Aman Ke Liye Akhri Sifarti Koshish
امن کے لئے آخری سفارتی کوشش

امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کا جمود خطے میں ایک ایسے اضطراب کی نوید ہے جو کسی بھی وقت سنگین بحران میں بدل سکتا ہے۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اور ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات اسے اس سفارتی کشمکش میں ایک اہم فریق بناتے ہیں اسلام آباد کے لیے یہ دو دھاری تلوار ہے جہاں وہ خطے میں امن کا خواہاں ہے وہیں عالمی طاقتوں کے دباو کے پیش نظر اس کی گنجائش محدود رہتی ہے۔ تاہم پاکستان کا مکمل کنارہ کش ہو جانا نہ صرف اس کی سفارتی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا بلکہ دہلیز پر لگی اس آگ سے پاکستان کا دامن بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔
مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ ایٹمی پروگرام سے آگے بڑھ کر علاقائی اثر و رسوخ اور پراکسی جنگوں کے وہ پیچیدہ معاملات ہیں جن پر فریقین کا اعتماد ناپید ہے۔ اگر یہ بات چیت دوبارہ بحال نہ ہوئی تو ایران کو شدید معاشی تنہائی اور پابندیوں کے ایسے شکنجے کا سامنا ہوگا جس سے اس کا داخلی استحکام بری طرح متاثر ہو سکتا ہے۔ یہ تعطل نہ صرف فریقین کے لیے خسارہ ہے بلکہ پوری دنیا کے لیے عدم تحفظ کا پیغام ہے اور اگر دانشمندی سے کام نہ لیا گیا تو یہ تلخی کسی بڑے تصادم کی وجہ بن سکتی ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان اس سرد مہری کی سب سے بڑی وجہ وہ شرائط ہیں جو ایک دوسرے کے لیے ناقابل قبول ٹھہری ہیں تہران کا مطالبہ ہے کہ امریکہ پہلے ان تمام پابندیوں کو غیر مشروط طور پر ختم کرے جو معاشی پہیے کو جام کر رہی ہیں اور ساتھ ہی اس بات کی ٹھوس ضمانت دی جائے کہ مستقبل میں کوئی بھی امریکی حکومت اس معاہدے سے دستبردار نہیں ہوگی جبکہ دوسری طرف واشنگٹن کا اصرار ہے کہ ایران نہ صرف اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو محدود کرے بلکہ علاقائی سطح پر جاری اپنی عسکری سرگرمیوں اور پراکسی گروہوں کی حمایت سے بھی مکمل دستبردار ہو جائے۔
ایران ان مطالبات کو اپنی خود مختاری پر حملہ سمجھتا ہے اور انہیں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو کمزور کرنے کی سازش گردانتا ہے جبکہ امریکہ کا موقف ہے کہ جب تک ایران کے علاقائی رویے میں جوہری تبدیلی نہیں آتی تب تک اعتماد کی بحالی کا خواب دیکھنا محال ہے۔ یہ وہ گتھی ہے جو ہر بار مذاکرات کی میز کو خالی کر دیتی ہے کیونکہ ایک فریق اپنی بقا کے لیے معاشی بحالی چاہتا ہے تو دوسرا فریق اپنی عالمی بالادستی اور علاقائی اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ایران کے پر کاٹنا ضروری سمجھتا ہے اس کشمکش میں کوئی بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے اور یہ تعطل خطے کے مستقبل کو غیر یقینی صورتحال کی تاریکی میں دھکیل رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا پاکستان چین روس اور بھارت سمیت تمام ایشیائی معیشتوں کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ عالمی تیل کی ترسیل کا بڑا حصہ اسی گزرگاہ سے وابستہ ہے جس کے بند ہونے سے نہ صرف توانائی کا بحران پیدا ہوگا بلکہ تجارتی لاگت میں ہوشربا اضافہ ایشیائی منڈیوں کو تباہی کے دہانے پر لے آئے گا۔ ایران کو اس صورتحال میں عالمی معاشی شرح برقرار رکھنے کے لیے سفارت کاری اور مشترکہ اقتصادی مفادات کے ذریعے راضی کیا جا سکتا ہے تاکہ خطے میں پائیدار استحکام پیدا ہو سکے اور عالمی برادری تناو کم کرنے کے لیے موثر کردار ادا کرے۔
امریکہ کو اگر خطے میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا ہے تو اسے ایران کی علاقائی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے معاشی پابندیوں میں نرمی اور سکیورٹی ضمانتیں دینا ہوں گی بصورت دیگر مذاکرات کا متبادل صرف تباہ کن تصادم ہے جس کی آگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اگر یہ کشیدگی تیسری عالمی جنگ کی صورت اختیار کرتی ہے تو مشرق وسطی سے لے کر یورپ تک ہر ملک معاشی اور انسانی بحران کی دلدل میں دھنس جائے گا مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہر تاریک رات کے بعد اجالا ہوتا ہے اس جنگ کو ٹالنے کے لیے عالم انسانیت کو مشترکہ آواز اٹھانا ہوگی کہ بقائے باہمی ہی ترقی کا واحد راستہ ہے جب مذاکرات کی میز پر افہام و تفہیم کا سورج طلوع ہوگا تو ہرمز کی لہریں بھی پرسکون ہو جائیں گی اور انسانیت دوبارہ سکون کا سانس لے سکے گی کیونکہ امن ہی وہ واحد شفا ہے جو دنیا کو تباہی کے دہانے سے واپس لا سکتی ہے۔

