Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Sultan Ahmed
  4. Mera Jism

Mera Jism

میرا جسم

سب سے پہلے جسم کے بارے میں کچھ حقائق پر نظر ڈالتے ہیں۔ ہمارے جسم میں سب سے زیادہ آکسیجن استعمال کرنے والا حصہ دماغ ہے جو پورے جسم کی 20 فیصد آکسیجن یا انرجی استعمال کرتا ہے جبکہ اس کا وزن جسم کے دیگر اعضاء کے مقابلے میں صرف دو فیصد ہے۔ اس دماغ میں تقریباََ 86 ارب نیورانز موجود ہیں جو معلومات کو پروسس کرتے ہیں دنیاوی اعتبار سے پروسیس کرنے کی یہ صلاحیت آج کے سپر کمپیوٹر سے بہت زیادہ تیز ہے کیونکہ اس میں کثیرالجہتی پائی جاتی ہے۔

اسی طرح آنکھ کی مثال لے لیجیے جو تقریباََ ایک کروڑ رنگوں میں فرق کر سکتی ہے اور یہ انسانی آنکھ ایک سیکنڈ میں 50 مختلف چیزوں پر بیک وقت فوکس کر سکتی ہے انسانی آنکھ 576 میگا پکسل اور یہ ڈھائی ملین نوری سال تک بغیر کسی آلے کی مدد کے دیکھ سکتی ہے۔

کان حیرت انگیز صلاحیتوں کا مالک ہے جو نہ صرف چار لاکھ آوازیں پہچان سکتا ہے بلکہ ایٹم جتنی معمولی حرکت بھی معلوم کر سکتا ہے۔ انسانی کانوں میں صفائی کا خودکار نظام موجود ہے۔ یہ ہمارے جسم کا نیویگیشن سسٹم ہے جس سے توازن برقرار رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ یہ تو ایک عام انسان کے کان کی سماعت کا معاملہ ہے سورہ نمل میں حضرت سلیمانؑ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے چیونٹی کی آواز سنی۔

اسی طرح انسانی ناک 10 کھرب مہکوں کو پہچان سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ گرد و غبار کے لیے قدرتی فلٹر کا کام بھی کرتی ہے۔ اسی طرح ایک عام انسان دن بھر میں 20 سے 25 ہزار سانس لیتا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے پھیپھڑے ایک دن میں 10 ہزار سے 11 ہزار لیٹر ہوا پروسس کرتے ہیں۔ آپ کو یہاں یہ جان کر زبردست حیرت ہوگی کہ ہمارے پھیپھڑوں کے اندر سانس کی چھوٹی چھوٹی نالیاں ہوتی ہیں جن کی تعداد تقریباََ 300 سے 500 ملین ہوتی ہے اور یہ تھیلی نما نالیاں ایک جال میں لپٹی ہوتی ہیں ان چھوٹی خون کی نالیوں کی دیواریں بہت پتلی ہوتی ہیں تاکہ اکسیجن اور کاربن ڈائی اکسائیڈ آسانی سے گزر سکیں اگر ان نالیوں کو چادر کی طرح زمین پر بچھا دیا جائے تو یہ ایک بیڈمنٹن کورٹ کے برابر ہے۔ تو تم دونوں اپنے رب کی کونسی نعمت جھٹلاؤ گے۔

چلیں آگے دل کی طرف بڑھتے ہیں جو جسم کا سب سے اہم رکن ہے۔ یہ دل ایک دن میں ایک لاکھ مرتبہ دھڑکتا ہے اور سات سے ساڑھے سات ہزار لیٹر خون روزانہ پمپ کرتا ہے۔ یہ تین بھرے ہوئے ٹینکرکے برابر ہے مگر یہاں یہ ایک چھوٹا سا دل جسم کے اندر پیوست بغیر رکے خون پمپ کیے جا رہا ہے اور ایک سیکنڈ کے لیے بھی رکتا نہیں نہ اسے آرام کی طلب ہے رک گیا تو کھیل ختم۔

