Thursday, 26 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sohail Bashir Manj
  4. Band Gali Ka Akhri Musafir

Band Gali Ka Akhri Musafir

بند گلی کا آخری مسافر

ایران اور اسرائیل کے مابین برپا ہونے والی حالیہ جنگ نے مشرق وسطیٰ کی زمین کو دہکتے ہوئے شعلوں اور بارود کے مرغولوں میں بدل دیا ہے جہاں ہر سو بربادی کی لرزہ خیز داستانیں رقم ہو رہی ہیں۔ اس تصادم نے عالمی طاقتوں کے غرور کو خاک میں ملا کر رکھ دیا ہے کیونکہ ایرانی میزائلوں کی یلغار نے اسرائیل کے ناقابل تسخیر سمجھے جانے والے ایٹمی ری ایکٹر کو نشانہ بنا کر نہ صرف صہیونی ریاست کے دفاعی حصار کو پاش پاش کر دیا بلکہ دنیا کو ایک ہولناک ایٹمی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

فضاوں میں راج کرنے والے ایف پینتیس اور ایف سولہ ایف پندرہ جیسے جدید ترین جنگی طیارے اب لوہے کے جلتے ہوئے ڈھیروں کی صورت میں ریگزاروں کی زینت بنے ہوئے ہیں جن کی تباہی نے امریکی ٹیکنالوجی کے سحر کو توڑ کر رکھ دیا ہے۔ یہ محض ایک جنگ نہیں بلکہ ایک ایسا عبرتناک منظر نامہ ہے جہاں امریکہ کی عالمی چودھراہٹ اور اسرائیل کی فوجی برتری کا سورج غروب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ہر طرف پھیلی ہوئی راکھ اور کھنڈرات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ جب ارادے فولادی ہوں اور انتقام کی آگ سینوں میں بھڑک رہی ہو تو پھر نہ کوئی ایٹمی ڈھال کام آتی ہے اور نہ ہی آسمان سے باتیں کرتے ہوئے سٹیلتھ طیارے بچ پاتے ہیں۔

تاریخ کے اس نازک موڑ پر طاقت کا توازن اس طرح بگڑا ہے کہ مغرب کے ایوانوں میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے اور زمین کے سینے پر لکھی گئی یہ بربادی کی داستان آنے والی نسلوں کو یاد دلائے گی کہ ظلم اور تکبر کا انجام ہمیشہ ایسا ہی ہولناک اور عبرت انگیز ہوتا ہے۔

عظیم سلطنتوں کے زوال کی داستانیں ہمیشہ سے عبرت کا نشان رہی ہیں اور آج کا امریکہ اسی تاریخی جبر کی سنگین لپیٹ میں آچکا ہے جہاں وہ ایک ایسے دلدل میں دھنس چکا ہے جس سے نکلنے کی ہر کوشش اسے مزید گہرائی میں لے جا رہی ہے۔ ایران نے اپنی سٹرٹیجک چالوں سے اسے ایک ایسی بند گلی کے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں سے واپسی کا راستہ تذلیل اور قیام کا راستہ مکمل تباہی پر ختم ہوتا ہے۔ اگر وہ اس میدان سے فرار کی راہ اختیار کرتا ہے تو اس کی نام نہاد سپر پاور کی ہیبت اور عالمی ساکھ کے پرخچے اڑ جائیں گے اور دنیا بھر میں اس کے زیر اثر ممالک کا اعتماد ریت کی دیوار ثابت ہوگا۔ اس کے علاوہ امریکہ کو پہنچنے والے مالی اور جانی نقصانات اس قدر ہولناک ہوں گے کہ اس کی معیشت کا پہیہ جام ہو سکتا ہے اور ڈالر کی عالمی اجارہ داری قصہ پارینہ بن کر رہ جائے گی۔

بحری راستوں پر اس کی گرفت کمزور ہونے سے اس کی تجارتی شہ رگ کٹ جائے گی اور اس کے فوجی اڈوں کا وجود محض ایک بوجھ بن کر رہ جائے گا جو اس کے اپنے ہی بجٹ کو دیمک کی طرح چاٹ جائیں گے۔ یہ صرف ایک فوجی شکست نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور نفسیاتی شکست بھی ہوگی جس کے بعد امریکہ کی دھونس اور دھمکی کی سیاست ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گی اور دنیا کے نقشے پر طاقت کا نیا توازن ابھرے گا جو مغرب کے غرور کو خاک میں ملا کر ایک نئے دور کا آغاز کرے گا۔

