Tuesday, 23 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Sohail Bashir Manj
  4. Aam Admi Ka Muqadma

Aam Admi Ka Muqadma

عام آدمی کا مقدمہ

پاکستان کا مالی سال 2026-27 کا نیا بجٹ قومی اسمبلی میں ایک ایسے موڑ پر پیش کیا گیا ہے جہاں معاشی استحکام اور عوامی ریلیف کے درمیان ایک کٹھن توازن پیدا کرنے کی کوشش صاف نظر آتی ہے۔ یہ بجٹ گزشتہ سال کے مقابلے میں کئی حوالوں سے مختلف اور بہتر دکھائی دیتا ہے کیونکہ اس میں محض خساروں کو پورا کرنے کی روایتی حکمت عملی کی بجائے معیشت کو پائیدار ترقی کی سمت گامزن کرنے کے واضح اشارے موجود ہیں۔ عوامی توقعات کے پیمانے پر اگر اسے پرکھا جائے تو یہ ملا جلا ردعمل سامنے لاتا ہے جہاں ایک طرف مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام کے لیے فوری اور غیر معمولی ریلیف کی خواہش پوری طرح تو پوری نہیں ہو سکی لیکن دوسری طرف طویل مدتی معاشی استحکام کی نوید ضرور ملتی ہے جو مستقبل میں عام آدمی کے حالات بدلنے کی ضامن بن سکتی ہے۔

بجٹ کے خدوخال میں زندگی کے تمام اہم شعبوں کو تفصیلی طور پر زیر بحث لایا گیا ہے جن میں زراعت صنعت صحت تعلیم اور سماجی بہبود کے پروگرام نمایاں ہیں۔ خاص طور پر زراعت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور کسانوں کو براہ راست امداد فراہم کرنے پر توجہ دی گئی ہے جبکہ صنعتی پہیے کو تیز کرنے کے لیے توانائی اور برآمدات کے شعبے میں بڑی مراعات دی گئی ہیں۔ حکومت نے تعلیم اور صحت کے بجٹ میں اضافہ کرکے انسانی ترقی کو ترجیح دی ہے جس سے سماج کے پسماندہ طبقات کی زندگیوں میں حقیقی اور مثبت تبدیلی لانے کی قوی امید ظاہر کی گئی ہے اور یہ امیدیں ملکی خوشحالی کا نیا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

نیا بجٹ عام آدمی کی تقدیر بدل پائے گا یا نہیں یہ ایک ایسا سلگتا ہوا سوال ہے جو ہر شہری کے دل میں بے چینی پیدا کر رہا ہے کیونکہ بجٹ دستاویزات میں سجائے گئے لفظوں کے خواب جب تک عام آدمی کی پلیٹ میں روٹی بن کر نہ اتریں تب تک ان کی حیثیت محض کاغذ کے ٹکڑوں سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی۔ مہنگائی کے منہ زور طوفان کو لگام دینے کے لیے اس بار ایوان میں باقاعدہ طور پر ٹھوس اقدامات اور طویل مدتی معاشی منصوبے سامنے لائے گئے ہیں جن کا مقصد بنیادی ضرورت کی اشیاءپر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرکے براہ راست ریلیف فراہم کرنا ہے سب سے اہم اور حساس معاملہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا ہے جس پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا ہے اور عالمی مارکیٹ کے اثرات سے مقامی مارکیٹ کو بچانے کے لیے لیوی کی شرح میں ممکنہ حد تک توازن پیدا کرنے کی حکمت عملی وضع کی گئی ہے تاکہ پبلک ٹرانسپورٹ اور مال برداری کے اخراججات کم ہوں اور مہنگائی کی شرح کو یکدم نیچے لایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی غریب طبقے کو تحفظ دینے کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے وظائف میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے اور ایک ختم کی گئی کارپوریشن یوٹیلیٹی اسٹورز کے ذریعے سستی اشیائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کا عزم دہرایا گیا ہے جس سے یہ امید جاگتی ہے کہ اگر ان پالیسیوں پر دیانت داری سے عمل درآمد ہوا تو عام آدمی کی زندگی میں یقیناً ایک بڑا اور مثبت معاشی فرق نمایاں طور پر محسوس کیا جا سکے گا۔

موجودہ بجٹ کے کینوس پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو سولر انرجی اور نئے ٹیکس نیٹ جیسے اہم موضوعات پر ہونے والی بحث اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ حکومت اب روایتی طریقوں سے ہٹ کر سوچنے پر مجبور ہو چکی ہے شمسی توانائی کو فروغ دینے کے لیے نہ صرف درآمدی ڈیوٹیوں میں نرمی کی تجاویز زیر غور لائی گئی ہیں بلکہ مقامی سطح پر سولر پینلز کی تیاری اور ان کی برآمدات کے لیے مراعاتی پیکیج پر بھی بات کی گئی ہے تاکہ گرین انرجی کے خواب کو حقیقت میں بدلا جا سکے جبکہ دوسری طرف نان فائلرز پر ٹیکسوں کی شرح میں غیر معمولی اضافہ کرکے اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے نئے طبقے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی تجاویز دی گئی ہیں تاکہ دستاویزی معیشت کا دائرہ وسیع ہو سکے۔

