Abna e Hormuz Ki Ahmiyat Aur Aalmi Asraat
آبنائے ہرمز کی اہمیت اور عالمی اثرات

خلیج فارس اور بحیرہ عمان کو ملانے والی آبنائے ہرمز زمین کے سینے پر ایک ایسی شہ رگ ہے جس کی جنبش سے پوری دنیا کا معاشی نظام سانس لیتا ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے یہ تنگ سی پٹی ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے جو عالمی توانائی کی ترسیل کا سب سے بڑا مرکز مانی جاتی ہے۔ اگر کبھی یہ راستہ بند ہوا تو سعودی عرب اور کویت سمیت متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک کی پیٹرولیم مصنوعات قید ہو کر رہ جائیں گی۔ اس بندش کا براہ راست اثر صرف ان ممالک پر ہی نہیں پڑے گا بلکہ عراق کی معیشت بھی اس کی لپیٹ میں آئے گی کیونکہ یہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل عالمی منڈیوں کا رخ کرتا ہے جس کی منزلیں زیادہ تر چین اور جاپان کے ساتھ ساتھ بھارت اور جنوبی کوریا کی صنعتیں ہوتی ہیں۔
جب اس گزرگاہ سے تیل کی سپلائی منقطع ہوگی تو بین الاقوامی مارکیٹ میں ایندھن کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی جس سے پوری دنیا میں مہنگائی کا ایک ایسا طوفان اٹھے گا جو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان کوئی فرق نہیں چھوڑے گا۔ عالمی طاقتیں اس راستے کی حفاظت کو اپنی بقا سمجھتی ہیں کیونکہ یہاں پیدا ہونے والا معمولی سا تنازع بھی پورے کرہ ارض کو ایک شدید معاشی بحران میں دھکیل سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش درحقیقت عالمی صنعتی پہیے کو جام کرنے کے مترادف ہے جس کے بعد دنیا بھر کے کارخانے اور ٹرانسپورٹ کا نظام مفلوج ہو کر رہ جائے گا یہی وجہ ہے کہ اقوام عالم اس خطے میں ذرا سی بھی کشیدگی کو پوری انسانیت کے لیے ایک سنگین خطرہ تصور کرتی ہیں۔
مشرق وسطیٰ کے تپتے ہوئے ریگزاروں سے اٹھنے والے بارود کے بادل جب عالمی افق پر چھانے لگتے ہیں تو پاکستان کا کردار ایک ایسی ڈھال کی مانند ابھرتا ہے جو خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کا ضامن بن جاتا ہے۔ ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کے جارحانہ عزائم کی راہ میں پاکستان کا سٹرٹیجک دفاعی حصار ایک ایسی رکاوٹ ہے جسے عبور کرنا دشمن کے لیے محال دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کی ایٹمی قوت اور اس کی ناقابل تسخیر فوجی صلاحیت نے درحقیقت ایران کے گرد ایک غیبی حصار قائم کر رکھا ہے جس کی موجودگی میں اسرائیل کو یہ جرات نہیں ہوتی کہ وہ تہران پر کسی ایٹمی حملے کا خواب بھی دیکھ سکے کیونکہ پاکستان کی فوجی قیادت اور عوامی جذبات ہمیشہ سے مظلوم اسلامی ریاستوں کے حق میں دھڑکتے رہے ہیں۔
تہران اور اسلام آباد کے درمیان بڑھتا ہوا سکیورٹی تعاون اور خفیہ دفاعی مشاورت عالمی طاقتوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ اگر خطے میں کسی ایٹمی مہم جوئی کی کوشش کی گئی تو اس کی لہریں صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ پاکستان کا جدید ترین میزائل نظام اور فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت دشمن کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ یہی وہ مضبوط وجہ ہے جو واشنگٹن اور تل ابیب کو کسی بڑے اقدام سے باز رکھتی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان کا ساتھ ایران کے لیے ایک ایسی فولادی دیوار ہے جسے گرانا ناممکن ہے۔
تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ پاکستان نے ہمیشہ ایک بڑے بھائی کا کردار ادا کرتے ہوئے ایران کے ساتھ محبت اور خلوص کا رشتہ نبھایا ہے مگر تہران کا جھکاو ہمیشہ سے دہلی کی جانب رہا ہے جو ایک لمحہ فکریہ ہے۔ نریندر مودی کے اسرائیل نواز بیانات اور ایران کو دہشت گرد قرار دینے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سٹریٹجک معاہدوں کا تسلسل اور آبنائے ہرمز میں بند ہندوستانی جہازوں کو راستہ دینا اس تضاد کو واضح کرتا ہے کہ ایران اپنی مصلحتوں کو اسلامی اخوت پر ترجیح دیتا ہے۔
ماضی کی پاک بھارت جنگوں میں بھی جب پاکستان بقا کی جنگ لڑ رہا تھا تب ایران بھارت کے ساتھ پینگیں بڑھانے میں مصروف تھا لیکن اسلام آباد نے ان تلخ رویوں کو ہمیشہ نظر انداز کرتے ہوئے ہمسائیگی کا حق ادا کیا۔ آج جب اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو پاکستان میں موجود ایک مخصوص طبقہ جذباتی ہو کر اپنے ہی ملک کی املاک کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتا ہے جو سراسر حماقت اور نادانی ہے۔ اپنے گھر کو آگ لگا کر کسی دوسرے ملک سے ہمدردی جتانا نہ تو دانش مندی ہے اور نہ ہی حب الوطنی کا تقاضا ہے کیونکہ جب مشکل وقت آتا ہے تو تہران کی ترجیحات میں پاکستان نہیں بلکہ اپنے مفادات مقدم ہوتے ہیں۔ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی سلامتی ہی سب سے مقدم ہے اور جذباتی وابستگیوں کی آڑ میں ملک دشمنی کے عناصر کو پنپنے کا موقع دینا اپنی ہی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے جس کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔
پاکستان کی بے لوث حمایت اور سٹریٹیجک تعاون کے باوجود تہران کا منافقانہ رویہ اور سعودی عرب جیسے برادر ملک پر حملوں کی پشت پناہی ایک ایسی خلیج پیدا کر رہی ہے جسے پاٹنا مستقبل میں ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ اسلام آباد نے ہمیشہ برادر اسلامی ملک کے تحفظ کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کیں مگر جواب میں طیاروں کی غیر قانونی بندش اور دفاعی شراکت داروں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا سراسر احسان فراموشی کے مترادف ہے۔ یہ تلخ حقیقت اب واضح ہو چکی ہے کہ دوستی کا سفر یکطرفہ جذبوں سے طے نہیں ہو سکتا اور اگر ایران نے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی تو پاک ایران تعلقات کی بساط لپٹتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے کیونکہ پاکستان کی ترجیحات میں اب اپنی قومی سلامتی اور مخلص اتحادیوں کا تحفظ سب سے مقدم ہو چکا ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ تہران اپنے طرز عمل سے ثابت کرے کہ وہ واقعی ایک خیر خواہ پڑوسی ہے ورنہ تاریخ کے اس موڑ پر بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں پاکستان کو اپنے مفادات کی خاطر سخت فیصلے کرنا ہوں گے جو شاید خطے کی جغرافیائی سیاست کا رخ ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیں۔ اب یہ فیصلہ تہران کے ہاتھ میں ہے کہ وہ محبت کا جواب محبت سے دیتا ہے یا پھر دشمنی کی آگ میں خود کو جھونک کر اس لازوال رشتے کی راکھ اڑانے کا باعث بنتا ہے۔