انسانی تاریخ کے سیاہ صفحات پر جب بھی ظلم و بربریت کی داستانیں رقم ہوں گی امریکہ کا نام ایک ایسے سفاک اور بے رحم قاتل کے طور پر ابھرے گا جس نے اپنے مفادات کی ہوس میں انسانیت کا بے دریغ قتل عام کیا اور بالخصوص مسلمانوں کے لہو سے اپنی پیاس بجھانے میں کبھی عار محسوس نہیں کی۔ ہیروشیما سے لے کر بغداد کی گلیوں تک اور افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں سے لے کر لیبیا کے صحراوں تک ہر جگہ امریکی بارود نے معصوم زندگیوں کے چراغ گل کیے اور تہذیبوں کو راکھ کے ڈھیر میں بدل کر رکھ دیا۔ اسی طرح اسرائیل نے بھی فلسطین کی مقدس زمین پر ظلم و ستم کی وہ لرزہ خیز تاریخ رقم کی ہے جس کی مثال عصر حاضر میں نہیں ملتی دیر یاسین کے قتل عام سے لے کر غزہ کے ہسپتالوں اور سکولوں پر برسنے والے فاسفورس بموں تک ہر قطرہ خون پکار پکار کر اس عالمی بے حسی کا ماتم کر رہا ہے جہاں انسانی حقوق کے علمبردار خود انسانیت کے گلے پر چھری پھیر رہے ہیں۔

لبنان کے دارالحکومت میں واقع صابرہ اور شتیلا کے کیمپوں میں بہنے والا نہتا خون ہو یا فلسطین کے ویسٹ بینک کے شہر جنین کی گلیوں میں بکھرے ہوئے لاشے یہ سب اس صہیونی سفاکیت کے گواہ ہیں جس نے امن کے نام پر صرف اور صرف موت اور تباہی بانٹی ہے۔ یہ خونی اتحاد دراصل انسانیت کے چہرے پر وہ بدترین داغ ہے جسے تاریخ کے سمندر بھی دھونے سے قاصر رہیں گے اور مظلوموں کی آہیں بالآخر ان جابروں کے تخت و تاج کو خس و خاشاک کی طرح بہا لے جائیں گی۔

آنے والی صدی کا افق اس سچائی کی نوید دے رہا ہے کہ اب ظلمت کی رات بیت چکی اور مسلم امہ کے عروج کا سورج طلوع ہونے کو ہے جو اپنی چمک اور روشنی سے دنیا کے نقشے پر حق و انصاف کی نئی لکیریں کھینچے گا۔ تاریخ کے جھروکوں سے جھانکتی لرزہ خیز حقیقتیں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں کہ امریکہ کی دوستی دراصل وہ سراب ہے جس نے ہمیشہ اپنے ہی یاروں کے گلستاں اجاڑے اور انہیں بربادی کے دہانے پر لا کھڑا کیا جبکہ اس کے برعکس چین اور روس کے ساتھ استوار ہونے والے تعلقات اقوام عالم کے لیے بقا اور استحکام کا وہ مینار نور ثابت ہوں گے جو باہمی احترام اور معاشی خوشحالی کی بنیاد پر قائم ہیں۔

ان طاقتوں سے جڑنا محض ایک سیاسی ضرورت نہیں بلکہ ایک ایسی سٹرٹیجک ڈھال ہے جو مسلم ممالک کو مغربی استعمار کے تسلط سے نجات دلا کر ایک خود مختار مستقبل کی ضمانت فراہم کرتی ہے۔ روس کی فوجی صلاحیت اور چین کی معاشی بصیرت کا سنگم دنیا کو ایک ایسا توازن بخشے گا جہاں ترقی کے ثمرات کسی خاص طبقے تک محدود رہنے کے بجائے پوری انسانیت کے لیے عام ہوں گے اور یہ اتحاد اس جابرانہ عالمی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے گا جس نے دہائیوں تک معصوموں کا استحصال کیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا اس حقیقت کو تسلیم کر لے کہ آنے والا دور ان کا ہے جو سچائی اور مخلصانہ رفاقتوں کے علمبردار ہیں اور یہی وہ فیصلہ کن موڑ ہے جو انسانی تاریخ کے رخ کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دے گا۔

Check Also

Power Connection

By Tauseef Rehmat