اس بجٹ کے ظاہری خدوخال میں جہاں اشرافیہ کو نوازنے اور مراعات یافتہ طبقے کو تحفظ دینے کے پرانے اثرات اب بھی کہیں کہیں جھلکتے ہیں وہیں یہ تاثر مکمل سچ نہیں ہے کیونکہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے سبسڈیز اور ترقیاتی منصوبوں کی شکل میں کچھ ریلیف بھی رکھا گیا ہے لیکن ملکی معیشت کو اصل استحکام تب ہی ملے گا جب ان چند اہم شعبوں پر توجہ دی جائے گی جو اس بجٹ میں مکمل طور پر نظر انداز نظر آتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ آئی ٹی سیکٹر لائیو سٹاک اور سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر کے شعبوں میں انقلابی اصلاحات متعارف کروائے کیونکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی سافٹ ویئر اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے نوجوان فری لانسرز کو اگر ٹیکس فری زونز اور سستی انٹرنیٹ سہولیات دی جائیں تو یہ شعبہ راتوں رات اربوں ڈالر کا زر مبادلہ کما کر ملکی معیشت کا نقشہ بدل سکتا ہے اور اسی طرح لائیو اسٹاک کی جدید فارمنگ سے حلال گوشت اور ڈیری مصنوعات کی برآمدات کو بڑھا کر بیرونی ذخائر کو مضبوط کیا جا سکتا ہے لہٰذا اشرافیہ پر بھاری ٹیکس لگا کر ان پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری کرنا ہی ملکی معیشت کو بحرانوں سے نکالنے اور زر مبادلہ کے ذخائر کو تاریخی بلندیوں تک پہنچانے کا واحد اور حقیقی راستہ ہے۔

ایک عوامی بجٹ کی اصل روح یہ ہونی چاہیے تھی کہ وہ عام آدمی کی دہلیز پر لقمہ اجل بنتی امیدوں کو زندگی دیتا اور اس کٹھن دور میں غریب کی کمر توڑنے والے بلاواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ یکسر ختم کر دیتا حکومت اگر واقعی مخلص ہوتی تو روزمرہ کی غذائی اشیاء ادویات اور بچوں کی تعلیم پر ٹیکس زیرو کرکے سفید پوش طبقے کو سانس لینے کی مہلت دیتی اور نئے لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اراکین اسمبلی بڑے تاجروں اور جاگیرداروں کی پرتعیش زندگیوں پر بھاری ٹیکس عائد کرتی نئے ٹیکس گزاروں کو راغب کرنے کا بہترین طریقہ کار یہ تھا کہ شناختی کارڈ اور بینکنگ ٹرانزیکشنز کے ڈیجیٹل ڈیٹا کی مدد سے پرتعیش طرز زندگی گزارنے والے نان فائلرز کا گھیراو کیا جاتا اور ان پر اس حد تک دباو بڑھایا جاتا کہ وہ خود کو رجسٹرڈ کروانے پر مجبور ہو جاتے جبکہ سالہا سال سے باقاعدگی کے ساتھ ایمانداری سے ٹیکس دینے والے پرانے اور وفادار شہریوں کے لیے ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی کی جاتی تاکہ انہیں ملکی ترقی کا حصہ بننے کا صلہ مل سکتا۔

رئیل اسٹیٹ یعنی پراپرٹی کا شعبہ جو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور جس سے تعمیرات سمیت پچاس سے زائد دیگر صنعتوں کا چولہا جلتا ہے اس بجٹ میں شدید نظر انداز ہوا ہے اور ٹیکسوں کے بھاری بوجھ کے باعث یہ پورا کاروبار جمود کا شکار ہو چکا ہے جس سے لاکھوں دیہاڑی دار مزدور بے روزگار ہو گئے ہیں۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ پراپرٹی کی خرید و فروخت پر عائد گین ٹیکس اور ٹرانسفر فیس میں فوری کمی کرتی تاکہ مارکیٹ میں سرمایہ کاری دوبارہ شروع ہوتی سرمایہ ملک سے باہر جانے سے رک جاتا اور معیشت کا پہیہ گھومنے سے عام آدمی کو روزگار کے وسیع مواقع ملتے لہذا اب بھی وقت ہے کہ حکمران ایوانوں سے باہر نکل کر غریب کی چیخیں سنیں اور ان تجاویز پر عمل کرکے معیشت کو عوامی بنائیں۔

Check Also

Aurat Ka Jism: Makalma, Mazah Ya Mandi?

By Muhammad Aamir Hussaini