی چُنری اوڑھے ہے۔ نظام عدل اندرونی لڑائیوں کا شکار ہے جس کے سبب اس کے پاؤں میں زنجیر ڈال کر حکومت کے کھونٹے سے باندھ دیا گیا ہے۔
اہم ادارہ اور اس کا ترجمان ادارہ غصے میں گرج برس رہا ہے۔ اہم قیدی ان پر گرج برس رہا ہے اور اس ملک کے عوام اپنی اپنی سرخ لکیر کھینچے ایک دوسرے پر گرج برس رہے ہیں۔ سوشل میڈیا طوفانِ بدتمیزی کا بازار لگتا ہے۔ قومی میڈیا پر سینسرشپ کا ٹوپ چڑھا ہے۔ آزادانہ لکھنے والے یا بولنے والے یا تو چپ کرائے جاتے ہیں یا اٹھائے جاتے ہیں یا سوشل میڈیائی سیاسی جنونی جتھوں کی جانب سے منظم مہم کا ٹارگٹ بنتے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے تجزئیوں میں تجزیہ نہیں وش لسٹ یا خواہشات در آئی ہیں۔ کوئی سیاسی یا غیر سیاسی فریق اپنا قصور ماننے یا اپنے گریبان میں جھانکنے کو تیار نہیں۔ سب کا ہاتھ مخالف کے گریبان میں ہے۔ دھول اڑ رہی ہے۔ سماج گرد و غبار کی زد میں ہے جس کی مکمل تصویر کسی کو نظر نہیں آ پا رہی۔
یہ گرد بیٹھ جائے تو معلوم کر سکوں
آنکھیں نہیں رہیں کہ تماشا نہیں رہا
ہر کوئی اپنا راگ الاپ رہا ہے۔ دوسرے کی سننے کا روادار بھی نہیں۔ ہر کوئی حق سچ کی آواز ہے۔ یہاں کوئی باطل نہیں۔ کوئی مانے تو بتائیے۔ سب حسینی ہیں۔ کوئی خود کو یزیدی کہتا ہو تو بتائیے گا۔ سیاست میں حسینیت و یزیدیت روزمرہ کے استعمال میں آ چکی ہے۔ جسے کچھ لوگ حق و باطل، ظالم و مظلوم کی لڑائی بتاتے ہیں کیا وہ اختیار کی لڑائی کے سوا بھی کچھ ہے؟ کیا یہ دین کی جنگ ہے؟ کیا یہ خدا کی جنگ ہے یا خدا کے لیے جنگ ہے؟ یہ سیاست ہے اور طاقت کے حصول کی لڑائی ہے۔ اس میں کوئی حق و باطل، حسین و یزید نہیں ہوتا۔ اس میں کچھ سیاہ و سفید نہیں ہوتا۔ سب گرے ہوتا ہے۔ کل کا ظالم آج کا مظلوم، آج کا ظالم کل کا مظلوم۔ کسی نے پاور پالیٹیکس کے میدان میں یزیدی تلوار سونت رکھی ہے تو اُسی نے کچھ عرصے بعد حسینی چولہ پہن رکھا ہے۔ طاقت و اختیار کی لڑائی کو حق و باطل، حسینیت و یزیدیت قرار دے دیا جاتا ہے۔ جو کل غلط تھا وہی آج غلط ہے۔ کل بھی کوئی حسینی نہیں تھا آج بھی کوئی نہیں۔
ہم سب اگر ایک بات ہی ذہن نشین کر لیں، غلط کو غلط کہنا، اس کی مذمت کرنا سیکھ لیں۔ کڑوا کڑوا تھُو، میٹھا میٹھا ہپ والا کلیہ مفاد پرستی کا کلیہ ہے اسے ترک کر دیں تو کئی معاملات واضح نظر آنے لگے گیں۔ طاقت کے کھیل میں نہ کوئی حسینی ہوتا ہے نہ یزیدی۔ جس کا داؤ، زور اور اختیار چلتا ہے وہ دوسرے کو زیر کر لیتا ہے اور زیر کرکے وہی کرتا ہے جو کوئی طاقتور اپنے حریف کے ساتھ کرتا ہے۔ دنیا کی طاقت اپنے مزاج میں ہی ظالم ہے بھائی۔ طاقت وسعت چاہتی ہے۔ اپنی ایکسپینشن و ایکسٹینشن چاہتی ہے۔ ہرحد سے گزرنا چاہتی ہے اور Karma ایک دائرہ ہے جو لوٹ کر آتا ہے۔
