Siasi Surat e Haal Aur Nafrat Ki Fiza
سیاسی صورتحال اور نفرت کی فضا

سیاست اپنی اصل میں ایک فکری اور اصولی جدوجہد ہے جو لوگوں کی عافیت، بھلائی اور احساسِ تحفظ سے جڑی ایک اجتماعی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یہ وہ میدان ہے جہاں نظریات ٹکراتے ہیں مگر شخصیات محفوظ رہتی ہیں۔ انسانی معاشرے کا حسن اختلافِ رائے میں پوشیدہ ہے اور سیاسی اختلافِ رائے ایک فطری عمل ہے۔ مگر جب اختلاف اپنی حدود سے تجاوز کر جائے تو وہ رائے نہیں بلکہ نفرت میں بدل جاتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی اور ذاتی اختلافات کی تمیز مٹ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہی حقیقت ایک ایسا ناسور بن چکی ہے جو تعلقات، عزت اور باہمی اعتماد کو خاموشی سے چاٹ رہا ہے اور رشتوں کے اندر دراڑیں پیدا کر رہا ہے اور اسی غلیظ مرض سے نہ رہنما خود کو محفوظ رکھ سکا ہے اور نہ ہی رعایا خود کو بچا سکی ہے۔
سیاسی اختلاف کا مقصد کسی فرد کی تذلیل یا اس کی ذات سے دشمنی نہیں بلکہ ایک متبادل سوچ، ایک مختلف زاویۂ نظر پیش کرنا ہوتا ہے۔ مگر جب سیاسی فہم و شعور کی جگہ محض جذباتیت لے لیتی ہے تو پھر رشتے انہی نظریات کے بھینٹ چڑھنے لگتے ہیں۔ پھر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دلیل کی جگہ آواز اونچی ہونے لگتی ہے، برداشت ایک ناپید شے ٹھہرتی ہے اور مکالمے کی جگہ انا بولنے لگتی ہے۔ گویا کہ وہ قوم یا معاشرہ عدم برداشت، اخلاقی انحطاط اور بدتہذیبی کا شکار ہو جاتا ہے، تو پھر نفرت کی ایک ایسی فضا قائم ہوتی ہے جہاں بغض، کینہ و حسد لیے ہر ایک فرد، جو صبح سے شام تک روزگار کی الجھنوں میں الجھا ہوا ہوتا ہے، رات کو سوشل میڈیا کی پناہ میں آ جاتا ہے۔ وہاں وہ تھکن نہیں اتارتا بلکہ اپنے اندر کی کڑواہٹ انڈیلتا ہے۔ دو چار جملے کسی پر اچھال دیتا ہے، کچھ طنز کے تیر چلا دیتا ہے، کچھ گالم گلوچ کے بول بول دیتا ہے اور یوں اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس نے دن کا حساب چکا دیا ہے۔ یہ ایک ایسا چکر ہے جس میں نہ سوچ بدلتی ہے، نہ زندگی، بس الفاظ بدلتے ہیں، چہرے بدلتے ہیں اور موضوعات بدل جاتے ہیں، مگر ذہن وہی رہتا ہے، بند، تھکا ہوا اور منتشر۔
یہ بات ہمیں سمجھنا ہوگی کہ سیاست رشتوں اور انسانی تعلقات کا متبادل نہیں۔ اگر ہم سیاسی اختلاف کو ذاتی رشتوں پر فوقیت دیتے ہیں تو ہم دراصل عقل پر جذبات اور اصول پر انا کو ترجیح دے رہے ہوتے ہیں۔ لہٰذا سیاست کو اس کے دائرۂ کار تک محدود رکھنا اور رشتوں کو اس کی لپیٹ سے بچانا اور سیاسی اختلافات کے باوجود باہمی تعلقات، عزت و احترام کو برقرار رکھنا ایک باشعور انسان اور مہذب معاشرے کی پہچان ہے اور یہی زندگی کا اصل حسن ہے۔ لیکن یہ تب ممکن ہے جس دن ہمیں یہ احساس ہو کہ معاشرے کی اصلاح درحقیقت ایک فرد کی اصلاح سے ہوتی ہے۔ یہ زندگی دراصل ایک آئینہ ہے، جب تک ہم دوسروں کو دیکھتے رہیں گے، اپنا عکس دھندلا ہی نظر آئے گا۔ جس دن نگاہ اپنے اندر اترے گی، اسی دن خود کی بھی اور معاشرے کی بھی اصلاح ہونے لگے گی۔

