Junoon e Hindutva
جنونِ ہندو توا

بھارت کی جانب سے حالیہ دنوں میں سرحدوں پر غیر معمولی عسکری نقل و حرکت اور جنگی جنون پر مبنی پالیسیاں کسی گہری اور ہولناک سازش کا پیش خیمہ معلوم ہوتی ہیں لائن آف کنٹرول سے لے کر بین الاقوامی سرحد تک بھاری بھرکم جنگی ساز و سامان کی منتقلی اور جدید ترین اسلحے کی خریداری کی تڑپ اس بات کی غماز ہے کہ دہلی کے ایوانوں میں امن کے چراغ بجھانے کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔
یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی شیطانی چال ہے جس کا مقصد خطے کے استحکام کو تہہ و بالا کرنا اور اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان پر شب خون مارنا ہے۔ بھارت کا یہ توسیع پسندانہ عزائم سے لیس رویہ اس کی اس بدنیتی کو بے نقاب کر رہا ہے جہاں وہ سفارت کاری کے پردے میں بارود کی بو پھیلا رہا ہے۔ اسلحے کے انبار اور جارحانہ پوزیشننگ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ ہندوتوا کے علمبرداروں نے انسانی جانوں کی قیمت پر اپنی انا کی تسکین کا فیصلہ کر لیا ہے۔
سرحدوں پر بڑھتی ہوئی یہ تپش اور جنگی طیاروں کی گھن گرج کسی بڑے طوفان کا پتہ دے رہی ہے جو نہ صرف جنوبی ایشیا کے امن کو نگل سکتا ہے بلکہ عالمی توازن کو بھی بگاڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس صورتحال میں عالمی برادری کی خاموشی اور بھارت کی یہ پراسرار خاموش جنگی تیاری اس کے مکروہ چہرے کو مزید واضح کر رہی ہے جس کا واحد ہدف معصوم انسانی جانوں کا زیاں اور خطے میں اپنی نام نہاد بالادستی کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا ہے لیکن اسے یاد رکھنا چاہیے کہ ایسی چالیں اکثر اپنے ہی بننے والوں کا گھیرا تنگ کر دیتی ہیں۔
تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی باطل کو ذلت کا سامنا کرنا پڑا اس نے ہمیشہ انتقام کی آگ میں جل کر انسانیت سوز منصوبے تشکیل دئیے۔ مئی 2025 کی عبرت ناک شکست کا زخم خوردہ بھارت اب اپنی زخمی انا کو سہارا دینے کے لیے دوبارہ جنگ کے بگل بجانے کی کوشش کر رہا ہے جس کا مقصد محض سرحدوں کی چھیڑ چھاڑ نہیں بلکہ پورے خطے کو بارود کے ڈھیر میں بدلنا ہے۔
اس ممکنہ جارحیت میں صہیونی ریاست اسرائیل کا گٹھ جوڑ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کیونکہ دونوں کا ایجنڈا ایک ہی شیطانی فکر کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ اسرائیل اپنی جدید ترین ٹیکنالوجی جاسوسی کے آلات اور فضائی برتری کے حربے بھارت کے قدموں میں ڈھیر کر رہا ہے تاکہ اپنے اس سٹریٹیجک پارٹنر کے ذریعے خطے میں اسلامی مزاحمت کی دیوار کو گرا سکے ان دونوں شاطر قوتوں کا اشتراک پاکستان کی معیشت اور انفراسٹرکچر کو اپاہج کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے لیکن وہ بھول رہے ہیں کہ جذبہ ایمانی کے سامنے جدید ترین ہتھیار بھی کاغذ کی نا ثابت ہوتے ہیں اسرائیل کی جانب سے فراہم کردہ انٹیلی جنس اور جنگی ساز و سامان دراصل ایک عالمی گریٹ گیم کا حصہ ہے جس کا مقصد پاکستان کو ایٹمی طور پر کمزور کرنا اور اپنی توسیع پسندانہ بالادستی قائم کرنا ہے۔