اگر کسی کا پولیٹیکل ویژن دھندلا یا بھینگا ہو تو وہ عدسے بدل کے دیکھ لے۔ جب سب صاف نظر آنے لگے گا تب سمجھ بھی آ جائے گی۔ جذباتی نعروں سے کوئی تبدیلی نہیں آیا کرتی۔ جذبات سے گاڑی کو دھکا تو لگایا جا سکتا ہے لیکن ڈرائیونگ کے لیے عقل ہی کام آتی ہے۔ عقل برتنا سیکھیں۔ اپنے دماغوں کو اپنے لیڈر، قائد، پیر، مولانا یا کسی کے ہاں گروی نہ رکھیں۔ ہم سب اگر کوئی اصول وضح کرتے تو آج اس حالت میں نہ پہنچتے۔ ٹیبل ٹرن ہوتا ہے اور ظالم مظلوم، مظلوم ظالم بن جاتا ہے، یزید حسین میں بدل جاتا ہے۔ بھئی آپ سیاست کریں۔ طاقت کے حصول واسطے جو کوششیں کرنا ہوں کریں۔ جو نظریہ بھی رکھتے ہوں رکھیں۔ اخے حسینی یزیدی، حق باطل، ظالم مظلوم وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔
ہر سال لاکھوں ہنرمند نوجوان ملک چھوڑ جاتے ہیں۔ ایمبیسیوں کے باہر لمبی قطاریں لگا کرتی تھیں اب بھلا ہو جیریز اور فیڈایکس کا کہ ان کے دفاتر کے باہر امیگریشن اپلائی کرنے والوں کی لمبی قطاریں لگتی ہیں۔ ہر ہنرمند باشعور انسان اپنا مستقبل سنوارنے باہر نکل جاتا ہے۔ باہر والے بھی پاگل نہیں، وہ بھی ہنرمندوں کو ہی ویزے دیتے ہیں، نکموں کو کوئی ملک نہیں بلاتا۔ ہمارے نوجوان وہاں سے کم ہی واپس لوٹتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ کہ اس ملک میں کسی کو مستقبل نظر نہیں آتا۔ دھونس، بدمعاشی، اندھیر نگری والی دھرتی پر کون اپنی نسل بسانا چاہتا ہے۔۔
اس قوم کو جاہل اجڈ بڑی محنت سے بنایا گیا ہے۔ ملائیت، انتہاپسندی اور عسکریت پسندی کی جانب ریاست نے ہی راغب رکھا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے اس قوم کو جنگی جنونیت میں مبتلا رکھا وہی ان کو سوٹ کرتا تھا۔ تعلیم و تربیت کی ہی نہیں گئی۔ نصاب جعلی، نعرے جعلی، تاریخ مسخ شدہ۔ چوبیس پچیس کروڑ کا ایک ہجوم ہے۔ آپ یہاں عقل کی بات لکھ کر دیکھیئے۔ آپ کو ایسے ایسے فتوے ملیں گے اور گالیاں بونس میں۔ مین سٹریم میڈیا کی خبریں جعلی، ٹاک شوز گھسے پٹے اور پروگرامز ایک جیسی جگتوں سے سجے، سوشل میڈیا پر گالم گلوچ اور فتوے، قتل و غارت، ہر شعبہ زندگی میں زوال ہے۔ المیہ تو یہ بھی ہے میڈیا ایک بے لگام بدمست گھوڑا ہے۔ اس کے سامنے جو آتا ہے وہ اس کو ٹاپوں تلے روندنا چاہتا ہے۔ ہمارے اکثر اینکرز کی کمائی ہی بولنے اور سراسر بولنے پر محیط ہے۔۔ اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ بولنا کیا ہے بس کوئی مسئلہ پیدا کرنا ہے جس پر دو دن توا گرم رہ سکے اور روٹی کڑک اُتر سکے۔۔
