Karam
کرم

اس سڑک سے گزرنا میرا روز کا معمول تھا اور عام طور پر ٹریفک بھی معمول کے مطابق ہوتا تھا مگر وہ ہفتے کی رات تھی اور اس دن غیر معمولی رش اور گاڑی کے ساتھ گاڑی جڑی ہوئی تھی۔ پیدل چلنا بھی دشوار تھا۔ موٹر سائکل والے ان حالات میں ہر جگہ کو سڑک تصور کر لیتے ہیں اور ایک گاڑی کی وجہ سے لمبی لائن بن جاتی ہے۔ کراچی شہر میں جب ٹریفک جام ہوتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پورا شہر میرے ساتھ سڑکوں پر ہے، اسٹیشن جاؤ تو ایسے لگتا ہے آدھا شہر شہر سے باہر جا رہا ہے اور باقی کا آدھا انہیں چھوڑنے آیا ہوا ہے، شاپنگ مال چلے جائیں لگتا ہے پورا شہر مالدار ہے ملک میں کوئی مہنگائی نہیں اور سب کہانیوں کے اس بادشاہ کے دور میں رہتے ہیں جس کے دور میں سب ہنسی خوشی زندگی گزارتے تھے۔
ہمارے ہاں محض اپنی لین میں نہ رہنے سے ٹریفک کے مسائل بنتے ہیں اگر گاڑیاں اور موٹر سائیکل والے اپنی اپنی لین میں رہیں تو اتنا ذلیل نہ ہونا پڑے اور نہ ہی کھڑے کھڑے پیٹرول جیسی نایاب شے ضائع ہو پر کیا کریں یہ دبئی یا لندن تو نہیں ہم تو آزاد ہیں اور آزاد ملک ہم نے بنایا ہی اس لیے ہے کہ ہر کام کی آزادی ہو بولے تو کوئی روک ٹوک نہ ہو۔ تقریب کرنی ہے تو جہاں چاہو تمبو لگا دو، کہیں بھی تھوک دیا، جب چاہا سڑک کھود کر پانی کی پائپ کی مرمت کروا لی یہ نئی پائپ ڈال دی، رونگ سائیڈ گاڑی چلانا تو اب رائٹ لگنے لگا ہے۔
ہمارے ہاں ٹریفک جام میں ویسے ہی لوگ جلدی میں ہوتے ہیں، حادثہ دوسری سڑک پر ہو تو بھی اس سڑک والے گاڑی روک کر وہ تماشہ ضرور دیکھیں گے، مطلب آپ خود ٹریفک جام کریں تو حلال ہے دوسرا آپ کی گاڑی نہ روکے۔ ٹریفک جام میں پھنسنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان سوچ سکتا ہے کہ اس کے پاس وقت ہی وقت ہے سوچنا وہ لگژری ہے جس کے ہم قریب بھی نہیں بھٹکتے مگر ٹریفک میں پھنسنے کی وجہ سے جو غصہ آتا ہے، شور ہوتا ہے اس کی وجہ سے انسان سوچنے جیسی لگژری پر توجہ نہیں دیتا۔
میں بھی اس دن پھنس گیا تھا اور بری طرح پھنس گیا تھا مگر پھر ذہن میں خیال آیا کہ میں روز یہاں سے بڑی آسانی سے گزر جاتا ہوں مگر شکر ادا نہیں کرتا۔ کیا یہ نعمت نہیں کہ میں روز سکون سے سفر کرکے اپنے کام کی جگہ پہنچ جاتا ہوں وہاں سے واپس خیر و عافیت کے ساتھ گھر پہنچ جاتا ہوں۔ ہم ان چھوٹی چھوٹی نعمتوں کو نعمت ہی نہیں سمجھتے۔ ہم سمجھتے ہیں کسی حادثے سے بچ گئے، یا زخمی ہو گئے اور جان بچ گئی تو یہ اللہ کا بڑا کرم ہوگیا۔ یقیناََ یہ اللہ کا بہت بڑا کرم ہے مگر اس کے چھوٹے چھوٹے کرم کی بارش بھی روز ہم پر ہوتی ہے اس کے دربار میں کوئی کرم چھوٹا کیسے ہو سکتا ہے بس ہمیں علم نہیں۔
