Sunday, 14 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Sohail Bashir Manj
  4. Dais Ka Aman Aur Fifth Generation War

Dais Ka Aman Aur Fifth Generation War

دیس کا امن اور ففتھ جنریشن وار

کشمیر کی پرسکون وادیوں، جھیل و کنول کے دیس میں نفرت اور انتشار کا یہ زہر گھولنے والے یقیناً خطے کے امن اور استحکام کے کھلے دشمن ہیں جو مخصوص ایجنڈے کے تحت بھائی کو بھائی سے لڑانے کی ناپاک سازشوں میں مصروف ہیں۔ گزشتہ سال عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اثر رونما ہونے والے پرتشدد واقعات اور دھرنوں نے پرامن وادی کے ماتھے پر بدنما داغ لگایا جب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے فرض شناس جوانوں کو نشانہ بنایا گیا اور ان کی قربانیوں کی توہین کی گئی لیکن حکومت پاکستان اور ریاستی اداروں نے کمال صبر و تحمل اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملے کو افہام وتفہیم سے سلجھانے کی کوشش کی تاکہ دشمن قوتیں اس اندرونی خلفشار سے کوئی ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکیں۔

آج جو مٹھی بھر شرپسند اور گمراہ عناصر یہ نعرے بلند کر رہے ہیں کہ پاکستانی کشمیر سے نکل جائیں وہ دراصل اپنی اوقات اور تاریخ دونوں سے بالکل بے خبر ہیں کیونکہ پاکستان کے بغیر آزاد کشمیر کا وجود اور ترقی کا تصور بھی ممکن نہیں ہے۔ سن انیس سو اڑتالیس کے معرکے سے لے کر آ ج تک پاکستان نے کشمیر کے دفاع اور بقا کے لیے اپنے ہزاروں غیور جوانوں کے خون کا نذرانہ پیش کیا ہے اور معاشی و سفارتی سطح پر اربوں روپے کی قربانیاں دے کر اس خطے کو امن کا گہوارہ بنائے رکھا ہے ان تمام تر قربانیوں کے باوجود آج وہاں آٹے کی قیمتوں پر سبسڈی بجلی کے بھاری بلوں میں رعایت اور ملازمین کی مراعات جیسے مقامی مسائل کو بنیاد بنا کر عوام کو ریاست کے خلاف اکسایا جا رہا ہے اور چند تخریب کار عناصر اس جائز عوامی احتجاج کی آڑ میں پاکستان سے علیحدگی کے وطن دشمن بیانیے کو فروغ دینے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں لیکن ایسے مٹھی بھر فتنہ پرور لوگ کروڑوں کشمیریوں کے دلوں میں موجزن سچی حب الوطنی کو کبھی شکست نہیں دے سکتے کیونکہ کشمیر کل بھی پاکستان کا حصہ تھا آج بھی پاکستان ہے اور ان شاءاللہ قیامت تک پاکستان ہی رہے گا۔

ہندوستان کے ناپاک عزائم اور بزدلانہ سازشوں کا اصل چہرہ اب بالکل بے نقاب ہو چکا ہے کیونکہ روایتی جنگ کے میدان میں پاکستانی فوج کے سامنے ٹھہرنے کی جرات نہ رکھنے والا دشمن اب ففتھ جنریشن وار فیئر کے ذریعے پاکستان کو اندرونی طور پر کھوکھلا کرنے کی مذموم کوششیں کر رہا ہے۔ اسی مکروہ ایجنڈے کے تحت عوامی ایکشن کمیٹی جیسے چند عناصر کو ابھارا گیا جن پر پابندی کی بنیادی وجہ ہی ریاست مخالف سرگرمیاں اور بیرونی فنڈنگ ہے۔ ان عناصر کو متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں بیٹھے سہولت کاروں کے خفیہ نیٹ ورک اور ڈیجیٹل اکاونٹس کے ذریعے غداری کے عوض بھاری رقوم منتقل کی جاتی ہیں تاکہ کشمیر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بدامنی پھیلا کر پاک فوج کی توجہ کو اصل محاذوں سے ڈائیورٹ کیا جا سکے۔ مگر دلی کے حکمران شاید یہ بھول چکے ہیں کہ ہماری غیور فوج بیک وقت سو محاذوں پر بھی دشمن کو عبرتناک شکست دینے کی بھرپور صلاحیت اور جذبہ رکھتی ہے۔ وہ جان لیں کہ وہ جو مرضی ہتھکنڈے اپنا لیں کروڑوں کشمیریوں اور پاکستانیوں کے دلوں کے لازوال رشتے کو کبھی کمزور نہیں کر سکتے اور نہ ہی پاکستان کے امن و استحکام کو متزلزل کرنا ان کے بس کی بات ہے کیونکہ یہ ارض پاک خدا کے فضل سے ہمیشہ ناقابل تسخیر رہے گی۔

