Monday, 06 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Jawad Hussain Rizvi
  4. Empathy

Empathy

امپیتھی

میری ہر معاملے بالخصوص مذہب اور سیاست میں یہ اپروچ رہی ہے کہ میں مدِّمقابل کی نفسیات کو سامنے رکھ کر بات کرتا ہوں جس کو کمیونیکیشن کی زبان میں "Empathy" کہتے ہیں۔ کسی بھی موضوع پر تبصرہ کرنے کے لئے آپ کو اس خاص عقیدت کی باؤنڈری سے نکلنا پڑتا ہے تاکہ آپ کی بات غیر حانبدار، معتدل اور حقیقت پر مبنی ہو۔

مثلاً مذہبی معاملات میں غیر مُسلموں کی نفسیات کو سامنے رکھ کر بات کرتا ہوں، یعنی میری کوشش ہوتی ہے کہ اسلام کو اس طرح سے پیش کروں کہ وہ ان کے لئے قابلِ فہم اور قابلِ قبول ہو۔ ایک ملحد یا مُنکِر کو ذہن میں رکھ کر مذہبی تفسیر بیان کرتا ہوں تاکہ اسلامی عقائد و فقہی معاملات منطقی و عقلی پیرائے میں پیش کر سکوں۔

مثلاً توحید کا عقیدہ پیش کرتے ہوئے میں ایک موحّد کے طور پر نہیں، بلکہ یہ سوچ کر بیان کرتا ہوں کہ خدا کو نہ ماننے والے یا مشرک کے سامنے اسے کس طرح سے پیش کیا جائے کہ اس کے لئے قابلِ قبول بن جائے اور یہی اسلوب ہمیں قرآن میں بھی نظر آتا ہے جہاں مخالف کی نفسیات کے مطابق گفتگو کی گئی ہے۔

اسی طرح جب تشیّع کے معاملات پر بات کرتا ہوں تو ذہن میں ایک غیر شیعہ ہوتا ہے، گویا مکتب تشیّع کی اس طرح سے نمائندگی کروں کہ غیر شیعہ کے لئے بھی قابلِ فہم ہو۔ میں یہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ وہ کیسے سوچتا ہے تاکہ اس حساب سے اپنی بات بیان کر سکوں۔

اسی طرح سے جب میں سیاست بالخصوص ایران اور ولایت فقیہ کے نظریے پر گفتگو کرتا ہوں تو میرے ذہن میں وہ افراد ہوتے ہیں جو ایران اور ولایت فقیہ سے کسی قسم کی عقیدت نہیں رکھتے۔ یا تو وہ مخالف ہیں یا پھر وہ ایران کے معاملے کو غیر جانبدار لینس سے دیکھتے ہیں۔ اصل چیلنج بھی یہی ہے کہ آپ اپنی بات ایسے سامع کے سامنے رکھیں جو پہلے سے آپ سے متفق نہیں۔

میری اس اپروچ کی وجہ سے بسا اوقات غلط فہمیاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔ کچھ لوگ اس اسلوب کو سمجھ نہیں پاتے۔ عقائد اور احکامات کو عقلی و منطقی انداز میں پیش کروں تو مخالف میری بات تو قبول کر لیتے ہیں لیکن بعض ہم عقیدہ احباب جو معاملات کو سطحی انداز میں دیکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ میں موقف میں تبدیلی یا نرمی لا رہا ہوں۔ حالانکہ یہ اسلوب کا فرق ہوتا ہے، موقف کا نہیں۔

اگر آپ خالص ہم خیال لوگوں سے بات کر رہے ہیں تو وہاں جذبات، قصّے اور روایتی طرزِ بیان بھی مؤثر ہوتا ہے۔ لیکن یہ طریقہ مخالفین کے لئے کارگر نہیں ہوتا اور یہی وہ مقام ہے جہاں بعض ہم خیال افراد کو محسوس ہوتا ہے کہ شاید ان کے عقائد کو کمزور انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔

اسی طرح ایران کا مقدّمہ ایسے افراد کے سامنے پیش کرنا جو اس کو انتہائی مقدّس سمجھتے ہیں، بہت آسان ہے۔ لیکن ایسے افراد کے سامنے پیش کرنا جو مقدّس نہیں سمجھتے، ایک سنجیدہ علمی و فکری چیلنج ہے۔ یہاں آپ کو منطقی انداز اپنانا ہوگا، تقدّس اور عقیدت کے شیرے میں لت پت ہونے کے بجائے زمینی حقائق کی بنیادوں پر تجزیہ کرنا ہوگا اور یہی چیز بعض عقیدت مند افراد کے لیے باعثِ تشویش بن جاتی ہے کیونکہ عقیدت کے بجائے زمینی حقائق کی روشنی میں گفتگو کی گئی ہے۔

یاد رکھیں میری آڈینس بہت مختلف ہے۔ عقیدت رکھنے والوں کے لئے لکھنے والے بے شمار ہیں، چاہے وہ مذہب کا معاملہ ہو یا سیاست کا۔ ہر بندہ اپنی سمجھ کے مطابق گفتکو کر رہا ہوتا ہے یعنی اگر شدید عقیدت رکھتا ہو تو اسی تناظر میں لکھتا ہے۔ لیکن مخالفین کے لئے سنجیدہ اور قابلِ فہم انداز میں لکھنے والے بہت کم ہیں۔

اسی لئے شدید عقیدت مندوں کو میرا اسلوب بہت مختلف لگے گا اور جو لوگ غلو کا شکار ہیں، چاہے ان کا تعلق کسی بھی فکر سے ہو، انہیں میری باتیں ناگوار گزریں گی۔

میری ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ میں اپنی ذاتی عقیدت سے بالاتر ہو کر، حتیٰ الامکان غیر جانبدار اور متوازن و معتدل انداز میں بات کروں تاکہ بات صرف سنی ہی نہ جائے، بلکہ ہر طبقے میں سمجھی بھی جائے۔

Check Also

Empathy

By Syed Jawad Hussain Rizvi