Friday, 10 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sohail Bashir Manj
  4. Lahu Rang Petrol Aur Sisakti Zindagi

Lahu Rang Petrol Aur Sisakti Zindagi

لہو رنگ پیٹرول اور سسکتی زندگی

امریکہ اسرائیل اور ایران کے مابین بڑھتے ہوئے تصادم کے سائے جس تیزی سے گہرے ہو رہے ہیں اس نے عالمی معیشت کے اعصاب کو بُری طرح جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور خاص طور پر بحیرہ ہرمز کی بندش کے منڈلاتے ہوئے خطرات نے خام تیل کی منڈیوں میں ایک ہیجان برپا کر دیا ہے جس کے اثرات پاکستان اور اس کے گرد و نواح میں بسنے والے ممالک پر بھی نہایت شدت سے ظاہر ہو رہے ہیں۔

اگر ہم اپنے ہمسایہ ممالک کی صورتحال پر نظر دوڑائیں تو بھارت میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پانچ سے سات فیصد تک کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ چین جیسا بڑا صنعتی ملک جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر منحصر ہے وہاں بھی قیمتوں میں فی لیٹر کئی یوآن کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اسی طرح افغانستان میں لاجسٹک اخراجات اور عالمی منڈی کے دباو کے باعث قیمتیں دس فیصد سے بھی زیادہ تجاوز کر چکی ہیں اور عمان جیسے خلیجی ریاستوں میں بھی عالمی لہر کے زیر اثر قیمتوں میں چار فیصد تک کا ردو بدل دیکھا گیا ہے جبکہ ایران خود تیل کی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود جنگی تناو اور کرنسی کی قدر میں کمی کے باعث داخلی سطح پر معاشی عدم استحکام کا شکار نظر آتا ہے۔ اس جنگ کی جہ سے نہ صرف مشرق بلکہ مغرب بھی پریشان ہے تیس فیصد تیل کی ترسیل کا راستہ اس وقت مکمل بند ہو چکا ہے جس سے دنیا کے کاروبار تیز ہوا میں چراغ کی مانند ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا مسلسل اضافہ صرف ایک معاشی اعداد و شمار کی تبدیلی نہیں بلکہ غریب خاندانوں کے منہ سے نوالہ چھیننے کے مترادف ہوتا ہے کیونکہ ہمارے ملک میں مال برداری اور ٹرانسپورٹ کا تمام تر نظام ڈیزل اور پیٹرول سے جڑا ہوا ہے جس کے باعث اشیائے خورونوش کی قیمتیں براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔

تیل کی بندش پاکستان کی معاشی شہ رگ پر ایک ایسی کاری ضرب ثابت ہو سکتی ہے جو صنعت و تجارت کے پہیے کو جام کرکے ملک کو سنگین اندھیروں میں دھکیل دے گی کیونکہ جب کارخانوں کی چمنیوں سے اٹھتا دھواں تھم جائے گا اور لرزتے ہوئے بازاروں کی رونقیں ماند پڑ جائیں گی تو بے روزگاری کا ایک ایسا طوفان اٹھے گا جو عام آدمی کی زندگی سے خوشحالی کا نام و نشان مٹا کر اسے غربت کی چکی میں بری طرح پیس ڈالے گا جبکہ رسد و طلب کا توازن بگڑنے سے مہنگائی کا وہ جن بوتل سے باہر آئے گا جو ملکی معیشت کے ڈھانچے کو مکمل طور پر کھوکھلا کرکے رکھ دے گا اور یوں ریاست کا وقار اور معاشی استحکام ریت کی دیوار کی مانند بکھر کر رہ جائے گا جس کا خمیازہ آنے والی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔

معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں ہر دس فیصد اضافے سے عمومی مہنگائی میں تین سے چار فیصد کا فوری اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر دیہاڑی دار طبقے پر پڑتا ہے اور خدشہ ہے کہ اس لہر کے نتیجے میں خطِ غربت سے نیچے رہنے والے لاکھوں مزید افراد فاقہ کشی پر مجبور ہو جائیں گے کیونکہ جب آمدن محدود اور اخراجات بے لگام ہو جائیں تو سفید پوش طبقے کے لیے عزتِ نفس بچانا بھی ناممکن ہو جاتا ہے۔