اس نازک اور حساس معاملے کا واحد پرامن اور پائیدار حل صرف اور صرف جمہوریت مکالمے اور آئینی حدود کے احترام میں پنہاں ہے۔ شرپسند عناصر کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ سڑکوں پر انتشار پھیلانے اور قانون ہاتھ میں لینے سے کبھی مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اگر انہیں واقعی عوامی حقوق کی فکر ہے تو وہ وزیر اعظم آزاد کشمیر اور اسمبلی کے نمائندوں سے رجوع کریں کیونکہ آئین میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا تبدیلی کے لیے آئینی راستے ہی اختیار کیے جاتے ہیں جہاں نشستوں کا خاتمہ یا قوانین کی تبدیلی کسی مٹھی بھر گروہ کی خواہش پر نہیں بلکہ باقاعدہ آ ئینی اکثریت کی بنیاد پر ہی ممکن ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت کشمیر کو ان فتنہ پرور عناصر پر یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح واضح کر دینی چاہیے کہ جموں و کشمیر سے ہجرت کرکے آزاد کشمیر میں آ باد ہونے والے لاکھوں مہاجرین اس دھرتی کے معزز شہری ہیں جن کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست اپنی رٹ قائم کرے اور تمام فریقین آئینی دائرہ کار میں رہ کر بامقصد ڈائیلاگ کا حصہ بنیں کیونکہ گولی اور گالی کے بجائے بامقصد گفتگو ہی امن کی ضامن ہے اور اسی راستے پر چل کر ہم دشمن کی سازشوں کو ناکام بنا سکتے ہیں۔

حکومت پاکستان اور پاک فوج کو اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتہائی مربوط حکمت عملی دوراندیشی اور فولادی عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ دشمن کی سازش بھی ناکام ہو اور کسی بے گناہ کشمیری کا جانی نقصان بھی نہ ہو کیونکہ دلی کی اربوں ڈالر کی گندی انویسٹمنٹ اور اس کے ٹکڑوں پر پلنے والے ضمیر فروش تو اب اپنے غیر ملکی آقاوں کے اشارے پر ناچیں گے ان بکاو مال کو دبوچنے اور راہ راست پر لانے کے لیے سب سے پہلے فنانشل انٹیلیجنس کو متحرک کرنا ہوگا تاکہ ان خفیہ ڈیجیٹل اکاونٹس اور سہولت کاروں کی جڑیں کاٹی جا سکیں جو ریاست مخالف پروپیگنڈے کو ایندھن فراہم کر رہے ہیں۔

اس آپریشن کی خوبصورتی یہ ہونی چاہیے کہ قانون کا شکنجہ صرف ان ڈالروں کے پجاریوں پر ہی کسے اور ہمارے وہ لاکھوں کشمیری بھائی جو دل وجان سے پاکستان کے وفادار اور امن کے داعی ہیں ان کی عزت نفس اور جان و مال کو ذرا برابر بھی آنچ نہ آئے۔ اس کے لیے مٹھی بھر تخریب کاروں اور جائز مطالبات رکھنے والے عام شہریوں کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچنا ہوگی۔ دوسری طرف وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ آزاد کشمیر میں مقامی قیادت کے ساتھ مل کر فوری طور پر معاشی ریلیف اور ترقیاتی پیکجز کا اعلان کرے تاکہ دشمن کو محرومیوں کی سیاست چمکانے کا کوئی موقع نہ مل سکے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ریاستی ادارے انفارمیشن وار فیئر کے محاذ پر کشمیری نوجوانوں کو اپنے اعتماد میں لیں اور انہیں بتائیں کہ کس طرح چند ضمیر فروش ان کے مستقبل کا سودا کر رہے ہیں جب طاقت کے بے جا استعمال کے بغیر صرف ذہانت قانون کی رٹ اور معاشی سفارتکاری سے ان شرپسندوں کو الگ تھلگ کر دیا جائے گا تو ہندوستان کا پورا نیٹ ورک ریت کی دیوار کی طرح ڈھے جائے گا اور امن کے سفیر کشمیری بھائی ایک بار پھر سرخرو ہوں گے۔

Check Also

Baap Par Bete Ka Haq

By Fazal Tanha Gharshin