Thursday, 23 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sohail Bashir Manj
  4. Baqa e Insani Ka Zamin

Baqa e Insani Ka Zamin

بقائے انسانی کا ضامن

خطے کے افق پر ابھرتی ہوئی یہ نئی صبح تاریخ کے دھارے کو بدلنے کے لیے تیار ہے جہاں اسلام آباد کی سرزمین ایک بار پھر امن کے پیامبر کے طور پر سامنے آئی ہے۔ حکومت پاکستان نے غیر معمولی سفارتی مہارت اور سٹرٹیجک بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کے اس دوسرے مرحلے کو ممکن بنایا ہے جس کی بنیاد رکھنے میں وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کی شبانہ روز کاوشیں ایک کلیدی کردار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان مذاکرات کی کامیابی درحقیقت پاکستان کی اس متوازن خارجہ پالیسی کی فتح ہے جو خطے میں کشیدگی کے خاتمے کو اپنی اولین ترجیح سمجھتا ہے۔

ایران کی جانب سے خطے میں مداخلت کے خاتمے اور جوہری پروگرام پر سخت گیر موقف کے باوجود مذاکرات کاروں نے انتہائی تدبر سے کام لیتے ہوئے کئی اہم نکات پر اتفاق رائے پیدا کیا ہے جہاں ایران کی اپنی خود مختاری کے تحفظ اور معاشی پابندیوں کے خاتمے سے جڑی شرائط کو وسیع تر انسانی بنیادوں پر تسلیم کر لیا گیا ہے وہیں کچھ سٹرٹیجک تحفظات جن پر عالمی برادری کو خدشات تھے انہیں مذاکرات کی میز پر حل طلب رکھا گیا ہے۔

ان حالات میں حماس کا مستقبل ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے اب عسکریت پسندی کی جگہ سیاسی دھارے میں شامل ہو کر ایک نئی حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ یہ سمجھوتہ محض ایک جنگ بندی نہیں بلکہ ایک نئی عالمی ترتیب کا نقطہ آغاز ہے جس میں پاکستان کا کردار ایک ثالث اور امن کے ضامن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ پیش رفت ثابت کرتی ہے کہ جب ارادے بلند ہوں اور سفارت کاری کا دامن تھاما جائے تو دنیا کی پیچیدہ ترین الجھنوں کے بند دروازے بھی کھل جاتے ہیں اور امن کی نوید ہر دل کی دہلیز تک پہنچتی ہے۔

اسلام آباد کی فضاوں میں امن کی نوید لہرانے کے ساتھ ہی عالمی قوتوں کے سربراہان کی آمد کی گونج خطے میں ایک نئی تاریخ رقم کر رہی ہے جن میں مشرق وسطیٰ کے بااثر رہنماوں کے علاوہ یورپی یونین اور اہم ایشیائی طاقتوں کے حکمرانوں کی شرکت ان جلیل القدر شخصیات کا ایک ہی چھت تلے جمع ہونا پاکستان کی سفارتی بالادستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگر پاکستان اس مشکل ترین مرحلے کو کامیابی سے ہمکنار کرکے ایران اور امریکہ کے مابین صلح کا جھنڈا گاڑ دیتا ہے تو یہ محض ایک سفارتی فتح نہیں بلکہ عالمی سیاست کا محور بدلنے کے مترادف ہوگا۔ اس کامیابی سے پاکستان کا وقار اور رعب ایسا بلند ہوگا کہ دنیا کی صف اول کی طاقتیں پاکستان کو امن کا ناگزیر ضامن ماننے پر مجبور ہو جائیں گی۔

عالمی برادری میں پاکستان کا مقام ایک ایسے سٹرٹیجک مرکز کے طور پر ابھرے گا جہاں سے نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر کے تنازعات کے حل کا راستہ نکلے گا یہ عزت و وقار پاکستان کے ماتھے کا جھومر بنے گا اور ہماری خارجہ پالیسی کے وہ تمام نقاد جو ملک کی ساکھ پر سوال اٹھاتے تھے وہ بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوں گے کہ پاکستان وہ فولادی ستون ہے جس پر عالمگیر امن کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔ اس کارنامے سے پاکستان کا عالمی قد کاٹھ اتنا بلند ہوگا کہ اسے نظر انداز کرنا یا کسی بھی عالمی فیصلے میں اس کی رائے کو اہمیت نہ دینا ناممکن ہو جائے گا اور ہم تاریخ کے صفحات میں امن کے سب سے بڑے معمار کے طور پر ہمیشہ زندہ رہیں گے ان شاءاللہ۔