لوگوں کے بیاہ و طلاق جیسا نجی معاملہ ہو، کسی دس نمبر ٹک ٹاک فیم کو بلا کر مارننگ ٹرانسمیشن کرنی ہو، اچھل کود، ناچم ناچ، سرکس ڈانس یا پھر ٹاک شوز جن میں کسی نہ کسی کی شلوار اتارنا مشن ہو۔ مملکت خداداد پاکستان میں تو بھیا یہی کچھ ہے۔ یہی انٹرٹینمنٹ ہے۔ سارے تفریحی شوز اٹھا لیں یا تو وہ بھارتی پروگرام کا چربہ ہیں یا امریکی شوز کی کاپی۔۔ کیا موسیقی سے متعلقہ اور کیا انعامی پروگرامز۔۔ "بولتے ہاتھ" کدھر گئے، "کسوٹی" کہاں کھو گئی، سٹوڈیو ڈھائی، انکل سرگم اور اس جیسے کئی جینون پروگرامز کا ماڈل تو آگے نہیں بڑھا سکے۔ اب تو کوئی کمرشل مولوی ہو جو دین سکھائے ٹی وی پر، کوئی بے سرا ہو جو موسیقی پروگرام کا جج بن سکے، کوئی مداری ہو جو اچھل اچھل کر خود بھی سانس پھلائے اور حاضرین کا بھی ڈسکو ڈانس کروائے۔۔ اینکر ہو کوئی جو نان سٹاپ بولنے کا فن رکھتا ہو قطع نظر اس کے کہ بولنا کیا ہے۔
آپ یوٹیوب کو دیکھ لیں۔ وہاں وہ بندہ ہٹ ہے جو گالم گلوچ، بے سرو پا نری بکواس، نان اسٹاپ بے لاگ بے ڈھنگے جملے بول سکے۔ یا اچھل کود کرکے دکھا دے یا ڈوپٹہ لہرا دے۔ وہی سننے، دیکھنے لوگ جاتے ہیں۔ آپ میوزک کو دیکھ لیں، نثر کو دیکھ لیں۔ پچھلی ایک ڈیڑھ دہائی میں ایسی کتاب، ایسا ناول، ایسی شاعری نہیں آ سکی جو اردو ادب میں مدتوں یاد رکھنے کے قابل ہو۔ حاجی ذخیرہ اندوز، سرکاری پوسٹوں پر ڈاکو، بے حس تاجر، بد عنوان سیاستدان، پاک شفاف وردی، بدکار ملا اور تماشائی عوام۔۔
بھیا آجکل تو یہی کچھ ہے۔ کہنے لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر کہنا کس کو ہے؟ یہ جی کا زیاں ہے یا خون جلانے کی مشق ہے۔ میں جانتا ہوں کہ نابینا بستی میں آئینے نہیں بکتے۔ ہمارے ساتھ جو ہوا، جو ہم پر بیت گئی اور بیت رہی ہے اس میں ہمارا اپنا ہی ہاتھ ہے۔ یہاں اپنا ہی ہاتھ اپنے ہی گریبان پر پڑتا ہے۔ سیلف اسیسمنٹ کا پہاڑ کوہ ہمالیہ سے بھی بلند ہے جس پر چڑھنا سانس پھلانے والا کام ہے۔ اس کی چوٹی بادلوں میں، دھند میں دہائیوں سے گھری ہوئی ہے۔ اس جانب نظر نہیں جاتی۔ یہ وہ معاشرہ ہے جہاں لکھنے، پڑھنے، سوچنے والا انسان چپ چاپ اندر ہی اندر ٹوٹ جاتا ہے۔ تراشیدم، پرستیدم، شکستم۔۔
بہرحال، پھر بھی دعا گو ہیں کہ نیا سال اس ملک کے لیے بہتری لائے۔ ہم نے یہیں زیست بسر کی، بقیہ بھی کرنی ہے۔ یہیں جینا مرنا اور یہیں دفن ہونا ہے۔ بالخصوص میرے جیسے لوگ جن کی عمر اس ملک کا دم بھرتے اور اس کا سافٹ امیج دنیا کو دکھاتے گزری ہے۔ جو مٹی سے جڑے لوگ ہیں۔ جن کی خواہش ہی رہی کہ وہ اس ملک کو بہتر دے سکیں اور ملک اپنی رعایا کو بہتر معیار زندگی دے۔ لیکن ان موضوعات پر لکھتے وہ شعر بھی یاد آ جاتا ہے۔
ایسے زخموں کا کیا علاج کروں
جن کو مرہم سے آگ لگ جائے

