Marka e Haq
معرکہ حق

2018 سے مئی 2025 تک کا عرصہ پاکستان کی سفارتی اور سٹریٹیجک تاریخ کا وہ نوحہ ہے جس نے قوم کے وقار کو عالمی منڈی میں ایک سوالیہ نشان بنا کر رکھ دیا۔ یہ وہ دور تھا جب مملکتِ خداداد کی شناخت ایک طاقتور ایٹمی قوت کے بجائے ایک ایسے نحیف وجود کی صورت میں ابھری جو اپنے فیصلوں میں خود مختار نہ رہا۔ جب پلوامہ اور بالاکوٹ کے بعد ابھی نندن کی گرفتاری نے قوم کے سینے فخر سے چوڑے کیے تو وہ خوشی عارضی ثابت ہوئی کیونکہ عالمی دباؤ اور ہمسایہ ملک کی گیدڑ بھبھکیوں کے سامنے جس عجلت میں قیدی کو رہا کیا گیا اس نے عالمی سطح پر پاکستان کے امیج کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔
ایک کمزور ملک کی کیفیت اس یتیم کی سی ہوتی ہے جو اپنے ہی گھر میں غیروں کے اشاروں پر چلنے پر مجبور ہو اور جس کی چیخیں دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ جاتی ہیں۔ دنیا کے ایوانوں میں ہماری حیثیت محض ایک دستِ سوال دراز کرنے والے سائل کی رہ گئی جہاں ہر مدد کے بدلے قومی حمیت کا سودا کیا گیا۔ عالمی برادری میں ایک کمزور ملک کی قبولیت محض ایک ضرورت یا مصلحت تک محدود ہوتی ہے جہاں اسے برابری کی سطح پر نہیں بلکہ ایک آلہ کار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جب ریاستیں اپنی معیشت اور دفاعی فیصلوں کے لیے دوسروں کی دہلیز پر سجدہ ریز ہوں تو پھر ان کے پرچم کی سرخی میں وہ چمک باقی نہیں رہتی جو کبھی ان کا طرہ امتیاز ہوا کرتی تھی۔ یہ ساڑھے چھ سال تذلیل اور بے بسی کی وہ داستان ہے جس میں ایک عظیم قوم کو محض اس لیے جھکنا پڑا کہ اس کی بنیادیں کھوکھلی کر دی گئی تھیں اور وہ عالمی بساط پر ایک بے بس مہرے سے زیادہ اہمیت نہ رکھ سکا۔
10 مئی 2025 کو شروع ہونے والے آپریشن بنیان المرصوص نے تاریخ کے دھارے کو یکسر بدل کر رکھ دیا اور دنیا نے دیکھا کہ جب کوئی قوم اپنی مصلحتوں کی زنجیریں توڑ کر غیرت و حمیت کا لبادہ اوڑھتی ہے تو تقدیر کے فیصلے کس طرح بدلتے ہیں۔ یہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ پاکستان کی اس کھوئی ہوئی ساکھ کی بحالی کا نقطہ آغاز تھا جس نے عالمی برادری کو یہ تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا کہ طاقت ہی وہ واحد زبان ہے جسے دنیا احترام سے سنتی ہے۔ اس بے مثال عسکری اور سٹریٹیجک کامیابی کے بعد عالمی ایوانوں میں پاکستان کا نام اب ایک کمزور سائل کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسی ناقابل تسخیر قوت کے طور پر گونج رہا ہے جس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنا اب کسی کے لیے بھی سہل نہیں۔
تاریخ شاہد ہے کہ یہ دنیا صرف طاقتور کے سامنے سر تسلیم خم کرتی ہے اور کمزور کی فریادیں ہمیشہ وقت کے گرد و غبار میں گم ہو جاتی ہیں لیکن بنیان المرصوص نے ثابت کیا کہ عزت کی زندگی صرف وہی پاتے ہیں جو اپنے حق کے لیے لوہا منوانا جانتے ہیں۔ آج عالمی برادری میں پاکستان کی پہچان ایک ایسی ریاست کی ہے جو اپنے فیصلے اب سرحدوں کے باہر سے نہیں بلکہ اپنی قومی خودداری کی بنیاد پر کرتی ہے اور یہی وہ طاقت ہے جو کسی بھی ملک کو بین الاقوامی سیاست کے ماتھے کا جھومر بنا دیتی ہے۔ اس عظیم الشان کامیابی نے نہ صرف دشمنوں کے غرور کو خاک میں ملایا بلکہ دوستوں کو بھی یہ پیغام دیا کہ اب پاکستان کسی کی بیساکھیوں کا محتاج نہیں بلکہ خود اپنی منزل کا تعین کرنے والا ایک طاقتور کھلاڑی بن کر ابھرا ہے جس کی عظمت کا لوہا اب پوری کائنات مان رہی ہے۔
آپریشن بنیان مرصوص کی پہلی سالگرہ کا یہ موقع محض ایک عسکری فتح کا جشن نہیں بلکہ یہ پاکستان کی خودداری وقار اور ناقابل تسخیر قوت کا وہ اعلان ہے جس نے عالمی منظر نامے پر ارض پاک کی دھاک بٹھا دی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ زندہ قومیں وہی کہلاتی ہیں جو اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لیے تن من دھن کی بازی لگا دیتی ہیں اور آج پاکستان نے خطے سمیت پوری دنیا میں ایک ایسی عظیم طاقت کے طور پر سر اٹھایا ہے جس کی ہیبت سے باطل کے ایوان میں لرزہ طاری ہے۔
