Wednesday, 15 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sohail Bashir Manj
  4. Khairat Nahi, Hunar Chahiye

Khairat Nahi, Hunar Chahiye

خیرات نہیں، ہنر چاہئے

پاکستان کی معاشی بقا اور ترقی کے سفر میں سمندر پار پاکستانی ہمیشہ ایک مضبوط ترین ستون ثابت ہوئے ہیں اور حالیہ معاشی اعداد و شمار اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں جہاں حکومتی سطح پر برآمدات کو بڑھانے کے روایتی دعوے اور کوششیں ملکی معیشت کو مطلوبہ رفتار دینے میں ناکام رہیں اور برآمداتی شعبہ توقعات کے مطابق زر مبادلہ کمانے میں پیچھے رہ گیا وہیں دیار غیر میں مقیم پاکستانیوں نے اپنی مٹی کا حق ادا کر دیا۔

گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستانی برآمدات لگ بھگ تیس ارب ڈالر کے آس پاس رہیں جبکہ اس کے برعکس سمندر پار پاکستانیوں نے تیس ارب ڈالر سے زائد کی ریکارڈ ترسیلات زر بھیج کر ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر کو نہ صرف تاریخی سہارا دیا بلکہ ملکی معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بھی بچا لیا۔ یہ پیسہ محض ایک رقم نہیں بلکہ پاکستان کے لاکھوں خاندانوں کے چولہے جلانے تعلیم و صحت کی سہولیات فراہم کرنے اور مقامی بازاروں میں کاروباری سرگرمیاں برقرار رکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے بیرون ملک سے آنے والا یہ سرمایہ براہ راست پاکستان کے بینکنگ نظام میں شامل ہو کر روپے کی قدر کو استحکام دیتا ہے اور حکومت کو بیرونی ادائیگیوں کے قابل بناتا ہے۔

ریاست اگرچہ ان محب وطن شہریوں کو روشن ڈیجیٹل اکاونٹ نادرہ سہولیات اور مخصوص ہاوسنگ اسکیموں جیسی مراعات دینے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن یہ اقدامات ان کی بے لوث قربانیوں کے سامنے انتہائی نا کافی ہیں حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سمندر پار پاکستانیوں کا اعتماد بحال رکھنے کے لیے ان کی سرمایہ کاری کو مکمل تحفظ دینا عدالتوں میں ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا اور ائیرپورٹس پر انہیں پروٹوکول فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست اپنی روایتی سستی چھوڑ کر تارکین وطن کے لیے خصوصی مراعاتی پیکیج تیار کرے تاکہ ملکی ترقی کا یہ پہیہ ہمیشہ رواں دواں رہے۔

حبیب رفیق صاحب کا یہ فلسفہ ملکی معیشت کی تلخ ترین سچائی ہے کہ پیداواری لاگت کو کم کیے بغیر نہ انڈسٹری چل سکتی ہے اور نہ ہی ایکسپورٹ میں اضافہ ممکن ہے یہ ایک المیہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ترین سطح پر آنے کے باوجود پاکستانی عوام اور صنعت کاروں کو اس کا ریلیف نہیں دیا گیا جس کی بنیادی وجہ حکومت کی انتظامی نااہلی بھاری ٹیکسوں کا بوجھ اور آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ہیں۔ بجلی اور گیس کو سستا کیے بغیر بند انڈسٹری کا پہیہ چلانا بظاہر ناممکن نظر آتا ہے لیکن جدید معاشی دنیا میں اب ایسے راستے موجود ہیں جو توانائی کی روایتی قیمتوں پر انحصار کم کر سکتے ہیں۔

پاکستان کو اگر اپنی ایکسپورٹس بڑھانی ہیں تو اسے فوری طور پر صنعتی یونٹس کو گرین انرجی اور سولر پاور پر منتقل کرنا ہوگا تاکہ بجلی کا متبادل سستا ذریعہ حاصل ہو سکے اس کے علاوہ کارخانوں کو جدید ترین آٹومیشن اور مشینری فراہم کرنا ہوگی جو کم بجلی میں زیادہ پیداوار دینے کی صلاحیت رکھتی ہوں حکومت کو چاہیے کہ وہ برآمدی شعبے کے لیے "زیرو ریٹڈ" ٹیکس پالیسی نافذ کرے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی کا خاتمہ کرے اور بندرگاہوں پر لاجسٹکس کے اخراجات کو آدھا کر دے تاکہ ہماری مصنوعات عالمی مارکیٹ میں سستی ہو کر مقابلہ کر سکیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ بحرانوں سے نکلنے کے لیے دیگر ممالک نے متبادل راستے ہی چنے بنگلہ دیش نے سستی بجلی نہ ہونے کے باوجود صرف سستی لیبر خواتین کی افرادی قوت اور خام مال کی ڈیوٹی فری درآمد کے بل بوتے پر خود کو ٹیکسٹائل کا عالمی مرکز بنا لیا اسی طرح ویتنام نے نوے کی دہائی کے شدید بحران کے بعد بیوروکریسی کا خاتمہ کیا براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کے لیے قوانین آسان کیے اور سنگل ونڈو آپریشن کے ذریعے الیکٹرانکس کی ایکسپورٹ کو آسمان پر پہنچا دیا۔ پاکستان بھی صرف روایتی ایندھن کا رونا رونے کے بجائے اگر صنعتی عمل کو ڈیجیٹلائز کر دے، زراعت کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑ کر ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کرے اور نئی عالمی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کرے تو مہنگی بجلی کے باوجود ہم برآمدات کا نیا ریکارڈ قائم کر سکتے ہیں اب یہ ریاست پر منحصر ہے کہ وہ لکیر کی فقیری چھوڑ کر ان انقلابی اقدامات کو اپناتے ہوئے ملکی ترقی کی نئی راہ متعین کرے۔

