Thursday, 29 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Farhan
  4. Americi Crime Partner Europe Ka Tareek Anjan

Americi Crime Partner Europe Ka Tareek Anjan

امریکی کرائم پارٹنر یورپ کا تاریک انجام‎

یہ دنیا بھی کتنی عجیب ہے اور طاقت کتنا بے رحم کہ جو منافقت سے بھرے چہروں سے تہذیب و شائستگی اور انسانی اقدار کا مصنوعی نقاب کھینچ کر سب کو اس شدت کے ساتھ سر بازار ننگا کر دیتی ہے کہ بندہ کانوں کو ہاتھ لگائے وہ یورپ جو امریکہ کا اتحادی بن کر مسلم اور افریقی ممالک کو پاؤں تلے روند رہا تھا آج وہی اپنے ہی آقا کے جبر کا شکار ہوگیا ہے۔

عراق کو تہہ تیغ کیا گیا بے گناہ لاکھوں انسان بے رحمی سے کچلے گئے الزام تھا کہ عراقی حکومت کمیائی ہتھیار بنارہی ہے یورپ نے امریکہ کے اس سفاکانہ اقدام کی تحسین کی بھر پور ساتھ دیا اور اخر میں جب کوئی ثبوت ہی نہ ملا تو امریکہ نے فراخدلی کا مظاہرہ کرکے معافی مانگ لی اور یورپ نے اپنے آقا کی اس کسر نفسی کی خوب توصیف کی کہ اس قدر طاقت سے بہرہ مند ہوکر معذرت کرنا ہی عین تہذیب ہے۔

افغانستان کو کھنڈر بنا یاگیا افغان عوام لٹ گئے سینکڑوں مارے گئے ہزاروں اپاہج ہوگئے کیونکہ امریکہ سرکار کی خودمختاری پر حملہ ہوا تھا چند لوگ مارے گئے تھے یورپ نے دنیا کو یہ یقین دلایا کہ ایک امریکن کی زندگی شاید تیسری دنیا کے تمام انسانوں سے زیادہ قیمتی ہے اسی یورپ نے فقط ایک شخص کے جرم کی سزا پوری افغان قوم کو دی اور اس سفاکی کو امریکی استعمار کا دفاعی اقدام قرار دیا کہ اپنا دفاع اور اپنے لوگوں کے مبینہ قاتل کے جرم میں پوری قوم کو تہس نہس کرنا یورپ کے ہاں عین تہذیب ہے۔

لیبیا پر بم برسائے گئے ان کے نجات دہندہ صدر کو باغیوں کے ہاتھوں گھسیٹ گھسیٹ کر مارا گیا پورا ملک غارت گروں کے ہاتھوں لٹ گیا یورپ نے انسانی اقدار کی اس پامالی سے آنکھیں موند لی یمن کے وزیراعظم کو مار کر پورے ملک کو آتشیں اسلحوں سے آتش فشاں بنا دیا یورپ حرف ملامت تک لبوں پر نہ لایا۔

انسانی اقدار کے نام نہاد ان منافق بہروپیوں نے اسرائیل کا زہریلا خنجر عرب دنیا کے سینے میں پیوست کیا فلسطینیوں کی زندگیوں کو جہنم بنا دیا اسرائیل کی بدمعاشی اور قتل و غارتگری کو یہی یورپ سپورٹ کرتا رہا ان کی سیاہ کاریوں پر پردہ ڈالتا رہا سات دہائیوں سے جاری فلسطینی باشندوں کی مسلسل نسل کشی پر امریکی آقا کے ایماء پر اسرائیل جیسے شیطان کی پرورش کرکے اس مونسٹر کو ہر قسم کی مدد فراہم کرتا رہا تب اس منافق کو انسانی اقدار حق خودارادیت اور لوگوں کے جان مال اور عزت کی حرمت جیسے لفظوں سے کوئی واسطہ نہ تھا۔ ہر جرم اور ہر گناہ میں یہ امریکہ کا ساتھی رہا لیکن آج جب وقت نے پلٹا کھایا زمانے کی گردش نے ایک نئے زاویے کو جنم دیا اور قدرت کا قانون گردشِ ایام عمل میں آیا تو امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسا آشفتہ سر سریرائے سلطنت پر متمکن ہوگیا اور اس نے حیرت انگیز طور پر اپنے بے مثل وفادار ہمدم دیرینہ اور کرائم پارٹنر یورپ کو خوب رگید ڈالا۔

ٹرمپ نے جب یورپ کے زیر تسلط گرین لینڈ پر قبضے کی بات منہ سے نکالی تو پورا یورپ تلملا اٹھا۔ آج ان کو انسانی جان کی حرمت اور انسانی وقار کا تقدس یاد آگیا، آج وہ بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے ہیں کہ گرین لینڈ پر حق یورپ کا ہے اور یہ یورپ کی سالمیت اور علاقائی خودمختاری کے خلاف ہے۔ بندہ پوچھے کہ کیا فلسطینی سر زمین پر یہودیوں کی آبادکاری اور اسرائیل کا قیام فلسطین کی خود مختاری کے موافق تھا؟ کیا افغانستان پر حملہ کرکے وہاں قابض ہونا افغان عوام کی سالمیت کے عین مطابق تھا؟ کیا عراق میں لاکھوں لوگوں کی گردنیں دبوچنا انسانی جان کی حرمت کا تقاضا تھا؟ کیا غزہ میں قیامت خیز حملے انسانی اقدار کی پاسداری تھی؟

مذکورہ بالا واقعات سمیت لاکھوں جرائم پر یہی یورپ خاموش رہا بلکہ امریکہ کا ساتھی رہا اور نیٹو جیسے اتحاد بنا کر امریکی سرپرستی میں دنیا کو ظلمت کدہ بنائے رکھا لیکن آج جب نہ تو ٹرمپ نے گرین لینڈ پر حملہ کیا ہے نہ وہاں ایک پٹاخہ تک پھوڑا ہے اور نہ کسی چیونٹی تک کی جان گئی ہے لیکن آج وہی یورپ پوری دنیا میں دہائیاں دے رہا ہے۔ آج ان کو امریکہ ظالم لگ رہا ہے آج ان کو مروجہ ورلڈ آرڈر میں خامیاں نظر آرہی ہے اور اب بین الاقوامی قوانین کی بالادستی کے ساتھ اس کی پاسداری پر بھی خوب زور دیا جارہا ہے لیکن شاید اب اس مکار کرائم پارٹنر کی قمست کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ وقت کے بے رحم پنجے نے اس مکار کو آج ایک ایسے بند گلے میں پھنسا دیا ہے کہ جس سے نکلنا شاید اب بہت مشکل ہوں جو ظلم و جبر کے مرتکبین ہوتے ہیں ان کا انجام تخریب سے پر اور تاریکی اور تباہی سے عبارت ہوتا ہے یہی تاریخ کا سبق اور قدرت کا امرِ فیصل ہے۔

Check Also

Kahan Kahan Aur Kis Kis Ne Pan Khaye

By Azhar Hussain Azmi