Aqwam e Aalam Ke Faislay Pakistan Mein Honge
اقوام عالم کے فیصلے پاکستان میں ہوں گے

مشرق وسطیٰ کے تپتے ہوئے ریگزاروں اور نیلگوں سمندروں کی وسعتوں میں اس وقت بارود کی بو اور جنگ کے ہیبت ناک سائے منڈلا رہے ہیں جہاں ایران امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ایک ایسے آتش فشاں کی مانند ہے جو کسی بھی لمحے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی شطرنج ہے جس کی بساط پر مہرے تو موجود ہیں لیکن ہر چال کے پیچھے صدیوں کی رقابت اور جدید دور کی بالادستی کا جنون پنہاں ہے جہاں ٹیکنالوجی کے شاہکار ڈرونز اور میزائل فضاوں کے سینے کو چیرتے ہوئے ایک دوسرے کو للکارتے نظر آتے ہیں۔
اگرچہ عالمی افق پر افواہوں اور پروپیگنڈے کا بازار گرم رہتا ہے اور سٹریٹیجک جنگوں میں نقصانات کی خبریں کسی طلسماتی داستان کی طرح سنائی جاتی ہیں لیکن حقیقت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو اس اعصاب شکن معرکے میں دونوں اطراف کا مالی اور جانی نقصان کسی المیے سے کم نہیں ہے جہاں اربوں ڈالرز کا اسلحہ خاک میں مل رہا ہے اور خطے کی معیشت دم توڑتی دکھائی دیتی ہے۔ سمندر کی لہروں پر تیرتے ہوئے یہ لوہے کے پہاڑ اگرچہ اپنی جگہ قائم ہیں لیکن ان پر ہونے والے حملوں نے عالمی طاقتوں کے غرور کو خاک میں ضرور ملا دیا ہے۔
سمندر کے سینے پر تکبر کی علامت بن کر تیرنے والے وہ دو آہنی پہاڑ اب تلاطم خیز لہروں کے رحم و کرم پر ہیں جن کا غرور خاک میں مل چکا ہے اور جزوی شکست کے زخموں نے انہیں بے جان ڈھانچوں میں بدل دیا ہے جو اب کسی بھی معرکے کے قابل نہیں رہے یعنی امریکہ کے تکبر اور غرور کو ایرانی میزائلوں نے تباہ و برباد کر دیا ہے۔ دنیا اب ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں امن کی فاختہ بارود کے دھوئیں میں اپنا راستہ تلاش کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔
اگر یہ خونی معرکہ طوالت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات کسی قیامت صغریٰ سے کم نہ ہوں گے کیونکہ جنگوں کی آگ جب ایک بار بھڑک اٹھتی ہے تو وہ سرحدوں کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے معیشتوں کے مضبوط ستونوں کو پلک جھپکنے میں زمین بوس کر دیتی ہے اور امریکہ و اسرائیل کے لیے یہ مہم جوئی ایک ایسے بھنور کی صورت اختیار کر سکتی ہے جس سے نکلنا ان کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔ آبنائے ہرمز کی بندش دراصل عالمی شہ رگ پر خنجر چلانے کے مترادف ہوگی کیونکہ یہ وہ آبی راستہ ہے جہاں سے گزرنے والا تیل دنیا کے پہیے کو رواں دواں رکھتا ہے اور اس کی تالہ بندی عالمی منڈیوں میں اضطراب کی وہ لہر دوڑا دے گی جس کے نتیجے میں توانائی کا بحران پوری انسانیت کو اندھیروں کی نذر کر سکتا ہے۔
جب خام تیل کی رسد منقطع ہوگی تو صنعتوں کے پہیے جام ہو جائیں گے اور افراط زر کا وہ طوفان اٹھے گا جو ترقی یافتہ ممالک کی آسودگی اور غریب اقوام کی بقا دونوں کو ایک ساتھ ہڑپ کر جائے گا جبکہ عالمی سطح پر سیاسی اتحاد بکھرنے لگیں گے اور دنیا دو گروہوں میں تقسیم ہو کر ایک ایسی تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچ جائے گی جہاں صرف راکھ اور پچھتاوے ہی باقی بچیں گے۔ اس جنگ کا ہر نیا شعلہ انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ بنے گا اور تاریخ کے صفحات میں یہ دور ایک ایسے سیاہ باب کے طور پر درج ہوگا جہاں طاقت کے نشے میں چور حکمرانوں نے امن کی فاختہ کو بارود کے دھوئیں میں دم توڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔
پاکستان نے اپنی سٹرٹیجک اہمیت اور مدبرانہ قیادت کے ذریعے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اس خطے کا حقیقی پاسبان اور نیا چوہدری ہے جس کی اجازت اور مرضی کے بغیر یہاں امن کا کوئی بھی خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ہے۔ دنیا کے تمام ایوانوں پر یہ حقیقت اب روز روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ پاکستان کی سفارتی اطاعت اور اس کے کلیدی کردار کو تسلیم کیے بغیر مشرق وسطیٰ کے بحران کا کوئی پائیدار حل ممکن نہیں ہے اور یہ میٹنگ پاکستان کے وقار کو آسمان کی ان بلندیوں تک لے جائے گی جہاں اسے عالمی سیاست کا ناگزیر محور مانا جائے گا۔
تاریخ کے دریچوں سے جھانکتی ہوئی تقدیر کی یہ تحریر اب دیوار پر لکھے اس حرف کی مانند واضح ہو چکی ہے کہ اگر خلیج کے تپتے ہوئے صحراوں سے امریکی قدم اکھڑ جاتے ہیں اور اس کے فوجی اڈوں کا جادو ٹوٹ جاتا ہے تو اسرائیل کا مستقبل ریت کی اس دیوار کی طرح ثابت ہوگا جو پہلی ہی تند و تیز لہر کی تاب نہ لاتے ہوئے سمندر کی بے رحم موجوں میں تحلیل ہو جاتی ہے۔ امریکی چھتری کے سائے تلے پروان چڑھنے والی یہ ریاست اس وقت اپنی بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور ہو جائے گی جب اس کے سر سے وہ آہنی حصار ہٹ جائے گا جو اسے دہائیوں سے تحفظ فراہم کرتا چلا آ رہا ہے اور پھر صیہونی ریاست کا وجود ایک ایسے جزیرے کی مانند رہ جائے گا جو چاروں طرف سے غیظ و غضب کے سمندر میں گھرا ہوا ہو۔
خلیجی ممالک سے امریکی انخلا دراصل اس خطے میں ایک نئے سورج کے طلوع ہونے کی نوید ہے جہاں طاقت کا توازن یکسر بدل جائے گا اور اسرائیل کے لیے سٹرٹیجک تنہائی کا وہ کڑا وقت شروع ہوگا جس کا انجام صرف اور صرف شکست و ریخت کی صورت میں ہی ممکن ہے اور اقوام عالم پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ عالمی سیاست کے یہ فرعون ہمیشہ کے لیے ناقابل تسخیر نہیں ہیں بلکہ حق و باطل کے اس معرکے میں فتح بالآخر انہی کی ہوتی ہے جو اپنی زمین اور اپنے نظریات پر استقامت سے کھڑے رہتے ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا اس حقیقت کو تسلیم کر لے کہ مشرق وسطیٰ کی تقدیر کا فیصلہ اب کسی بیرونی ایوان میں نہیں بلکہ اسی مٹی کے سپوتوں کے ہاتھوں ہوگا جو اپنی غیرت اور حمیت کا سودا کرنا نہیں جانتے۔