بھارت اور اسرائیل کی یہ خفیہ شراکت داری انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے جو امن کی ہر کوشش کو سبوتاژ کرنے پر تلی ہوئی ہے تاکہ معصوموں کے خون سے اپنے اقتدار کی ہوس مٹا سکیں کس طرح بین الاقوامی استعمار اور ہندوتوا کا گٹھ جوڑ پاکستان کے خلاف ایک نئی اور خطرناک خونی لکیر کھینچنے کی تگ و دو میں مصروف ہے جسے بصیرت کے ساتھ سمجھنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
بھارت کی جارحیت کا جنون حد سے تجاوز کرتا ہے تو پاکستان کا پلٹ وار اس قدر ہولناک اور قیامت خیز ہوگا کہ دہلی کے ایوانوں کی دیواریں تک لرز اٹھیں گی۔ یہ محض دو ملکوں کا تصادم نہیں بلکہ ایک ایسی عالمگیر تباہی کا آغاز ہوگا جس کی لپیٹ میں آنے والا ہر ذرہ راکھ کے ڈھیر میں بدل جائے گا۔ اگر یہ جنگ ایٹمی دہلیز کو چھو لیتی ہے تو سورج کی روشنی غبار کے پیچھے چھپ جائے گی اور زمین بانجھ پن کا وہ لباس اوڑھ لے گی جسے اتارنے میں صدیاں بیت جائیں گی لاکھوں معصوم جانیں پلک جھپکتے ہی دھوئیں میں تحلیل ہو جائیں گی اور بستیاں قبرستانوں کا نقشہ پیش کریں گی۔
ایٹمی دھماکوں سے پیدا ہونے والی تابکاری اور مہیب لہریں صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ پوری دنیا کے موسموں کو مفلوج اور معیشتوں کو زمین بوس کر دیں گی۔ کرہ ارض پر پھیلنے والا یہ سیاہ اندھیرا نسل انسانی کے لیے وہ ناسور بن جائے گا جس کا مداوا کرنے کی سکت کسی عالمی طاقت میں نہیں ہوگی۔ یہ جنگ پوری دنیا کو ایک ایسے جہنم میں جھونک دے گی جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہ ہوگا اور پچھتاوے کے لیے بھی کوئی زندہ نہیں بچے گا کیونکہ ایٹمی بادلوں کے نیچے زندگی صرف ایک بھیانک خواب بن کر رہ جائے گی۔
جنگ کی ہولناکی جب دستک دیتی ہے تو وہ صرف ایک خطے کا جغرافیہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مستقبل داو پر لگا دیتی ہے اگر بھارت نے اپنی عددی برتری کے زعم میں پاکستان پر شب خون مارنے کی جسارت کی تو اسے یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان میدانِ کارزار میں تنہا نہیں ہوگا بلکہ خطے کے وہ تمام دوست ممالک جو سٹریٹیجک توازن کے علمبردار ہیں اس اشتعال انگیزی کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے۔
اس تصادم کا انجام بھارت کے لیے صرف عبرت ناک شکست نہیں بلکہ اس کے اپنے ہی وجود کے بکھرنے اور ریاست کے ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کا وہ بھیانک خواب ثابت ہو سکتا ہے جسے تاریخ کبھی فراموش نہ کر سکے گی چونکہ دونوں حریف ایٹمی ہتھیاروں کے دہانے پر کھڑے ہیں اس لیے یہ چنگاری محض برصغیر کو نہیں بلکہ سات براعظموں کو اپنی لپیٹ میں لے گی، جس کے بعد دنیا کا کوئی بھی ملک اس کی تپش اور تابکاری سے محفوظ نہیں رہ پائے گا۔ معیشتوں کے سفینے ڈوب جائیں گے اور انسانیت کا تسلسل ایک ایسی تاریک رات میں گم ہو جائے گا جہاں کل کی صبح کی کوئی امید باقی نہیں رہے گی۔
وقت کی اہم ترین پکار ہے کہ عالمی ضمیر اور بین الاقوامی ادارے اس سے پہلے کہ مصلحتوں کی چادر اوڑھ کر خاموش رہیں اس بڑھتے ہوئے جنون کو روکنے کے لیے متحرک ہوں کیونکہ ایٹمی بادلوں کے نیچے صرف راکھ بچتی ہے، فاتح کا تاج پہننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ یہ پیغام پوری دنیا کے لیے ایک حتمی وارننگ ہے کہ اگر امن کی شمع گل ہوئی تو اس کا خمیازہ آنے والی نسلیں صدیوں تک بھگتیں گی اور پھر کسی کے پاس تلافی کی مہلت باقی نہیں رہے گی۔

