Firdous e Arzi Ka Saheefa e Jamal Gilgit Baltistan
فردوسِ ارضی کا صحیفہِ جمال "گلگت بلتستان"

ایک مشہور مقولہ ہے: "Nature always wears the colors of the spirit. "
یہ قول گلگت بلتستان کی فطری جمالیات پر مکمل طور پر صادق آتا ہے، گلگت بلتستان محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ مظاہرِ قدرت کی وہ لازوال تمثیل ہے جہاں فطرت اپنی تمام تر رعنائیوں، نزاکتوں اور دل فریب جلوہ سامانیوں کے ساتھ سراپا تخلیق بن کر جلوہ گر دکھائی دیتی ہے۔ یہ وہ سرزمینِ دلنواز ہے جہاں فلک بوس کوہسار آسمان سے ہمکلام نظر آتے ہیں، جہاں بلوریں جھیلیں نیلگوں آئینوں کی مانند افقِ خیال پر عکس فگن ہوتی ہیں، جہاں زمرّدیں مرغزار نسیمِ سحر کے دوش پر جھومتے ہوئے یوں محسوس ہوتے ہیں گویا زمین نے سبز مخملی پیرہن زیبِ تن کر رکھا ہو۔
قدرت نے اس خطۂ دلکش کو ایسے محیرالعقول مناظر سے آراستہ کیا ہے کہ ہر صاحبِ ذوق و ہر عاشقِ فطرت یہاں پہنچ کر وجد و کیف کی ایسی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے جہاں الفاظ دم توڑ دیتے ہیں اور احساسات خاموش عقیدت میں ڈھل جاتے ہیں۔
یہ خطہ اپنی دلآویز فضاؤں، روح پرور سکوت اور سحر انگیز مناظر کے باعث انسان کے قلب و ذہن کو ایک ایسی طمانیت عطا کرتا ہے جو شاید دنیا کے کسی اور گوشے میں میسر نہیں۔ جب صبحِ نو کی اولین شعاعیں برف پوش چوٹیوں پر پڑتی ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے افقِ مشرق پر طلوع ہونے والا آفتاب سنہری کرنوں کی آبشار لئے کوہساروں پر نور کی چادر بچھا رہا ہو۔
گلگت بلتستان کی وادیاں حسنِ فطرت کا ایسا مرقع ہیں جہاں ہر سو گل ہائے رنگارنگ کی بہار، شگفتہ شاخساروں کی دلکشی اور زمردیں سبزہ زاروں کی لطافت انسان کے احساسات کو معطر کر دیتی ہے۔ موسمِ بہار میں جب گوناگوں پھول اپنے رنگین پیرہن زیبِ تن کرتے ہیں تو پوری وادی یوں محسوس ہوتی ہے گویا کسی مصورِ فطرت نے رنگوں کی بارش کر دی ہو۔ نسیمِ سحر جب ان شگوفوں کو چھو کر گزرتی ہے تو فضا میں ایک دلنشیں مہک تحلیل ہو جاتی ہے جو روح کو سرشار کر دیتی ہے۔
یہاں کی فضائیں صرف ٹھنڈی نہیں بلکہ روح پرور ہیں۔ یہاں کی خاموشی محض سکوت نہیں بلکہ ایک نغمگی ہے۔ یہاں کے درخت صرف سبز نہیں بلکہ گویا قدرت کے زندہ اشعار ہیں۔ یہاں کے پھول صرف خوشبودار نہیں بلکہ رنگ و نور کی متحرک تفسیر ہیں۔ ان پھولوں کی مہک انسان کے باطن میں ایک ایسی سرشاری پیدا کرتی ہے جو روحانی کیف کا احساس دلاتی ہے۔
گلگت بلتستان کے شبستانِ فطرت میں رات کا سماں بھی اپنی مثال آپ ہے۔ جب شب کی سیاہ چادر کو لاکھوں ستارے روشن کرتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے افلاک کے چراغ زمین والوں کیلئے روشن کر دیے گئے ہوں۔ یہاں کی شبیں خاموش ضرور ہوتی ہیں مگر ان کی خاموشی میں بھی فطرت کا ایک وجد آفریں ترنم پوشیدہ ہوتا ہے۔
یہ سرزمین نہ صرف حسنِ فطرت کا مظہر ہے بلکہ روحانی سکون کا استعارہ بھی ہے۔ یہاں پہنچ کر انسان مادّی دنیا کی بے معنویت سے آشنا ہوتا ہے اور فطرت کی آغوش میں ایک نئی زندگی محسوس کرتا ہے۔ یہاں کی فضائیں دل کے زخموں پر مرہم رکھتی ہیں، یہاں کے پہاڑ حوصلہ سکھاتے ہیں، یہاں کے دریا رواں رہنے کا درس دیتے ہیں اور یہاں کے پھول محبت و لطافت کی حکایت سناتے ہیں، گلگت بلتستان قدرتِ کاملہ کی وہ لازوال تخلیق ہے جہاں حسن اپنی معراج پردکھائی دیتا ہے۔
یہ وہ سرزمین ہے جہاں ہر منظر ایک شعر، ہر وادی ایک خواب، ہر جھیل ایک آئینہ اور ہر نسیم ایک دعا محسوس ہوتی ہے۔ جو شخص ایک بار اس جنتِ ارضی کی سیر کر لیتا ہے، اس کا دل ہمیشہ کیلئے ان وادیوں کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے اور پھر عمر بھر اسے فطرت کی اسی آغوشِ سکون میں لوٹ جانے کی آرزو رہتی ہے۔