دل کے بعد جگر کا ذکر ہو جائے۔ جگر ہمارے جسم میں سب سے زیادہ محنت کرنے والا عضو ہے۔ آپ کو یہ جان کر بھی بہت حیرت ہوگی کہ جگر 500 سے زیادہ مختلف کام سر انجام دیتا ہے اور یہ کام وہ ہیں جن کی میڈیکل سائنس نے اب تک کھوج لگائی ہے مثلاََ شراب منشیات اور جسمانی فضلے کو نکالنا، خون کو صاف کرنا چربی ہضم کرنے میں مدد دینا، ضرورت پڑنے پر توانائی ذخیرہ کرنا پروٹین بنانا کولیسٹرول اور ہارمونز کو کنٹرول کرنا۔ تو تم دونوں اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔ اب بات ہو جائے کچھ پیٹ یا معدہ کی جس کے گرد ہماری زندگی گھومتی ہے صبح سے شام تک ہم اسی کو بھرنے کی فکر میں در بدر پھرتے ہیں ہر خوشی غم پر اسی کو بھرنے کی فکر ہے جبکہ اس معدہ میں موجود تیزاب اس قدر طاقتور ہے کہ المونیم زنک اور لوہے وغیرہ جیسی دھاتوں کو بھی گھلا سکتا ہے تبھی تو یہ کمبخت کبھی "بھرتا" نہیں ہے اسے صرف قبر کی مٹی بھرے گی۔ اب یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب معدہ اتنا طاقتور تیزاب رکھتا ہے تو یہ خود کو کیوں نہیں گھلا دیتا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ معدے کی حفاظت ایک موٹی بلغم کی پرت کرتی ہے اگر یہ پرت نہ ہو تو تیزاب معدے کو بھی گھلا دے۔ معدہ میں ایک سے ڈیڑھ لیٹر تک خوراک ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے (مگر دماغ کی لالچ میں اس کی کوئی حد نہیں)۔

ہمارے جسم میں لبلبہ نامی عضو بھی موجود ہے جو خاموشی سے اپنا کام کرتا ہے مگر یہ ہماری بقا کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ لبلبہ انسولین پیدا کرتا ہے جو خون میں شکر کی مقدار کو کنٹرول کرتی ہے یہ ایسے انزائمز بھی خارج کرتا ہے جو خوراک کو توڑنے میں مدد دیتے ہیں۔ چھوٹی آنت کی لمبائی تقریباََ چھ سے سات میٹر تک ہوتی ہے بڑی آنت پانی جذب کرتی ہے اور فضلہ بناتی ہے۔ آنتوں میں کھربوں بیکٹیریا موجود ہیں جو ہاضمے میں مدد دیتے ہیں۔ پھر ہمارے جسم میں گردے ہیں جو تقریباََ 50 گیلن یعنی 180 لیٹر خون صاف کرتے ہیں روزانہ بغیر کسی ناغے کے۔ ان کا سائز محض مٹھی جتنا ہوتا ہے۔ گردے نہ صرف فضلہ نکالتے ہیں بلکہ بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے والا ہارمون بھی بناتے ہیں گردے وٹامن ڈی کو فعال شکل میں تبدیل کرتے ہیں جو ہڈیوں کو مضبوط رکھنے کے لیے بہت ضروری ہے اور حیرت انگیز طور پر اگر ایک گردہ نکال دیا جائے یا وہ ناکارہ ہو جائے تو دوسرا گردہ بڑا ہو کر یعنی اس کا سائز بڑھ کر زیادہ محنت کرنے لگتے ہیں اور 75 فیصد تک کام سنبھال لیتا ہے تو تم دونوں اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

جسم میں 206 ہڈیاں ہیں ذرا یہاں ایک منٹ کے لیے تصور تو کریں اس مصور نے 206 ہڈیاں کیسے شاندار انداز میں چھ ساڑھے چھ فٹ کے بدن میں پیوست کردیں وہ تو بس کن فرماتا ہے تو ہو جاتا ہے اور صرف ایک ہاتھ میں 27 ہڈیاں ہیں یعنی ہمارے جسم کی کل ہڈیوں کا 25 فیصد سے زیادہ حصہ صرف ہمارے ہاتھوں میں موجود ہے۔

