Saturday, 28 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Imran Ali Shah
  4. Mere Super Hero, Mere Abbu Jan

Mere Super Hero, Mere Abbu Jan

میرے سپر ہیرو، میرے ابو جان

خالقِ کائنات نے حضرتِ انسان کو جن بے شمار نعمتوں سے نوازا، ان میں رشتوں کی عطا سب سے حسین اور بامعنی ہے۔ ماں، باپ، بہن، بھائی اور اولاد، یہی رشتے انسان کی زندگی کو مقصد، حرارت اور سمت عطا کرتے ہیں۔ اگر رشتے نہ ہوں تو زندگی محض سانسوں کی گنتی بن کر رہ جائے۔

والدین انسان کو نہ صرف دنیا میں لانے کا سبب بنتے ہیں بلکہ اپنی پوری زندگی اولاد کے نام کر دیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ماں کے رشتے کو بجا طور پر غیر معمولی محبت اور تقدیس حاصل ہے، اس کی قربانیوں کو ادب میں دل کھول کر سراہا گیا ہے۔ مگر باپ، یہ خاموش، مضبوط اور مستقل کردار، اکثر اعتراف سے محروم رہتا ہے۔ شاید اس لیے کہ باپ کی محبت بولتی کم اور ثابت زیادہ ہوتی ہے۔ وہ سختی بھی کرتا ہے، مگر اسی سختی میں آنے والی نسلوں کا نرم مستقبل پوشیدہ ہوتا ہے۔

باپ وہ ہیرو ہے جو دھوپ، سردی، تھکن اور محرومی کو خود اوڑھ لیتا ہے تاکہ اس کا گھر محفوظ رہے۔ وہ اپنی خواہشیں موخر کرتا ہے تاکہ بچوں کے خواب وقت پر پورے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تحریر دنیا کے ہر اس باپ کے نام ہے جس نے اپنی زندگی اپنی اولاد کے بہتر کل کے لیے وقف کر دی۔

میری زندگی بھی ایسے ہی ایک باوقار باپ کی مرہونِ منت ہے۔ میں نے ایک ایسے گھر میں آنکھ کھولی جہاں والدین تعلیم یافتہ اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے امین تھے۔ میری والدہ محکمۂ تعلیم سے وابستہ رہیں، جبکہ میرے والد، سید اعجاز حسین شاہ، حبیب بینک میں بطور مینیجر خدمات انجام دیتے رہے۔ سخاوت، خدا ترسی، اعلیٰ اخلاق، علم و ادب سے محبت اور خوش مزاجی ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف تھے، جن کی بنا پر وہ شہر لیہ کی معزز شخصیات میں شمار ہوتے رہے۔

ہم پانچ بہن بھائی ہیں۔ ہمارے والدین نے نہایت محنت، دیانت اور اخلاص کے ساتھ ہمیں بہترین تعلیمی مواقع فراہم کیے۔ ابو جان کی سروس کا بڑا حصہ دور دراز علاقوں میں گزرا۔ مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں طویل تعیناتی کے دوران لیہ سے چھ گھنٹے کا صبر آزما سفر، ناقص سفری سہولیات اور ہفتے میں صرف ایک دن کی چھٹی، یہ سب کچھ اس مسکراہٹ کے ساتھ قبول کیا گیا جو ہمیں دیکھ کر ان کے چہرے پر آ جاتی تھی۔ ہم منع کرتے تو بس اتنا کہتے: "آپ لوگوں سے مل کر ساری تھکن اتر جاتی ہے"۔

چھتیس سالہ بینک سروس کے بعد 2004 میں ان کی ریٹائرمنٹ پر ان کے ساتھیوں کی اداسی اس بات کی گواہ تھی کہ اچھے انسان کم اور یاد رہ جانے والے بہت کم ہوتے ہیں۔ آج بھی ان کے کولیگز فون کرکے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔

زندگی کے ہر موڑ پر میں نے اپنے والد کو اپنے اور اپنی بہنوں کے ساتھ کھڑے پایا۔ معیاری تعلیم، بروقت فیصلے، باوقار شادیاں اور اب اگلی نسل کی خوشیوں میں شرکت، ان کی پوری زندگی ہمارے تحفظ اور استحکام کی داستان ہے۔ وہ ہمارے لیے صرف باپ نہیں، ایک مضبوط سپورٹ سسٹم رہے، ایسا اعتماد کہ ہم جہاں بھی گئے، اپنے حصے کی کامیابی ضرور سمیٹی۔

میرے ابو جان میرے سپر ہیرو ہیں۔ مگر آج میرا سپر ہیرو کچھ کمزور ہے۔ طبیعت ناساز ہے، قدم پہلے جیسے ساتھ نہیں دیتے۔ باہمت ہونے کے باوجود جسم ساتھ نہیں دیتا۔ ایک بیٹے کے لیے اپنے ہیرو کو اس حال میں دیکھنا آسان نہیں۔ میں ان کے علاج میں اپنی سی کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا، مگر دعا وہ سہارا ہے جو کبھی کمزور نہیں پڑتا۔

پروردگارِ عالم سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کے والدین کو سلامت رکھے اور میرے سپر ہیرو کو صحتِ کاملہ عطا فرمائے۔

About Syed Imran Ali Shah

Syed Imran Ali Shah, a highly accomplished journalist, columnist, and article writer with over a decade of experience in the dynamic realm of journalism. Known for his insightful and thought-provoking pieces, he has become a respected voice in the field, covering a wide spectrum of topics ranging from social and political issues to human rights, climate change, environmental concerns, and economic trends.

Check Also

Syed Salman Gilani Muskurahaton Ke Moammar

By Farhat Abbas Shah