Baqa Ki Jang Aur Akhri Maarke Ka Sakoot
بقا کی جنگ اور آخری معرکے کا سکوت

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے میں غیر معمولی تاخیر محض جنگی حکمت عملی نہیں بلکہ اس کے پیچھے وہ گہرے خدشات اور سٹرٹیجک الجھنیں ہیں جن کا سامنا اس وقت پوری دنیا کو ہے۔ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور ایران کے مضبوط دفاعی نظام نے بڑی طاقتوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس بار چھیڑی جانے والی جنگ کا انجام صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کی تپش پورے کرہ ارض کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
یہ تاخیر دراصل اس خوف کی عکاسی ہے کہ کہیں ایک غلط فیصلہ مشرق وسطیٰ کو آگ کے ایسے ڈھیر میں نہ بدل دے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ باقی نہ رہے۔ سفارتی لبادوں میں چھپی یہ خاموشی اس طوفان سے پہلے کا سکوت ہے جو اپنے دامن میں بے پناہ تباہی چھپائے ہوئے ہے۔ عالمی سیاست کے کھلاڑی بخوبی واقف ہیں کہ ایران پر ہاتھ ڈالنا کسی بارودی سرنگ پر قدم رکھنے کے مترادف ہے جہاں جیت کا جشن بھی ماتم کی صورت اختیار کر سکتا ہے اسی لیے طاقت کے ایوانوں میں فیصلے کی گھڑی مسلسل پیچھے ہٹ رہی ہے تاکہ کسی بڑے المیے سے بچا جا سکے۔ یہ محض وقت کا حصول نہیں بلکہ بقا کی وہ جنگ ہے جو میدان کارزار سے پہلے انسانی ذہنوں اور مصلحتوں کے درمیان لڑی جا رہی ہے۔
بحر اوقیانوس کی لہروں پر حکمرانی کا غرور و تکبر اب لرزتی ہوئی دیوار محسوس ہونے لگا ہے کیونکہ امریکہ کو پہلی بار نیلگوں پانیوں کی گہرائیوں میں اپنے ناقابل شکست بحری بیڑوں کا مقبرہ نظر آ رہا ہے۔ وہ بخوبی جانتا ہے کہ اگر اس کے فولادی جہاز ایران کی آتشیں لہروں کی نذر ہو گئے تو سپر پاور کی کرسی صرف ایک قصہ پارینہ بن کر رہ جائے گی۔ طاقت کے نشے میں چور یہ فرعون صفت قوت اب اس خوف سے تھرا رہی ہے کہ کہیں سمندر کی تہیں اس کے غرور کو ہمیشہ کے لیے نگل نہ لیں یہ قربانی اسے عالمی منظر نامے سے مٹا کر تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دے گی جہاں واپسی کا ہر راستہ بند ہو چکا ہوگا۔
وقت کے بے رحم دھارے نے آج مغرب کے ناقابل تسخیر ہونے کے دعووں کو تاریخ کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے جہاں امریکہ کو اب ایران کی استقامت کے پیچھے چین کی معاشی ہیبت اور روس کے فولادی عزم کی پرچھائیاں صاف دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ صرف ایک جنگ نہیں بلکہ اس عالمی نظام کی تدفین کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے جس پر دہائیوں سے واشنگٹن کا سکہ چلتا تھا۔ اگر معرکہ کارزار سجا تو امریکہ کو ہونے والا نقصان محض مال و منال یا بارود کے ضیاع تک محدود نہ ہوگا بلکہ اس کی شہنشاہیت کا وہ تاج ہمیشہ کے لیے چکنا چور ہو جائے گا جسے سنبھالنے کی سکت اب اس کے تھکے ہوئے کندھوں میں باقی نہیں رہی۔
مشرق کے افق سے ابھرتا ہوا یہ اتحاد امریکی بقا کے لیے وہ ڈراؤنا خواب بن چکا ہے جو اسے نیند سے بیدار ہونے پر مجبور کر رہا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس ٹکراؤ کی صورت میں ڈالر کی سلطنت خاک میں مل جائے گی اور سپر پاور کا تمغہ کسی گہرے سمندر کی نذر ہو کر قصہ پارینہ بن جائے گا۔ اس ممکنہ تباہی کی ہولناکی نے وائٹ ہاؤس کے ایوانوں میں وہ سناٹا طاری کر دیا ہے جو کسی بڑے طوفان کے آنے سے پہلے فضاؤں کو بوجھل کر دیتا ہے۔
اب دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں امریکہ کا ایک غلط قدم اسے تاریخ کے ان اوراق میں دھکیل دے گا جہاں سے عبرت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ تاریخ کے ماتھے پر لکھی یہ تحریر اب دیوار پر لکھی سچائی بنتی جا رہی ہے کہ وقت کی بساط پر مہروں کی ترتیب الٹ چکی ہے اور امریکہ کو اپنی شکست کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے وجود کا چراغ بجھتا ہوا صاف دکھائی دے رہا ہے۔ یہ وہ خوف ہے جو سپر پاور کے ایوانوں میں ارتعاش پیدا کر رہا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس بار ٹکراؤ کا مطلب صرف شکست نہیں بلکہ ایک پورے عہد کا خاتمہ اور عالمی نقشے سے ایک ریاست کے نشان کا مٹ جانا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ کے طبل تو بجائے جا رہے ہیں مگر قدم آگے بڑھانے کی ہمت جواب دے چکی ہے کیونکہ ہولناک تباہی کا یہ منظر نامہ کسی بھی مہم جوئی کے انجام کو عبرت کا نشان بنا سکتا ہے۔
اب یہ سوال کہ جنگ ہوگی یا نہیں اس کا جواب اسی مصلحت پسندی میں چھپا ہے جو بقا کی آخری تڑپ بن کر سامنے آئی ہے۔ امریکہ شاید کبھی وہ جوا نہ کھیلے جہاں داؤ پر اس کی اپنی شہنشاہیت لگی ہو اور جس کا صلہ صرف راکھ اور پچھتاوے کی صورت میں نکلنا ہو۔ یہ خاموشی دراصل اس اعتراف شکست کا دیباچہ ہے جو بن کہے ہی دنیا پر واضح ہو چکا ہے کہ اب طاقت کا توازن مشرق کے کوہساروں میں پناہ لے چکا ہے اور غرور کے بت پاش پاش ہونے کا وقت آ پہنچا ہے جس کے بعد تاریخ صرف فاتحین کا قصیدہ لکھے گی اور شکست خوردہ عناصر قصہ پارینہ بن کر رہ جائیں گے۔

