Yemen Ki Jang: Mazhab, Siasat Aur Ilaqai Taqaton Katasadum
یمن کی جنگ: مذہب، سیاست اور علاقائی طاقتوں کا تصادم
یمن ایک لمبے عرصے سے داخلی اور خارجی طاقتوں کے نسلی اور مذہبی جھگڑوں کے کشمکش کا مرکز بنا ہوا ہے۔ صدارتی قیادت کونسل (PLC) جسے سعودی عرب اور عرب لیگ کی حمایت حاصل ہے یمن کے بعض علاقوں پہ کنٹرول رکھتی ہے۔ حوثی تحریک کا صنعا سمیت شمالی یمن کے بڑے حصے پہ قبضہ ہے جبکہ جنوبی عبوری کونسل (STC) نے پچھلے کچھ عرصے میں جنوب میں صدارتی قیادت کونسل (PLC) کے کئی علاقوں پہ قبضہ کرکے اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہے۔
جغرافیائی طور پہ یمن کے بڑے مذہبی گروہ زیدی شیعہ (حوثی) شمالی یمن میں ہے جب کہ سنی شافعی وسطی اور جنوبی یمن میں ہے۔ 1990 میں جنوبی اور شمالی یمن کے انضمام کے بعد، سعودی سلفی نظریہ کو زیدی علاقوں تک پھیلانے کی کوشش کی گئی۔ اس چیز نے زیدی اشرافیہ کو سیاسی طور پہ تنہا اور ان کی ثقافتی حیثیت کو خطرات سے دوچار کیا۔ یہ خدشہ آخرکار 2000 میں حوثی تحریک (انصار اللہ) کے قیام کا سبب بنا۔ یہ ایک نسلی تنازع نہیں تھا لیکن علاقائی طاقتوں نے مذہبی، مسلکی شناخت کو سیاست اور ایک ہتھیار کے طور پہ استعمال کیا۔
شمالی یمن (یمن عرب جمہوریہ) قبائلی طور پہ قدامت پسند اور سعودی عرب کا حامی ہے جبکہ جنوبی یمن (عوامی جمہوریہ یمن) اشتراکی، سیکولر، برطانوی نوآبادیاتی ورثے کا حامل تھا۔ 1990 کے شمالی، جنوبی یمن کے انضمام کے بعد طاقت کا مرکز صنعا بنا اور جنوب کی اشرافیہ کو پس منظر میں دھکیل دیا گیا۔ معاشی وسائل اور ملٹری پوزیشنز پہ شمالی قیادت قابض ہوگئی۔ 1994 کی خانہ جنگی جنوب کی شکست پہ منتج ہوئی جس کے بعد جنوبی علاقوں میں زمینوں پہ قبضے کئے گئے اور فوج اور بیوروکریسی سے ان علاقوں کے افراد کی بڑی تعداد میں بے دخلی کی گئی جس کے ردعمل میں ان علاقوں میں جنوبی تحریک(حراک) کے نام سے بنی جو 2017 کے بعد سے ساودرن ٹرانزیشنل کونسل (STC) کے نام سے متحرک ہے اور جنوبی علاقوں کی 1990 سے پہلے کی آزاد حیثیت میں بحالی چاہتی ہے۔
اسے متحدہ عرب امارات کی سیاسی، مالی اور عسکری حمایت حاصل رہی ہے۔ اس نے پچھلے سال کے آخری مہینے میں آزادی کی جانب دو سالہ عبوری مرحلے کا اعلان بھی کیا تھا۔ اس کا حضر موت، مہرا اور عدن جیسے تزویراتی اور وسائل سے مالا مال صوبوں پہ قبضہ ہے جن پہ پہلے سعودی حمایت یافتہ صدارتی قیادت کونسل (PLC) کا قبضہ تھا لیکن سعودی عرب کے دباو اور ریاض میں امن مذاکرات کے بعد متحدہ عرب امارات کی اس کی حمایت سے دست برداری، اپنی فوج کی واپسی اور تنظیم کے اندرونی انتشار کی وجہ سے اس کونسل کو تحلیل کر دیا گیا۔ اس کے سربراہ ایدروس الزبیدی کو پہلے صومالی لینڈ اور وہاں سے متحدہ عرب فرار ہونا پڑا۔ یہ صورت حال ثابت کرتی ہے کہ جنوب کا مسئلہ محض سیاسی رقابت نہیں بلکہ ایک علاقائی اور قومی مسئلہ ہے۔
