Monday, 27 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Jawad Hussain Rizvi
  4. Muzakrat Jald Honge

Muzakrat Jald Honge

مزاکرات جلد ہوں گے

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پاکستان آئے اور کچھ آفیشلز سے ملاقات کرکے واپس چلے گئے۔ یہ دورہ اس سلسلے کی کڑی ہے جس میں وہ پاکستان کے علاوہ عمان اور روس جیسے ممالک بھی جائیں گے جن پر ایران کو بھروسہ ہے اور خطے کی موجودہ صورتحال پر مشاورت کریں گے۔

اس وقت ایران امریکہ مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ تعطل کا شکار ہے۔ امریکہ تو مذاکرات کے لئے اتاولا ہو رہا ہے کیونکہ اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔ جے ڈی وینس متعدد بار اسلام آباد کے لئے اپنا رخت سفر باندھ چکے ہیں۔ دوسری طرف ایران کو مذاکرات کی خاص جلدی نہیں۔ اس کو معلوم ہے کہ اس وقت مذاکرات کی جلدی صرف ٹرمپ کو ہے لہٰذا ایران کچھ مطالبات کی تکمیل کے بغیر مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھے گا۔

ان مسائل میں سر فہرست امریکہ کی طرف سے ایران کی سمندری بندش ہے۔ امریکہ اس بندش کو ایران کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لئے استعمال کرنا چاہتا ہے تاکہ ایران پر دباؤ رہے۔ لگتا ہے کسی سیانے نے اس کو مشورہ دیا ہے کہ ایران کو فوجی جارحیت کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا لیکن اقتصادی ناکہ بندی سے گھٹنوں پر لایا جا سکتا ہے۔ حالانکہ ایران اقتصادی ناکہ بندی کے باوجود سروائیو (survive) کرنے کا ہنر بخوبی جانتا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ ایک طرف آبنائے ہرمز کی بندش ختم کرنے کا مطالبہ اور دوسری طرف خود ایران کا سمندی محاصرہ، یہ دونوں کام ایک ساتھ نہیں ہو سکتے۔ یہ ایک ڈیڈلاک ہے جس کا خاتمہ ضروری ہے۔

دوسری طرف کچھ پاکستانی ناعاقبت اندیش صحافی اور لکھاری راشن پانی لے کر ایران پر چڑھ گئے کہ ایران نے پاکستان کو دھوکہ دیا اور مذاکرات سے انکار کر دیا۔ ان کو یہ اندازہ بھی نہیں کہ ان کی اس حرکت سے ایران ناراض ہو سکتا ہے اور بھارت کو موقع مل سکتا ہے۔ حالانکہ ایران نے پاکستان یا کسی بھی ملک سے سیزفائر کے لئے رابطہ نہیں کیا تھا۔ یہ پاکستان کا اپنا جیو پولیٹیکل موو (Geo political move) تھا جس کے لئے ثالثی کا کردار اپنایا گیا۔ ایران کے تحفظات بالکل جینوئن (genuine) ہیں۔ انہیں متعدد بار مذاکرات کے دوران دھوکہ دیا گیا اور ان کی ٹاپ لیڈر شپ کو شہید کیا گیا۔ یہ بھی غنیمت ہے کہ وہ اس کے باوجود مذاکرات پر آمادہ ہوئے، کام تو امریکہ نے ایران کا سمندری محاصرہ کرکے بگاڑا ہے ورنہ اب تک مذاکرات کے متعدد راؤنڈ ہو چکے ہوتے۔

پاکستان بطور غیر جانبدار ثالث امریکہ کو سمندری محاصرہ ختم کرنے پر آمادہ کرے، نہ کہ ایران کو سمندری محاصرے کے باوجود مذاکرات جاری رکھنے کی ضد کرے۔ ایک اچھا ثالث ڈیڈ لاک کو بخوبی سمجھ کر ایڈریس کرتا ہے۔ اب جبکہ ایران بھی پاکستان پر اعتماد کر رہا ہے، پاکستان کو چاہیے کہ سمندری محاصرے کے حوالے سے کام کرے اور دونوں کو آمادہ کرے کہ اپنے اپنے حدود میں خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں ناکہ بندیاں ختم کریں اور آزادانہ نقل و حمل کی اجازت دیں۔

جو نکات دونوں ممالک نے ٹیبل پر رکھے ہیں، مجھے نہیں لگتا ان میں سے کوئی پوائنٹ ایسا ہے جس پر بات نہ ہو سکتی ہو۔ لیکن امریکہ کا تکبر اس میں مانع ہے۔ فوجی جارحیت سے اس کے اہداف پورے نہیں ہوئے تو وہ چاہتا ہے کہ ایران بلا مشروط سرینڈر کرے جو احمقانہ توقع ہے۔ ایرانی امریکی نبض سمجھ چکے ہیں لہٰذا وہ تاخیری حربے استعمال کریں گے۔ پاکستان کو چاہیے کہ بطور ثالث تحمل کا مظاہرہ کرے، چاہے وقت بھی لگ جائے اگر وہ دونوں کے درمیان کوئی معاہدہ کروانے میں کامیاب ہو جائے تو یہ بہت بڑی جیت ہوگی۔

ابھی کچھ اطلاعات ایسی ہیں کہ کچھ معاملات میں برف پگھلی ہے۔ عباس عراقچی ان تجاویز کو لے کر روس جائیں گے اور اپنے سب سے اہم حلیف سے مشاورت کریں گے جبکہ پاکستان چین کو اعتماد میں لینے کی کوشش کرے گا۔ امید ہے کہ اس ہفتے کے آخر تک کوئی خاص بریک تھرو ہو۔

ایران کے پاس اسٹریٹیجک ایڈوانٹیج ہے کہ اس کو مذاکرات کی کوئی جلدی نہیں لیکن ٹرمپ کو اپنی ساکھ بچانے، خفت مٹانے اور اندرونی طور پر اپنی حمایت کو بحال کرنے کے لئے جوہری معاہدے کی ضرورت ہے تاکہ اس اچیومنٹ (achievement) کا تمغہ اپنے سینے پر سجا کر مڈٹرم الیکشن کی تیاری کرے۔

رواں ہفتے کے اواخر تک مذاکرات میں پیش رفت کا قوی امکان ہے۔

Check Also

Khaliq Nagar Ki Roshaniyan, Shukriya Maryam Nawaz

By MA Tabassum