اگر شیطانی طاقتوں کی سازشوں سے امن کے یہ چراغ بجھ گئے تو زمین پر ایک ایسی قیامت صغریٰ برپا ہوگی جس کی ہولناکیوں سے تاریخ کی آنکھیں خون روئیں گی امریکہ اسرائیل اور ایران کو اس جنگی بھینٹ میں اپنی معاشی طاقت تہذیبی ورثے اور انسانی تقدیر کی ایسی ہولناک قیمت چکانا پڑے گی جس کا تصور بھی روح کو لرزا دینے کے لیے کافی ہے۔ یہ محض ملکوں کا ٹکراو نہیں بلکہ انسانیت کی اجتماعی خودکشی کا منظرنامہ ہوگا جس میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال زمین کے سینے کو چیر کر رکھ دے گا۔ ایران کی چھ ہزار سالہ قدیم تہذیب کے آثار اور انسانیت کی ہزاروں سالہ ترقی ایک پل میں خاکستر ہو کر تاریخ کے قبرستان میں دفن ہو جائے گی۔ یہ تباہی محض کسی ایک خطے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کا ہولناک زہریلا غبار پوری کرہ ارض کی سانسیں بند کر دے گا اور آنے والی نسلیں صرف راکھ کے ڈھیر اور تابکاری زدہ ویران زمین کی وارث بنیں گی۔ دنیا کو یہ جان لینا چاہیے کہ اس جنگ کا انجام صرف فاتح اور مفتوح کا فیصلہ نہیں بلکہ زندگی کی مکمل نابودی ہے لہذا اس وحشت خیز انجام کو روکنے کے لیے سفارت کاری کے ہر دروازے پر دستک دینا اور امن کی ہر کوشش کو کامیاب بنانا اب انسانیت کی بقا کا آخری اور واحد راستہ ہے۔

پاکستان کی تاریخ شاہد ہے کہ ہم نے ہمیشہ امن کی خیرات بانٹی ہے اور کبھی جارحیت کی پہل نہیں کی مگر اپنی ساکھ اور قومی وقار پر آنچ آنا ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔ اب وقت آ چکا ہے کہ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان جاری تلخیوں کے برفیلے پہاڑوں کو پگھلانے کے لیے مذاکرات کی میز کو آخری حل بنایا جائے۔ کشمیر کا دیرینہ تنازع اور پانی جیسے زندگی بخش مسائل پر دانشمندی سے فیصلہ کرنا وقت کی سب سے بڑی پکار ہے باہمی تجارت اور روابط کا بڑھنا دونوں ممالک کے کروڑوں غریب عوام کی تقدیر بدل سکتا ہے اور جنگ کے منحوس سائے کو ہمیشہ کے لیے تاریخ کے سیاہ خانوں میں دفن کر سکتا ہے۔

ہمارے لیڈران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ترقی کی حقیقی معراج اسلحہ کے انبار میں نہیں بلکہ پڑوسیوں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے سنہری اصولوں میں پوشیدہ ہے۔ اگر ہم ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر نفرتوں کو دفن کر دیں تو یہ خطہ دنیا کا سب سے خوشحال اور طاقتور ترین اقتصادی مرکز بن کر ابھرے گا۔ یہ آخری موقع ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو جنگ کا جہنم دینے کے بجائے امن کا گہوارہ تحفے میں دیں اور ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر غربت جہالت اور پسماندگی کے خلاف مشترکہ جنگ لڑیں تاکہ دنیا ہم پر رشک کرے اور جنوبی ایشیا امن اور ترقی کا نیا استعارہ بن جائے۔

Check Also

Ehsan Ka Qarz Aur Tareekh Ka Katehra

By Peer Intizar Hussain Musawir