سعودی عرب متحدہ عرب امارات پہ الزام لگاتا ہے کہ اس نے جنوبی عبوری کونسل (STC) کو جنوب کی آزادی کے لئے کام کرنے پہ ابھارا جس کو وہ اپنی علاقائی سالمیت کے لئے خطرہ سمجھتا ہے جبکہ وہ وہاں کی صدارتی کونسل (جس کو دنیا ایک نمائندہ حکومت تصور کرتی ہے) کو مانتی ہے جب کہ متحدہ عرب امارات کا موقف یہ ہے کہ اس نے عبوری کونسل کو صرف ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف سعودی قیادت میں بننے والے اتحاد کے ایک رکن کے طور پہ تربیت اور فوجی امداد دی نہ کہ اس کے بعد میں سامنے آنے والے علیحدگی پسندی پہ مبنی اس کے عزائم کی وجہ سے سعودی عرب یمن کے اتحاد اور داخلی استحکام کا بھرپور حمایتی ہے۔
2016 میں یمن کی حکومت کا ایرانی حمایت یافتہ شیعہ حوثیوں کے ہاتھوں تختہ الٹنے کے بعد سے وہ وہاں حوثیوں کے خلاف بننے والے عرب ملکوں کے فوجی اتحاد کی کارروائیوں کو لیڈ کرتا آ رہا ہے۔ وہ دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح صدارتی قیادت کونسل کو وہاں کی اصل نمائندہ حکومت سمجھتی ہے۔ وہ سمجھتے ہے کہ جنوبی عبوری کونسل (STC) نے صدارتی قیادت کونسل (PLC) کے علاقوں پہ قبضہ حوثیوں کے خلاف قائم اتحاد کی مشاورت کے بغیر کیا۔ یمن قضیے کا ایک اور طاقتور فریق اور 2016 سے دارالحکومت صنعا سمیت شمال کے اکثر علاقوں پہ قابض حوثی یمن میں سعودی اور مغربی اثر و نفوذ کے سخت مخالف اور ایران کی علاقائی پوزیشن کے حمایتی ہیں۔ وہ نظریاتی طور پہ امریکہ اور اسرائیل کے مخالف ہیں اور پچھلے دس سال میں علاقائی سیاست پہ اثر انداز ہونے کے لئے ہمیشہ بھرپور عسکری طاقت کے ساتھ بروئے کار آئے ہیں جس میں امریکی بحری جہازوں پہ حملے اور اسرائیل، حماس جنگ جیسے معاملات میں اپنی بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔
اگرچہ ان میں اور جنوبی عبوری کونسل (STC) میں کوئی اتحاد اور نظریاتی ہم آہنگی نہیں ہے۔ چونکہ یمن عرب دنیا کی انتہائی قبائلی ساخت رکھنے والے چند معاشروں میں سے ایک ہے اور افراد کی وفاداری اکثر ریاست کے بجائے قبیلے، علاقے اور فرقے کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس لئے 1990 کے انضمام کے بعد بننے والے نئے حکمران، قبائل سے جڑی اس ریاست کو ایک قومی ڈھانچے میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے۔ اس لئے یہ قبائلی شناخت، جنگی صف بندی، غیر ملکی اثر ورسوخ اور سرپرستی (سعودی عرب، ایران، متحدہ عرب امارات) کی نذر ہونے لگی، بیرونی طاقتوں کا یہ اثرو رسوخ یمن کی تقسیم در تقسیم کا سبب بنتا رہا۔
ایک طرف اگر سعودی عرب سنی اکثریت پہ اثر انداز ہوتا رہا اور ان کو حوثی زیدی شیعہ آبادی کے خلاف استعمال کرتا رہا تو دوسری طرف ایران حوثیوں کو مسلح کرکے ان کو مضبوط کرتا رہا، عرب امارات جنوب کی علاقائی شناخت کو ابھار کے ان کو ان کی سابقہ آزاد حیثیت کی بحالی کی ترغیب دیتا رہا جبکہ امریکہ اور مغرب، یمن کی علاقائی سالمیت اور انسداد دہشت گردی کے نام پہ اپنا بیانیہ وہاں پروان چڑھاتا رہا۔ ان سارے عوامل نے مل کے ایک ایسی داخلی تقسیم کو جو کبھی زیادہ ہموار اور لچک دار تھی کو انتہائی گنجلک اور پیچیدہ کر دیا جو کسی بھی حوالے سے یمن کے بہتر مستقبل کے حوالے سے حوصلہ افزا منظرنامہ نہیں ہے۔

