Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Jawad Hussain Rizvi
  4. Muttahida Arab Emirate Aur Mojuda Surat e Haal

Muttahida Arab Emirate Aur Mojuda Surat e Haal

متحدہ عرب امارات اور موجودہ صورت حال

خلیج فارس کی موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال اور متحدہ عرب امارات کی حالیہ پندرہ سالہ سرگرمیوں کا اگر گہری سیاسی بصیرت کے ساتھ جائزہ لیا جائے، تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ امارات اب محض ایک روایتی ریاست نہیں رہا۔ امارات کی حکمتِ عملی کو کسی ایک جنگ یا وقتی تناؤ کے تناظر میں نہیں، بلکہ ایک وسیع تر علاقائی سیکیورٹی آرکیٹیکچر کے فریم ورک میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

بظاہر امارات اور سعودی عرب ایک ہی صف میں نظر آتے ہیں، لیکن strategic سطح پر ان کے درمیان شدید مفادات کی جنگ جاری ہے۔ یمن کے محاذ پر، بالخصوص جنوبی یمن میں، ان دونوں کے درمیان نفوذ کی یہ جنگ اس حد تک بڑھی کہ سعودی جنگی طیاروں کو اماراتی حمایت یافتہ گروہوں پر بمباری کرنا پڑی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ امارات خطے میں سعودی عرب کا کوئی تابع اتحادی نہیں، بلکہ اس کا اپنا ایک آزادانہ ایجنڈا ہے۔

لیبیا کی سیاسی بساط ہو یا سوڈان کی داخلی خانہ جنگی، شام میں سلفی انتہا پسندوں کی مالی معاونت ہو یا خطے کے دیگر ممالک میں مداخلت، امارات ہر جگہ ایک فعال مداخلت کار کے طور پر نظر آتا ہے۔ یہ شواہد ثابت کرتے ہیں کہ امارات خطے کے بے امنی کے مراکز میں صرف ایک تماشائی نہیں بلکہ ایک ایسا کھلاڑی ہے جس کا اپنا ایک متعین ایجنڈا ہے۔

امارات کا سب سے اہم اور خطرناک پہلو اسرائیل کے ساتھ اس کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجیک قربت ہے۔ صیہونی حکام کا امارات کو اپنا "بنیادی اسٹریٹجک اتحادی" قرار دینا محض ایک سفارتی جملہ نہیں، بلکہ اس بات کا اعتراف ہے کہ امارات اب خطے کے نئے نظمِ نو (New Regional Order) کی تشکیل میں اسرائیل کا دستِ راست بن چکا ہے۔ "معاہدہ ابراہیم" (Abraham Accords) کے تحت تعلقات کی بحالی، سفارت خانوں کا قیام اور براہِ راست پروازوں کا آغاز دراصل اس نئے سیکیورٹی ڈھانچے کی بنیاد ہے جس کا خواب مغرب اور امریکہ نے دیکھ رکھا ہے۔

اماراتی سرزمین پر موساد کے افسران کی موجودگی اور تل ابیب کے ساتھ سیکیورٹی و انٹیلی جنس کا گہرا تعاون اس بات کا ثبوت ہے کہ امارات اب ایک ایسی جغرافیائی گرہ (Hub) بن چکا ہے جہاں سے پورے خطے کی نگرانی اور کنٹرول کا ایک نیا نظام ترتیب دیا جا رہا ہے۔

ان مسائل کے ساتھ ساتھ امارات کا اندرونی ڈھانچہ بھی پیچیدہ ہے۔ سات ریاستوں کا اتحاد طاقت کے توازن پر مبنی تھا، لیکن آلِ نہیان خاندان (ابوظہبی) کے پاس طاقت کے ارتکاز نے دیگر ریاستوں میں خاموش عدم اطمینان پیدا کیا ہے۔ اگرچہ تیل کی دولت نے اب تک ان دراڑوں کو چھپائے رکھا ہے، لیکن حکمران خاندانوں کے درمیان یہ اندرونی اختلافات کسی بھی بحرانی صورتحال میں کھل کر سامنے آ سکتے ہیں۔ تیل کی دولت پر چلنے والی حکومتیں عام طور پر تب تک مستحکم نظر آتی ہیں جب تک پیسے کی بندر بانٹ اطمینان بخش ہو۔

​دوسری طرف، امارات کی معاشی ترقی بھی بحث کا موضوع رہی ہے۔ دبئی اور ابوظہبی نے خود کو عالمی تجارتی مراکز کے طور پر تو پیش کیا ہے، لیکن اس ترقی کا ایک بڑا حصہ مشکوک سرمائے، منشیات کے پیسے، کرپشن، بدعنوانی، رشوت، غیر ملکی سرمائے اور تارکین وطن مزدوروں کی سستی محنت پر منحصر ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ متحدہ عرب امارات اب ایک کلاسیکی ریاست کے ڈھانچے سے نکل کر عالمی طاقتوں کے ایک ایسے مہرے میں تبدیل ہو چکا ہے جس کا مقصد مشرق وسطٰی میں ایک مخصوص سیاسی و سیکیورٹی نظم کو مستحکم کرنا ہے۔ ایران، پاکستان اور خطے کے دیگر اسلامی ممالک کے لیے امارات کی یہ نئی حیثیت محض ایک سیاسی چیلنج نہیں، بلکہ ایک طویل مدتی (لانگ ٹرم) سیکیورٹی خطرہ ہے جس کا مقابلہ ناگزیر ہے۔ تبھی ایران نے امارات کو اب تک صحیح کھینچ کر رکھا ہوا ہے۔

Check Also

Takleef Hamesha Saza Nahi Hoti

By Ayesha Batool