یہ ہمارے دنیاوی نقطہ نظر سے چھوٹے چھوٹے کرم ہو سکتے ہیں مگر خدا کی عطا کیوں کر چھوٹی ہو سکتی ہے۔ خدا کا کوئی بھی کرم چھوٹا نہیں ہوتا یہ ہماری سوچ ہے جو اسے چھوٹا یا بڑا سمجھتی ہے چونکہ ہم نہیں جانتے کہ آنے والے لمحے میں ہمارے لیے کیا لکھا ہے، کہاں کون سی مصیبت ہمارا انتظار کر رہی ہے اس لیے ہم بڑی مصیبت سے بچنے پر ہی اسے خدا کا کرم سمجھتے ہیں۔ یہ بے خبری بھی کیسی شاندار نعمت ہے قدرت کی ورنہ دنیا کے نظام پر سکتہ طاری ہوجائے۔ ہر چیز خدا کی دین ہے ہر طاقت قوت صلاحیت اسی کی دی ہوئی ہے۔
وہ ہر آن ہر لمحہ ہم پر اپنی نعمتیں لٹا رہا ہے کیونکہ اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہے مگر ہم انسان چونکہ فطرتا لالچی ہیں اس لیے بڑی چیزوں پر نظر رکھتے ہیں، کس کے پاس بڑا گھر ہے اچھی نوکری ہے، سرکاری نوکری ہے، زمین ہے، دولت ہے جائیداد ہے صحت مند اولاد ہے اور بچے سیٹ ہو گئے ہیں، کینیڈا آسٹریلیا یو کے میں ہیں، اونچے خاندان سے بہو آئی ہے رشتہ باہر لگ گیا ہے زندگی آسائش والی ہے تو ہمارے منہ سے نکلتا ہے اس پر اللہ کا بڑا کرم ہے، جس کے پاس ان سب کی قلت ہے کیا وہ اللہ کے کرم سے محروم ہے؟ کیا اس کی یہ آزمائش اس کے لیے اللہ کا کرم نہیں؟
دنیا میں بہت سے کامیاب لوگ نیچے سے اوپر آئے ہیں آزمائشوں سے لڑ کر کامیاب ہوئے۔ دنیا کے بڑے بڑے لیڈر، کھلاڑی، لکھاری، کاروباری لوگ، بہت سے عام لوگ اور سب سے بڑھ کر اللہ کے نیک اور برگزیدہ بندے۔ اس کی بیشمار دی ہوئی صلاحیتوں کا استمعال کرکے کامیاب ہوئے ورنہ ہر زی روح ہر سانس کے لیے بھی محتاج ہے اس ہستی کی جس نے مفت میں آکسیجن کا بندوبست زمین پر پہلے کیا اور انسان کو بعد میں یہاں بھیجا۔ کیا انبیا جیسی ہستیوں نے آزمائشیں نہیں دیکھیں؟ کیا ان سب نے آزمائش پر صبر اور قناعت نہیں کی اور ان آزمائشوں کے باوجود رب کا شکر ادا نہیں کیا۔
دنیا میں آج آسائش ہے ترقی ہے تو اس کے پیچھے کوئی مسئلہ کوئی مصیبت کوئی پریشانی تھی کیونکہ ضرورت ایجاد کی ماں ہوا کرتی ہے تو یہ آزمائشیں بھی رب کے کرم ہی ہیں ورنہ ہم انسان تو سستی اور کاہلی کے اس اعلی منصب پر فائض ہیں کہ جس میں کھانا کھلانے اور پانی پلانے تک کے لیے ملازمین رکھے جاتے ہیں۔ ہم نے ذہن بنا لیا ہے کہ خدا کا کرم اس کی رحمت اور برکت محض مرتبے، امارت، صحت مند اولاد، اعلی رہن سہن، آسائشوں کی فراوانی، بہترین دماغ عطا کرنے میں پائی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں تو بڑے آرام سے ایک ہی سانس میں کسی کے بارے میں کہہ دیا جاتا ہے کہ اس میں یہ صلاحیت خداداد ہے۔ God Gifted. اللہ کے بندو! کیا کوئی اور ذات بھی ہے جو صلاحیتیں بانٹ رہی ہے؟ کیا کسی میں کوئی صلاحیت یا ٹیلنٹ man gifted بھی ہوتا ہے؟ یا اس کے کارخانے لگے ہوئے ہیں دنیا میں یا ٹیلنٹ کھیتوں میں اگایا جا رہا ہے۔ جس کے کرم سے ہم روز صبح اٹھ کر نئی صبح دیکھتے ہیں تازہ ہوا میں سانس لیتے ہیں دن بھر اسی کی دی ہوئی صلاحیتوں کا استعمال کرکے اپنی معاش کا بندوبست کرتے ہیں اور رات کو بغیر گولی کھائے سو جاتے ہیں۔
کیا یہ اس کا کرم نہیں کہ اس نے انسان بنا دیا پتھر لکڑی یا گوبر بنا دیتا تو کوئی ہے جو اس سے پوچھنے کی جسارت کرتا اور پھر انسان کو اشرف المخلوقات قرار دیا۔ پھر تمام نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت اپنے آخری نبی ﷺ کی امت بنا دیا۔ اس کے کرم کی کوئی حد نہیں اور انسان کرم اور نعمتیں بھی بینک کے بیلنس کی طرح گن کر رکھتا ہے۔ ہم نے اپنی مرضی کے کرم بنائے ہوئے ہیں لڑکا ہوا تو اللّه کا کرم لڑکی ہوئی تو لوگ مبارک باد دینے میں بھی جھجھکتے ہیں، اولاد اچھے کالج میں یونیورسٹی میں پڑھے تو کرم، مدرسے میں پڑھے حفظ کر لے عالم کورس میں داخلہ لے تو سوال کیا جاتا ہے یہ کرے گا کیا، کمائے گا کتنا، اس کی شادی کیسے ہوگی؟
اس نے دین کما لیا اسے کرم اور نعمت نہیں سمجھا جاتا۔ شکر کا پہلو یکسر نظر انداز۔ اب تو گلہ ہوتا ہے تو اس بات پر کے مجھے کم ملا میں تو اس سے کہیں زیادہ کا مستحق تھا۔ اس سے اتنا مل گیا اس کی اوقات ہی کیا ہے مطلب خدا کی دین اور خدا کی تقسیم پر اعتراض۔ اسے گلہ نہیں شکر پسند ہے عاجزی پسند ہے اور یہی کرم اور نعمت میں اضافے کا نسخہ۔ حضرت انسان بھی عجب "سمجھدار" بنا پھرتا ہے "کیمرے کی انکھ دیکھ رہی ہے" سے تو احتیاط کرتا ہے ڈرتا ہے مگر 24/7 قدرت کا جو سرویلنس سسٹم ہمارے ساتھ موجود ہے وہ اس کے دھیان میں نہیں ہے جو کچھ اس کی زندگی کی کتاب میں لکھا جا رہا ہے اس میں لاپرواہی برتتا ہے اور کرم پر شکرکے بجائے لمبے چوڑے بھاشن دیتا ہے شکوے شکایتیں کرتا ہے تو پھر انتظار کرے نعمت کے چھن جانے کا کیونکہ کفران نعمت سے تو من و سلوی جیسی نعمت بھی واپس اٹھا لی گئی تھی۔