کیا ہی اچھا ہو کہ اگر صوبائی حکومتیں اپنی سطح پر کوئی سکل ڈیویلپمنٹ پروگرام شروع کریں لوگوں کو سکل دیں اور حکومتی سرپرستی میں باہر سے لیبر اور سکلڈ لوگوں کی ڈیمانڈز اٹھائیں خود ہی اپنی ویب سائٹ کے ذریعے لوگوں کو اپلائی کروائیں ٹکٹ اور ویزا کے اخراجات حکومت لون کے طور پر لوگوں کو دے اور ان لوگوں کے ساتھ معاہدے کیے جائیں کہ آ پ اپنی تنخواہ میں سے اتنے پیسے ہر مہینے ادا کریں گے اس میں کوئی سود کی رقم شامل نہ ہو جب وہ بندہ گورنمنٹ سے لیے گئے پیسے ادا کر دے تو اس کے بعد وہ تمام پیسہ اپنی فیملی کی بہبود پر خرچ کر سکے اگر ہماری صوبائی حکومتیں اپنی مدد آپ کے تحت ایسے سکل ڈیویلپمنٹ پروگرام شروع کرتی ہیں لوگوں کو ٹرینڈ کرتی ہیں اور باہر بھیجتی ہیں تو لوگوں کی جان و مال دونوں بچ جائیں گے۔

وقت آ گیا ہے کہ مقتدر حلقے اور حکمران طبقہ اس بنیادی سچائی کو تسلیم کر لیں کہ دنیا کی تاریخ میں خیرات اور قرضوں کے سہارے کبھی قومیں تعمیر نہیں ہوئیں بلکہ قومیں ہمیشہ ہنر قابلیت اور اپنے نوجوانوں کے پسینے سے بنتی ہیں ہم کب تک کشکول اٹھائے عالمی اداروں کے سامنے سر جھکائے کھڑے رہیں گے اور کب تک اپنے ہی لعل و گہر کو انسانی اسمگلروں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر خاموش تماشائی بنے رہیں گے یہ معصوم اور باصلاحیت نوجوان جن کے دم سے اس وطن کا مستقبل وابستہ ہے خیرات کے محتاج نہیں بلکہ یہ ریاست سے اپنے اس حق کا تقاضا کر رہے ہیں جو انہیں دنیا کے سامنے ایک معزز اور ہنرمند شہری بنا کر پیش کر سکے۔

حکومت کو اب اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی کیونکہ قرضوں کی مٹی سے بنے محل کبھی پائیدار نہیں ہوتے جبکہ ایک ہنرمند ہاتھ پورے ملک کی تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتا ہے اگر ریاست آج بھی بیدار نہ ہوئی اور ان جذبوں کو تیکنیکی مہارتوں کے سانچے میں نہ ڈھالا گیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی کیونکہ اصل سرمایہ سڑکیں اور پل نہیں بلکہ یہ ہنرمند انسان ہوتے ہیں حکومت کے لیے یہ لمحہ فکریہ بھی ہے اور ایک سنہری موقع بھی کہ وہ روایتی سیاست اور عارضی پیکیجز کے خول سے باہر نکل کر ایک جامع قومی ہنر مند پالیسی کا اعلان کرے جو ہمارے نوجوانوں کو عالمی منڈی کا فاتح بنا سکے آئیے اپنے بچوں کو مجبور مزدور بنانے کے بجائے انہیں جدید ٹیکنالوجی کا معمار بنائیں تاکہ جب وہ دیار غیر میں قدم رکھیں تو سر اٹھا کر پاکستان کا نام روشن کریں اور ان کا کمایا ہوا حلال ہنرمند سرمایہ اس دھرتی کو معاشی طور پر خودمختار بنا دے یہ کالم محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ اس مٹی کی پکار ہے جسے اب حکمرانوں کے بند ایوانوں تک پہنچنا ہی ہوگا۔

Check Also

Sheikh Imtiaz Ali, Legendary Ustad Aur Bemisal Muntazim

By Zulfiqar Ahmed Cheema