Saturday, 28 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Jawad Hussain Rizvi
  4. Bangladesh Election Aur Nataij

Bangladesh Election Aur Nataij

بنگلہ دیش انتخابات اور نتائج

بنگلہ دیش میں مرحومہ خالدہ ضیاء کی جماعت BNP ایک تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے جا رہی ہے۔ دوسری طرف جماعتِ اسلامی کے ساتھ گیارہ سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہار چکا ہے۔ جماعتِ اسلامی کی شکست پر خاصی بات کی جا رہی ہے۔ قدامت پسند طبقہ تو سرے سے اس الیکشن کو فیئر اور شفّاف ماننے سے انکاری ہے لیکن آپ حقیقت میں دیکھیں تو ان کی شکست کی کچھ وجوہات ناقابلِ تردید ہیں۔

سب سے اہم وجہ الیکشن سے کچھ دن پہلے بیگم خالدہ ضیاء کی وفات ہے۔ جس طرح سے آپ برسوں جیل میں قید رہیں، بیگم حسینہ واجد کے بعد پورے بنگلہ دیش کی ہمدردی بیگم خالدہ ضیاء کے ساتھ تھی۔ الیکشن سے قبل ان کی وفات نے رائے عامّہ کو BNP کے حق میں ہموار کیا۔ ان کے جنازے میں جس طرح ڈھاکہ کے لوگ سڑکوں پر نکل آئے اس سے یہی لگ رہا تھا کہ الیکشن میں BNP بازی لے جائے گی۔ کسی حد تک sympathy ووٹ انہیں ملے۔

اور پھر جماعتِ اسلامی اور دیگر دینی جماعتیں اپنے سخت بیانیے کی وجہ سے عام عوام میں اپنی مقبولیت اس طرح سے نہیں بنا پاتیں۔ بنگلہ دیش کی ایک بڑی آبادی ہندو ہے، ظاہر ہے مذہبی ایجنڈے کی وجہ سے غیر مسلم ووٹ بینک دینی جماعتوں سے دور بھاگے گا۔ دوسری وجہ یہ کہ پارٹی لیڈرشپ میں خواتین کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے خواتین میں یہ جماعت مقبول نہیں۔

عام عوامی تاثر بھی یہی ہے کہ اقتدار میں آنے کی صورت میں مذہبی جماعتیں خواتین کو محدود کر دیں گی۔ یہ بات ہمارے دینی حلقوں کے لئے لمحۂ فکریہ ہے کہ کس طرح اپنے اس تاثر کو زائل کریں گے۔

کل ہی میری ایک جگہ ڈسکشن ہو رہی تھی، میں نے مسلم معاشرے کی ایک حقیقت کی طرف اشارہ کیا۔ عموماً کسی بھی مُسلم معاشرے میں دیندار طبقہ ایک چوتھائی یا 25٪ کے آس پاس ہوتا ہے۔ کم و بیش اتنی ہی تعداد میں غیر دیندار طبقہ بھی ہوتا ہے۔ باقی پچاس فیصد کے قریب عام عوام ہوتی ہے جو کسی حد تک مذہب پر عمل پیرا تو ہیں لیکن ان کے اصل مسائل دینیات سے ہٹ کر ہوتے ہیں۔ ان کو دین کی بالا دستی میں بہت دلچسپی نہیں ہوتی، یہ لوگ وقت کا دھارا اور حالات کا رُخ دیکھتے ہیں۔ انہی لوگوں کا ووٹ بینک اصل سِمت کا تعین کرتا ہے۔

بنگلہ دیش اور پاکستان سمیت تمام مُسلم معاشروں میں یہ درمیانہ طبقہ ہی ہوتا ہے جو اصل سیاسی رُخ کا تعین کرتا ہے۔ بدقسمتی سے جماعتِ اسلامی اور دیگر دینی جماعتیں اس اہم طبقے کو کوئی روڈ میپ دینے سے قاصر رہتی ہیں، ایسا روڈ میپ جو ان کے معاشی و سماجی مسائل کو حل کرے۔

جماعت اسلامی کی شکست کی ایک اور وجہ 1971 کے حالات و واقعات ہیں، ان پر الزامات ہیں کہ عام بنگالیوں پر انہوں نے ظلم و ستم کئے ہیں۔ گو کہ یہ فیکٹر کسی حد تک دھندلا گیا ہے لیکن اب بھی ایک تعداد کے لئے یہ اہم فیکٹرز میں سے ایک ہے۔

بہرحال پاکستان کے لئے خوش آیند یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت بھی پاکستان کی حامی ہوگی اور اپوزیشن بھی۔ ہندوستان میں جب تک بیگم حسینہ واجد موجود ہیں، بنگلہ دیش کا عام بیانیہ بھارت مخالف اور پاکستان کے موافق ہی رہے گا۔

Check Also

Dil Ka Acha

By Ayesha Batool