Epstein Files: Taqat, Khamoshi Aur Aalmi Zameer Ka Imtihan
ایپسٹین فائلز: طاقت، خاموشی اور عالمی ضمیر کا امتحان

خالق لم یزل نے انسان کو اشرف المخلوقات کے مقام پر فائز کیا، اس عالم، فہم و فراست، ادراک اور درد دل سے آراستہ کیا، یہی انسان اگر انسانیت کی معراج کو پہنچ جائے تو فرشتوں کے لیے قابل رشک بن جاتا ہے، یہ انسان دکھی انسانیت کے لیے کبھی عبد الستار ایدھی، مدر ٹریسا تو کبھی کسی ڈاکٹر یا طبیب کی صورت میں مسیحائی کرتا نظر آتا ہے، لیکن اگر یہی انسان شیطان کا روپ دھار لے تو یہ ابلیس کو بھی شرما دے، چنگیز خان کی بربریت، شداد، نمرود اور یزید لعین جیسے ظالم تاریخ میں عبرت کے نشان دکھائی دیتے ہیں۔
انسان کے اندر چھپی درندگی کے حوالے سے اخبارات و دیر ذرائع ابلاغ ہمیں روزانہ کی بنیاد پر خبردار کرتے رہتے ہیں، مگر جس قسم کی انسانی درندگی ایپسٹین فائلز میں آشکار ہوئی ہے وہ لرزہ خیز ہے۔ یہ محض ایک شخص کے جرائم کی داستان نہیں، یہ اس نظام کی کہانی ہے جہاں طاقت سوالوں سے بالا تر ہو جاتی ہے اور انصاف اکثر اجازت کا محتاج رہتا ہے۔
جیفری ایپسٹین کا نام آج دنیا بھر میں محض ایک فرد کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک علامت کے طور پر لیا جاتا ہے۔ ایک ایسی علامت جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ جب دولت، اثر و رسوخ اور تعلقات یکجا ہو جائیں تو قانون، اخلاقیات اور انسانی وقار کس حد تک بے بس ہو سکتے ہیں۔ ایپسٹین بظاہر ایک سرمایہ کار تھا، مگر اس کی اصل طاقت اس کے مالی ماڈل میں نہیں بلکہ اس غیر معمولی رسائی میں تھی جو اسے سیاست، شاہی خاندانوں، عالمی کاروباری اشرافیہ اور بااثر سماجی حلقوں تک حاصل تھی۔
ایپسٹین پر کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال، انسانی اسمگلنگ اور منظم جرائم کے سنگین الزامات تھے۔ یہ الزامات کسی ایک لمحے یا ایک واقعے تک محدود نہیں، بلکہ دہائیوں پر محیط بتائے جاتے ہیں۔ یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ جرم ہوا یا نہیں، کیونکہ متعدد متاثرہ خواتین کی گواہیاں اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ ان کے ساتھ ظلم ہوا۔ اصل سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ اتنے طویل عرصے تک کیسے چھپا رہا؟ اور اگر چھپا رہا تو کن طاقتور ہاتھوں کی وجہ سے؟
2008 میں جب ایپسٹین پہلی بار قانون کی گرفت میں آیا تو انصاف کے پیمانے پر ایک عجیب سا دھبہ لگا۔ ایک ایسا پلی بارگین، ایسی رعایتیں اور ایسی سہولتیں جو عام شہری کے تصور سے بھی باہر ہیں۔ اس مرحلے پر یہ تاثر گہرا ہوا کہ شاید قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے، مگر اس کے نفاذ کے راستے طاقت کے مطابق بدل جاتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ایپسٹین کا کیس ایک فرد کے جرم سے نکل کر نظامی ناکامی کی مثال بن گیا۔
2019 میں جب ایپسٹین کو دوبارہ گرفتار کیا گیا تو دنیا بھر میں یہ امید پیدا ہوئی کہ شاید اب سچ پوری شدت کے ساتھ سامنے آئے گا۔ متاثرہ خواتین کی آوازیں مضبوط ہو چکی تھیں، میڈیا کی توجہ غیر معمولی تھی اور عدالتی دباؤ پہلے سے کہیں زیادہ۔ مگر پھر ایک اور حیران کن موڑ آیا۔ ایپسٹین نیویارک کی ایک جیل میں مردہ پایا گیا۔ سرکاری مؤقف کے مطابق یہ خودکشی تھی، مگر خراب کیمرے، لاپرواہی کے الزامات اور متنازع پوسٹ مارٹم رپورٹس نے اس مؤقف کو خود سوالیہ نشان بنا دیا۔
یہاں سے ایپسٹین فائلز کی اصطلاح نے عالمی توجہ حاصل کی۔ یہ فائلز دراصل متاثرہ خواتین کی عدالتی گواہیاں، فلائٹ لاگز، رابطوں کے ریکارڈ اور وہ دستاویزات ہیں جو وقتاً فوقتاً عدالتوں کے ذریعے منظرِ عام پر آئیں۔ ان فائلز میں کئی بااثر نام شامل ہیں، مگر اس نکتے کو بار بار دہرانا ضروری ہے کہ کسی فائل میں نام آ جانا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔ مسئلہ ناموں کا نہیں، مسئلہ احتساب کے معیار کا ہے۔
گھسلین میکسویل، جو ایپسٹین کی قریبی ساتھی تھی، اس کہانی کا وہ کردار ہے جسے سزا تو ملی، مگر جس کے ساتھ یہ سوال بھی جڑا رہا کہ کیا ایک فرد کی سزا ایک پورے نیٹ ورک کا متبادل ہو سکتی ہے؟ اس کی سزا انصاف کی سمت ایک قدم ضرور ہے، مگر مکمل منزل نہیں۔ ایپسٹین فائلز ہمیں ایک تلخ حقیقت سے روشناس کراتی ہیں۔
جب طاقت احتساب سے آزاد ہو جائے، تو جرائم خاموشی کے سائے میں پروان چڑھتے ہیں اور متاثرہ آوازیں فائلوں اور رپورٹس میں دفن ہو جاتی ہیں۔ یہ معاملہ کسی ایک ملک یا کسی ایک معاشرے تک محدود نہیں۔ یہ پوری دنیا کے لیے ایک آئینہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اس آئینے میں خود کو دیکھنے کا، حوصلہ رکھتے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ اصل خطرہ ایپسٹین جیسے افراد نہیں ہوتے، اصل خطرہ وہ نظام ہوتا ہے جو ایسے افراد کو جنم دیتا ہے، بچاتا ہے اور پھر ضرورت پڑنے پر خاموشی سے منظر سے ہٹا دیتا ہے۔ بدقسمتی سے پوری دنیا میں طاقتور طبقات خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں، ایپسٹین فائلز کا مقدمہ آج بھی مکمل نہیں ہوا۔ شاید کبھی مکمل نہ ہو سکے۔ مگر یہ فائلز ہمیں یہ یاد دہانی ضرور کراتی ہیں کہ انصاف صرف قانون سے نہیں، جراتِ سوال سے زندہ رہتا ہے۔
ان جرائم میں ملوث تمام طاقتور اشخاص کو قانون کی گرفت میں لا کر قرار واقعی سزائیں دینا، نہایت ضروری ہو چکا ہے ورنہ دنیا مزید ناقابل رہائش ہو جائے گی۔

