Burhape Ki Tanhai Ka Noha
بڑھاپے کی تنہائی کا نوحہ

پاکستانی معاشرہ، جو کبھی اپنی مضبوط خاندانی اقدار اور بزرگوں کے سائے میں پروان چڑھنے والی تہذیب کے حوالے سے ایک مثالی شناخت رکھتا تھا، آج اپنی ہی تصویر بدلتا دیکھ رہا ہے۔ آج ہمارے سماجی منظر نامے پر ایک ایسا سوالیہ نشان ابھرا ہے جس کا جواب ڈھونڈتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے: "بڑھاپے میں باپ کا اپنی ہی دہلیز پر تنہا رہ جانا"۔ یہ محض ایک منظر نہیں، بلکہ ہمارے اخلاقی ڈھانچے کے گرتے ہوئے ستونوں کا ماتم ہے۔
اگر ہم ایک پاکستانی باپ کی زندگی کا مشاہدہ کریں، تو وہ محنت اور مشقت کی ایک ایسی داستان ہے جس کا کوئی دوسرا بدل نہیں۔ وہ تپتی دھوپ میں پسینہ بہاتا ہے، سرد راتوں میں سکون قربان کرتا ہے اور اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر اولاد کے کھلونے اور کتابیں خریدتا ہے۔ وہ اپنی جوانی کی طاقت معاش کی چکی میں اس لیے پیس دیتا ہے تاکہ اس کے بچوں کے ہاتھ نرم رہیں اور ان کے سر پر چھت ہو۔ اس کی پھٹی ہوئی ایڑیاں اور کام سے گھسے ہوئے ہاتھ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اس نے اپنی ہڈیاں جلا کر اولاد کے مستقبل کا چراغ روشن کیا ہے۔ مگر افسوس! وہی چراغ جب روشن ہوتا ہے، تو اکثر اسی باپ کو اندھیرے میں دھکیل دیتا ہے۔
عام طور پر جب کوئی بوڑھا باپ گھر کے کسی کونے میں خاموش بیٹھا نظر آتا ہے، تو معاشرہ بڑی عجلت میں اس کا ملبہ "بہو" یا "بیوی" کے رویوں پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتا ہے۔ بظاہر یہ الزام سچ کی ایک جھلک ہو سکتا ہے، مگر اس درد کی جڑیں اس سے کہیں زیادہ گہری اور تلخ ہیں۔
اس المیے کا ایک پوشیدہ رخ وہ خاموش جنگ ہے جو برسوں میاں بیوی کے درمیان جاری رہتی ہے۔ جب گھر کی چار دیواری میں احترام کا رشتہ دم توڑ جائے اور مکالمے کی جگہ طنز لے لے، تو اس کا زہر خاموشی سے بچوں کی رگوں میں اتر جاتا ہے۔ اگر ایک ماں، بچوں کی تربیت کے دوران باپ کی ان لازوال قربانیوں کو حقیر دکھائے، اس کے پسینے کی خوشبو کو تلخیوں میں بدل دے یا اولاد کے سامنے اس کی تضحیک کرے، تو وہ لاشعوری طور پر بچوں کے دل میں باپ کے قد کو بونا کر دیتی ہے۔ یوں ایک ایسے فاصلے کی بنیاد پڑتی ہے جو وقت کی دھول میں بڑھاپے تک ایک ناقابلِ عبور خلیج بن جاتا ہے۔
تاہم، تصویر کا دوسرا رخ بھی لہو رنگ ہے۔ کبھی کبھی باپ کا اپنا لہجہ، اس کی بے جا سختی اور گھر کے افراد سے جذباتی دوری بھی اسے اس مقام تک لے آتی ہے جہاں وہ ہجوم میں بھی تنہا رہ جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس کی عمر بھر کی مشقت اس ایک لغزش کی وجہ سے بھلا دی جانی چاہیے؟
آج کا پاکستانی معاشرہ ایک بڑی ساختی تبدیلی کی زد میں ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام کے بکھرتے ہوئے پیوند اور "نیوکلیئر فیملی" کی دوڑ نے بزرگوں کو ایک غیر فعال کردار بنا کر رکھ دیا ہے۔ وہ ہاتھ جو کبھی خاندان کی ناؤ چلاتے تھے، آج سہارے کے لیے کسی لرزتے ہوئے کندھے کی تلاش میں ہیں۔ معاشی چکی کی مشقت، مہنگائی کا طوفان اور شہروں کی ہجرت نے بیٹوں کو اس قدر بے بس کر دیا ہے کہ وہ نیت کے باوجود اپنے بوڑھے باپ کو وہ وقت نہیں دے پاتے جس کا وہ حقدار ہوتا ہے۔ یہ نیت کا کھوٹ نہیں، بلکہ حالات کی وہ جبریت ہے جو خون کے رشتوں کو بھی فاصلوں پر مجبور کر دیتی ہے۔
گھریلو تنازعات میں جب "اختیار کی جنگ" شروع ہوتی ہے، تو بیٹا اکثر ایک تماشائی بن کر رہ جاتا ہے۔ یاد رکھیے، اگر باپ اور اولاد کے درمیان رشتہ صرف "ضرورت" کا ہے اور اس میں اس کی پرانی مشقتوں کا اعتراف اور محبت نہیں، تو بڑھاپے کی تنہائی نوشتہ دیوار ہے۔
اصلاح کی راہ کیا ہے؟
قربانیوں کا اعتراف: گھروں میں باپ کے کردار اور اس کی ہڈیوں کو پگھلانے والی محنت کا تذکرہ فخر کے ساتھ کریں تاکہ بچوں کو احساس ہو کہ ان کی آسودگی کس کی محرومیوں کا نتیجہ ہے۔
بیٹے کا توازن: بیٹا اپنے باپ کی مشقت کا قرض کبھی اتار تو نہیں سکتا، لیکن اسے تنہائی سے بچا کر اس کے زخموں پر مرہم ضرور رکھ سکتا ہے۔
جذباتی سرمایہ کاری: بوڑھے باپ کو پیسے سے زیادہ آپ کے وقت اور گفتگو کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایک باپ اپنی زندگی کی تمام تر توانائیاں، اپنی جوانی کی تپش اور اپنے خوابوں کی راکھ صرف اس لیے کرتا ہے کہ اس کے بچوں کا مستقبل روشن ہو سکے۔ اگر اسی روشن مستقبل میں اس باپ کے لیے اندھیرا اور تنہائی ہے، تو یہ صرف ایک فرد کی ہار نہیں، بلکہ پورے معاشرے کا اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔
بڑھاپے کی یہ خاموش تنہائی کسی ایک صنف یا فرد کا جرم نہیں، یہ ہماری اجتماعی بے حسی ہے۔ اگر آج ہم نے اپنے گھروں میں محنت کش باپ کے احترام کی شمع روشن نہ کی، تو یاد رکھیے، کل یہی خاموشی اور یہی اذیت ہمارے اپنے دروازے پر دستک دینے کے لیے تیار کھڑی ہوگی۔