اس سنگدل مہنگائی نے وطنِ عزیز کے گلی کوچوں میں بسنے والے ان بے بس انسانوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے جن کے خواب پہلے ہی غربت کی دھول میں اٹے ہوئے تھے اور اب پیٹرول کے اس مہنگے بم نے رہی سہی سکت بھی چھین لی ہے۔ کہیں کسی باپ کی آنکھوں میں اپنے بھوکے بچوں کا چہرہ دیکھ کر بے بسی کے آنسو لرز رہے ہیں تو کہیں کوئی ماں چولہے کی ٹھنڈی راکھ کریدتے ہوئے اس انتظار میں ہے کہ شاید کل کا سورج رزق کی کوئی نوید لے کر طلوع ہو۔ مگر وقت کی بے رحم موجیں ان مفلوک الحال لوگوں کو زندگی کی تلخیوں کے ایسے بھنور میں دھکیل رہی ہیں جہاں سانس لینا بھی ایک بھاری قرض محسوس ہونے لگا ہے۔

وہ ہاتھ جو کبھی محنت کی کمائی سے اپنے گھر کا بھرم رکھتے تھے اب تھک کر ٹوٹ چکے ہیں اور ان کی خاموش صدائیں آسمان کی وسعتوں میں گم ہو جاتی ہیں یہ درد کی وہ داستان ہے جو لفظوں کے پیرہن میں سما نہیں سکتی کیونکہ جب غربت دستک دیتی ہے تو غیرت اور انا کے مینار لرزنے لگتے ہیں۔ پاکستان کا یہ معصوم طبقہ آج اسی کربناک دوراہے پر کھڑا اپنی قسمت کے نوحے پڑھ رہا ہے جس کی آنکھوں میں اب صرف دھندلے خواب اور آنسوں کی نمی باقی رہ گئی ہے جو اس ظالم نظام کی بے حسی پر ماتم کناں ہیں۔

حکومتِ پاکستان کے لیے موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد راستہ روایتی طریقوں سے ہٹ کر جرات مندانہ اور سٹریٹیجک فیصلے کرنا ہے کیونکہ جب عوام کی سانسیں مہنگائی کے بوجھ تلے دب رہی ہوں تو مصلحتوں کے بت توڑنا لازم ہو جاتے ہیں۔ جہاں تک ایران سے تیل کی خریداری کا تعلق ہے تو چین اور دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی عالمی پابندیوں کے مابین مخصوص تجارتی راستوں یا اشیا کے بدلے اشیا کے تبادلے کے نظام کو فعال کرکے سستا تیل حاصل کر سکتا ہے۔

ایرانی تیل قانونی یا خصوصی حکومتی معاہدوں کے تحت براہِ راست یا پھر بلیک مارکیٹ کے ذریعے پاکستان آنا شروع ہو جائے تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فی لیٹر تیس سے پچاس روپے تک کی بڑی کمی ممکن ہے، ہماری تو سرحد ملتی ہے ہمارے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے لیکن اس کے لیے ہمارے حکمرانوں کو امریکی غلامی کا طوق گلے سے نکالنا ہوگا۔ ایسا ہو جاتا ہے تو معیشت کے پہیے کو دوبارہ زندگی عطا کی جا سکتی ہے حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ محض عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط کے اسیر ہونے کے بجائے اپنی جغرافیائی اہمیت کو بروئے کار لائیں اور متبادل منڈیوں سے سستے ایندھن کے حصول کے لیے سفارتی و تجارتی محاذ پر نئی راہیں تلاش کریں تاکہ سرحد پار سے آنے والی سستی توانائی عام آدمی کے گھر کا چولہا بجھنے سے بچا سکے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ اشرافیہ کی مراعات میں بے رحمانہ کٹوتی کرکے اس کا ثمر براہِ راست پسماندہ طبقے کی جھولی میں ڈالا جائے اور توانائی کے متبادل ذرائع بشمول شمسی اور بادی توانائی کی طرف فوری پیش قدمی کی جائے تاکہ تیل کی عالمی سیاست کے رحم و کرم پر رہنے کے بجائے خود انحصاری کی منزل حاصل کی جا سکے۔ یہ وہ تجاویز ہیں جو اگر اخلاصِ نیت سے اپنائی جائیں تو نہ صرف معیشت کا جمود ٹوٹے گا بلکہ عوام کی آنکھوں میں امید کی ایک نئی شمع روشن ہو سکتی ہے جو اس وقت بے بسی کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔

Check Also

Islah Usi Ki Karen Jisko Zaroorat Hai

By Ayesha Batool