ہمارے فنگر پرنٹس میں 17 ہزار محسوس کرنے والے اعصاب ہوتے ہیں ہاتھ میں انگوٹھے کا کام تقریباََ 40 سے 50 فیصد ہے یعنی پکڑنا سنبھالنا مضبوطی بنانا انگوٹھے کے بغیر تقریباََ ناممکن۔ یہی وجہ ہے کہ گئے وقتوں میں سمجھدار بادشاہ انگوٹھا کاٹنے کی سزا دے کر ہاتھ ناکارہ بنا دیتے تھے۔ اسی طرح جسم میں مسلز یا پٹھےانجن کا کام کرتے ہیں یہ ہر حرکت کو ممکن بناتے ہیں جسم کو سیدھا رکھنا سانس لینے اور خون پمپ کرنے جیسی اہم سرگرمیاں انجام دیتے ہیں ہمارے جسم میں 600 سے زیادہ مسلز ہیں اور یہ جسم کے کل وزن کا 40 سے 50 فیصد بنتے ہیں۔ صرف ایک قدم چلنے میں 200 مسلز استعمال ہوتے ہیں۔ قدرت نے انسانی چہرے کو خوبصورتی کے ساتھ ساتھ الفاظ ادا کیے بغیر بھی کلام کرنے کی صلاحیت دے رکھی ہے۔ ہمارے چہرے میں تقریباََ 40 سے 50 مسلز ہوتے ہیں ان میں 20 سے 25 مسلز تاثرات پیدا کرنے کے کام آتے ہیں جیسے دکھ تکلیف خوشی حیرت وغیرہ۔

اب بات ہو جائے بظاہر ایک ایسی چیز کی جسے ہم قابل توجہ نہیں سمجھتے اور تھوک دیتے ہیں۔ اوسطا ایک عام انسان ایک دن میں ایک سے ڈیڑھ لیٹر تھوک پیدا کرتا ہے یا بناتا ہے۔ ہم پوری زندگی جتنا تھوک بناتے ہیں یا تھوک دیتے ہیں یہ دو بڑے سویمنگ پول بھرنے کے لیے کافی ہے تھوک میں 99 فیصد پانی اور ایک فیصد دیگر اجزا شامل ہیں اور یہ ایک فیصد بھی نہایت فائدہ مند ہے۔ اس ایک فیصد میں انزائمز شامل ہیں جو نشاستا کو شکر میں تبدیل کرتے ہیں اور چکنائی کو توڑتے ہیں پھر اسی ایک فیصد میں جراثیم سے لڑنے والے اجزا شامل ہیں جو بیکٹیریا کو ختم کرتے ہیں جسم کو جراثیم سے بچاتے ہیں اور یہی ایک فیصد میوکس یعنی بلغم رکھتا ہے جس سے کھانا آسانی سے چبانے اور نگلنے میں مدد ملتی ہے پھر اسی ایک فیصد میں معدنی نمکیات ہیں جو منہ کا توازن برقرار رکھتے ہیں اور دانتوں کو خرابی سے بچاتے ہیں۔

اب ذرا جسم میں موجود خون کی نالیاں دیکھیں جو کہ تین قسم کی ہیں یہ دل سے خون جسم میں لے جاتی اور واپس لاتی ہیں یہ اس قدر پیچیدگی والا نظام ہے جو بذات خود گواہی دے رہا ہے کہ اسے کسی ایک ذات نے تخلیق اور ترتیب دیا ہے۔ ان کو سیدھا کرکے پھیلا دیا جائے تو ان کی لمبائی تقریباََ ایک لاکھ کلومیٹر ہوگی اور یہ ہماری زمین جس کا گھیراؤ 40 ہزار کلومیٹر تک ہے اس کے گرد دو چکر لگا سکتی ہیں! جی ہاں یہ سائنسی طور پر بالکل درست ہے۔ تو تم دونوں اپنے رب کی کون سی نعمت جھٹلاؤ گے۔

یہ تو بیان ہوا میرے اور آپ کے جسم کے اہم اعضاء کے کمالات کا۔ ذرا سوچیں تو سہی جب ایک عام انسان کا جسم اور جسم کا ہر عضو عجائبات سے بھرپور ہے اپنے آپ میں حیرتوں کا سمندر ہے اس کا دل اتنا طاقتور ہے آنکھ کیسی زبردست بینائی رکھتی ہے کان کی سماعت الگ جہان لگتا ہے اور تھوک تک فائدہ اور اثر رکھتا ہے تو انسانوں میں سب سے اشرف نبیوں کے سردار انبیا کے تاجدار خاتم الانبیاء ﷺ کے جسم اطہر کا عالم کیا ہوگا وہ کیوں کر شاندار معجزوں کا حامل نہ ہوگا اسے خدا نے ہمارے جیسا کیوں بنایا ہوگا۔ ان کے مبارک اور طاقتور قلب نے قرآن کا بار ایسے ہی تو نہیں اٹھا لیا جسے پہاڑ تک اٹھانے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔

کل کائنات ان کی فقط ایک نظر کی طالب ہے وہ آنکھ کہ جس نے خدا کا دیدار کیا۔ انھیں (ایمان کی حالت میں) دیکھ کر لوگ صحابی ہو گئے۔ ان کی مبارک انگلیوں سے پانی کیوں نہ جاری ہوتا۔ ان کے وضو کے پانی کے قطرے صحابہ زمین پر گرنے نہیں دیتے تھے، ان کی سماعت پر کیوں نا سلام ہوں جو دور و نزدیک یکساں سنتے۔ ان کے پسینے میں کیوں نہ مہک ہو وہ کیوں نہ معطر ہو، ان کے سفید موتیوں سے بھی بہتر دندان مبارک سے راتیں کیوں نہ روشن ہوں۔ ان کا لعاب کیوں کر نہ ٹوٹے ہاتھ جوڑے نکلی ہوئی آنکھ لگا دے، خشک کنواں سیراب کر دے اور بے شمار برکات رکھتا ہو کہ وہ نبی سراپا رحمت ہیں سر کے بال سے لے کر پاؤں مبارک کے ناخن تک کامل اور کمالات کا پیکر۔

اس کے علاوہ بھی جسم میں بال کھال ناخن دانت انگلیاں خون وغیرہ سب ہی اہم ہیں کھال یا جلد جسم کا سب سے بڑا عضو جس میں کروڑوں اربوں خلیے موجود، ہر منٹ میں 30 سے 40 ہزار خلیے جھڑ جاتے ہیں ہماری جلد خود کو تقریباََ 27 سے 30 دن بعد نیا کر لیتی ہے۔ ہے نہ مزے کی بات۔ دانت جسم کا سب سے مضبوط عضو، حتی کے ہڈی سے بھی مضبوط۔

ایک بڑا پلانٹ زیادہ سے زیادہ کتنے افعال سر انجام دے سکتا ہے اور اسے چلانے سے پہلے ہر پرزے کو صحیح جگہ ہونا ضروری، پانی اور آئل کی مقدار، ہر پرزے کا سلامت ہونا، چلانے کے لیے بجلی یا گیس کی ضرورت غرض ایک پلانٹ کو رواں رکھنے کے لیے کئی جتن درکار بہت سی توانائی کی ضرورت الگ۔ تو سوچیں چھ فٹ کے جسم میں اتنا کچھ موجود ہے جو اپنے آپ میں ایک پلانٹ ہے ان پلانٹس کو کیا کسی مینٹینینس کسی دیکھ بھال کی ضرورت نہیں؟ اسے خوراک چاہیے اسے پانی چاہئے، اسے آکسیجن کی ضرورت، اسے دھوپ کی بھی ضرورت، یہ سردی بھی برداشت کر لے گرمی میں بھی گزارا کر لے۔ اسے بھی دیکھ بھال کی ضرورت، مرمت کی حاجت۔ پلانٹ نے دن رات لگاتار تو کام نہیں کرنا کبھی تو بند ہونا سالانہ مینٹینینس کروانی، شٹ ڈاؤن ہونا۔ مگر ہمارے جسم نے تو لگاتار کام کرنا جسم کے کسی پرزے نے ریسٹ نہیں کرنا، نہ سالانہ مینٹینینس کروانی کہ اسے بند کر دیا جائے آرام دیا جائے۔ تو ہم سوچیں ہم اس عظیم عجائبات سے بھرپور جسم کو فٹ رکھنے کے لیے کیا کرتے ہیں اور مزے کی بات جسم کے اندر جو ہمارے حصے ہیں وہ ہمارے کنٹرول سے باہر ہیں وہ آٹومیٹیکل نظام کے تحت اپنا اپنا کام ایمانداری سے سر انجام دے رہے ہیں۔ وہ چھٹی نہیں کرتے وہ آرام نہیں مانگتے مگر جسم کا ہر حصہ وقت آنے پر تاوان ضرور لیتا ہے۔ ہم خوراک کے نام پر اپنے شاندار جسم کو جو کہ کسی بھی بڑے پلانٹ یا مشین سے زیادہ پیچیدہ نظام رکھتا ہے کیا کھلا پلا رہے ہیں، کیا فاسٹ فوڈ یا کولڈ ڈرنکس یا چینی کا بے تحاشہ استعمال ہمارے جسم کے لائق ہیں؟ کیا ہم اسے حرکت میں رکھتے ہیں یہ تو بنا ہی کام کے لیے ہے سرگرمی کے لیے ہے ورنہ ہر عبادت جسمانی مشقت والی نہ ہوتی۔