ہمیں اللہ کریم کا شکر ادا کرنا چاہیے جس نے اس وطن کو وہ جرات بخشتی کہ آج ہماری آواز بین الاقوامی ایوانوں میں سنی جاتی ہے اور ہماری سالمیت کی مثالیں دی جاتی ہیں جو لوگ اس عظیم کامیابی اور فتح کے جشن پر معترض ہیں انہیں چاہیے کہ وہ دنیا کے ان بدقسمت ممالک کے حالات سے سبق سیکھیں جہاں افواج کمزور پڑیں تو عالمی طاقتوں نے ان کے سربراہان کو گھروں سے اٹھا لیا اور وہاں کی عوام بے بسی کی تصویر بن کر رہ گئی۔
یہ طاقتور اور مستعد فوج ہی کا ثمر ہے کہ آج ہم ایک آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں اور دشمن ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی ہمت نہیں پاتا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس فتح کو ایک ایسی روایت بنا دیں کہ آنے والے برسوں میں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر جوق در جوق سڑکوں پر نکلے اور دنیا کو یہ پیغام دے کہ پاکستانی قوم اپنے محسنوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرتی۔ یہ جشن ہماری آنے والی نسلوں کے لیے غیرت اور حمیت کا استعارہ بنے گا تاکہ رہتی دنیا تک یہ یاد رہے کہ زندہ قومیں اپنے وقار کی حفاظت اور کامیابیوں کا جشن کس والہانہ انداز میں مناتی ہیں۔
اللہ پاک ہمارے اس پیارے پاکستان کی عزت اور وقار میں ہمیشہ اضافہ فرمائے اور ہمیں تاقیامت یونہی سربلند رکھے۔ لیکن دوسری طرف پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں معاشی بحالی کے لیے محض روایتی اقدامات کافی نہیں بلکہ انقلابی فیصلوں کی ضرورت ہے پیٹرولیم مصنوعات کی کمر توڑ قیمتوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام آدمی کا جینا دوبھر کر دیا ہے جس کی وجہ سے غربت کی لہر میں تیزی اور انڈسٹری کی صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت وقت کو اب اپنی تمام تر توجہ بند کارخانوں کے پہیے دوبارہ چلانے پر مرکوز کرنی ہوگی کیونکہ صنعتی ترقی ہی بے روزگاری اور بڑھتی آبادی کے مسائل کا واحد حل ہے۔
بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور ٹیکسوں کے بوجھ کو ہلکا کرنا وہ بنیادی ستون ہیں جن پر ایک مستحکم معیشت کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے اس وقت عالمی منظر نامے پر دبئی سے نکلنے والے سرمایہ کاروں کی نظریں ایک نئی اور محفوظ منزل پر لگی ہیں اور پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت اور باصلاحیت افرادی قوت کے باعث ان کے لیے بہترین انتخاب ثابت ہو سکتا ہے ہمیں اپنی پالیسیوں کو اس قدر پرکشش بنانا ہوگا کہ دنیا بھر کا سرمایہ کار بلا جھجھک یہاں کا رخ کرے اور ہمیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ پاکستان اب بدل رہا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں استحکام کے لیے ہمیں بلیک مارکیٹ کی طرف ہر صورت جانا پڑے گا اور اس کے علاوہ ہر ممکنہ راستہ اختیار کرنا ہوگا تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ اگر حکومت ان تجاویز کو اپنی میٹنگز میں شامل کر لے اور اخلاص نیت کے ساتھ صنعتی و معاشی اصلاحات نافذ کرے تو پاکستان کو ایشیائی ٹائیگر بننے اور ترقی کی شاہراہ پر دوڑنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ یہ وقت کچھ کر دکھانے کا ہے تاکہ آنے والی نسلیں ایک خوشحال اور خود کفیل پاکستان میں سانس لے سکیں۔ جب تک آپ کی عوام خوشحال نہیں ہوگی ان کی دو وقت کی روٹی آسانی سے پوری نہیں ہوگی تب تک آپ کی طاقت سوائے دکھاوے کے کچھ نہیں ہوگی۔