آفس میں بیٹھے ہیں تو حرکت نہیں کرنی پانی بھی کوئی پلا دے ہماری آرام پسندی اور آسائشوں سے محبت ہمارے جسم کو کیسے کیسے نقصان پہنچا رہی ہے۔ قدرت کے اس شاہکار تحفہ کو حرکت میں رکھنا ضروری تبھی پٹھے اور خون رواں رہیں گے دل جوان رہے گا۔ یہ جو آئے روز ہم دیکھتے ہیں اور سنتے ہیں جوان لوگ دل کا دورہ پڑنے سے نروس سسٹم کا بریک ڈاؤن ہونے سے گردے فیل ہونے سے شوگر بڑھنے سے فوت ہو جاتے ہیں تو یہ سب ایک دن میں نہیں ہوتا اندر ٹوٹ پھوٹ ہو چکی ہوتی ہے ہمارے سامنے تو نتیجہ آتا ہے۔

حادثاتی طور پر موت کا شکار ہونا ایک الگ بات ہے اور جو حادثات روز جسم کے اندر ہو رہے ہیں ان کا کیا؟ ان کا احساس کرنا اور خیال رکھنا زیادہ اہم ہے۔ اس قیمتی سرمائے کو چیک کرنے کے لیے ہر عضو کا الگ ڈاکٹر ہے دماغ کا ڈاکٹر ہڈی نہیں دیکھتا، دل کا سرجن آنکھیں ٹیسٹ نہیں کرے گا۔ ای این ٹی کا سپیشلسٹ گردے کے نظام کو نہیں جانتا۔ جلد اور بالوں کا اسپیشلسٹ نفسیاتی عارضے کا علاج نہیں کر سکتا۔ ذرا تصور کریں ہمارا جسم کتنا پیچیدہ ہے کہ اس کے ہر ہر نظام کے لیے الگ الگ ماہر موجود ہے تاکہ غلطی کی گنجائش نہ بچے مگر افسوس! ہم نے اپنے قیمتی ترین جسم کو ایک مشین سمجھ لیا ہے کہ بس استعمال کرتے رہو اور اس کی دیکھ بھال کی کوئی فکر نہیں۔

جب ہم اپنے جسم کا خیال ہی نہیں رکھیں گے تو جذبہ شکر کیسے پیدا ہوگا اور کب پیدا ہوگا جسم کے حصوں کی زکوۃ کب دی جائے گی، اتنے شاندار نظام پر ہر وقت سجدے میں گڑگڑا کر بھی اگر رب کا شکر ادا کریں تو یقین جانیں حق ادا نہیں ہو سکتا جب کہ وہ خالق ہم سے اس کا تقاضا بھی نہیں کرتا وہ تو فقط اتنا چاہتا ہے کہ ہم اس کے دیے ہوئے جسم کو اس کی اطاعت میں گزاریں اس کی فرمانبرداری کریں اور مخلوق کو اس سے فائدہ پہنچائیں کیوں کہ یہ اس نے بنایا ہے اور اس نے اسی کی طرف پلٹنا ہے یہ اسی کی امانت ہے۔ کیا اب بھی یہ کہنے کی گنجائش باقی ہے میرا جسم میری مرضی؟

نوٹ: اس تحریر میں موجود حقائق کی جانچ کے لیے اے آئی ٹولز کا استعمال کیا گیا ہے۔

Check Also

Tufan e Nooh: Aik Global Reset

By Saleem Zaman