Monday, 23 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Zindagi Ka Husn Shaoor Mein

Zindagi Ka Husn Shaoor Mein

زندگی کا حسن شعور میں

زندگی کبھی سیدھی سڑک نہیں ہوتی یہ ایک ایسی شاہراہ ہے جس پر کبھی اسپیڈ بریکر نظر نہیں آتا اور کبھی بغیر وارننگ کے موڑ آ جاتا ہے ہم گاڑی بھی خود چلا رہے ہوتے ہیں رفتار بھی خود طے کرتے ہیں۔ مگر جب سپیڈ میٹر کی سوئی حد سے آگے بڑھتی ہے تو سب سے پہلے ہمارا اپنا دل دھڑکنے لگتا ہے۔ عجیب تضاد ہے رفتار ہماری اسٹیئرنگ ہمارے ہاتھ میں لیکن خوف بھی ہمارا ہی زندگی جس رفتار سے چلتی ہے۔ اصل میں وہ رفتار وقت کی نہیں ہماری بے ہنگم خواہشات کی ہوتی ہے ہم چاہتے ہیں کہ سب کچھ جلدی ہو جائے کامیابی بھی تیز شہرت بھی تیز دولت بھی تیز اور تبدیلی بھی تیز ہم صبر کے پرانے نسخے کو دقیانوسی کہہ کر الماری میں رکھ دیتے ہیں اور پھر جب زندگی ریس کی کار بن جاتی ہے تو ہمیں اپنے ہی قدموں کی چاپ سنائی نہیں دیتی تب خوف جنم لیتا ہے۔

ڈَر دراصل زندگی سے نہیں ہوتا، ڈر بے قابو رفتار سے ہوتا ہے جب ہم خود سے آگے نکلنے لگتے ہیں جب ہمارے فیصلے ہماری برداشت سے بڑے ہو جاتے ہیں جب خواب ہمارے حوصلے کی چھت توڑ دیتے ہیں تو پھر ہم اپنے ہی انتخاب پر سوال اٹھاتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر پوچھتا ہے کیا میں نے درست سمت چنی تھی یا صرف تیز رفتاری کو کامیابی سمجھ لیا تھا۔

مسئلہ یہ نہیں کہ زندگی تیز ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے تیزی کو ہی زندگی کا مترادف بنا لیا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ جو شخص آہستہ چل رہا ہے وہ پیچھے رہ گیا ہے حالانکہ حقیقت میں وہ شاید خود کو بچا رہا ہوتا ہے۔ ہم رفتار کے عاشق ہیں مگر توازن کے دشمن انسان جب اپنا راستہ خود چنتا ہے تو اس میں ایک خود اعتمادی بھی ہوتی ہے اور ایک انا بھی۔ خود اعتمادی یہ کہ میں فیصلہ کر سکتا ہوں اور انا یہ کہ میرا فیصلہ غلط نہیں ہو سکتا لیکن جیسے ہی راستہ کچا نکلے جیسے ہی رفتار بوجھ بن جائے انا کانپنے لگتی ہے اور خود اعتمادی سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ تب ہم اپنے ہی انتخاب کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں اور یہی وہ غیر معمولی کیفیت ہے جسے آپ نے خوبصورت انداز میں بیان کیا۔

زندگی کی رفتار سے ڈرنا دراصل اس شعور کا نام ہے جب انسان پہلی بار سمجھتا ہے کہ وہ ناقابلِ شکست نہیں وہ فانی ہے محدود ہے اور اس کے فیصلے بھی محدود بصیرت کے تابع ہیں۔ یہ ڈر کمزوری نہیں یہ بلوغت کی علامت بھی ہو سکتا ہے کیونکہ جو انسان کبھی نہیں ڈرتا، وہ اکثر کچھ سیکھتا بھی نہیں اصل سوال یہ نہیں کہ رفتار تیز کیوں ہے اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے رفتار کو معیار کیوں بنایا؟

ہم نے اپنی کامیابی کا پیمانہ سکون کی بجائے تیزی کو کیوں بنا دیا ہم نے کتنی بار رک کر یہ سوچا کہ منزل صرف پہنچنے کا نام نہیں۔ صحیح سلامت پہنچنے کا نام بھی ہے زندگی کی شاہراہ پر اصل حکمت شاید یہی ہے کہ رفتار اور وقار میں توازن قائم رکھا جائےکبھی ایکسیلیٹر پر پاؤں مضبوطی سے رکھنا پڑتا ہے اور کبھی بریک پر اعتماد سے۔ ہر موڑ پر رفتار بڑھانا بہادری نہیں کبھی کم کرنا بھی دانشمندی ہوتی ہے۔

بالآخر انسان کو اپنے انتخاب سے ڈرنے کے بجائے اپنے انتخاب کو سمجھنے کی ضرورت ہے اگر ہم نے رفتار خود چنی ہے تو ہمیں اس کی ذمہ داری بھی قبول کرنی ہوگی شک اگر آئے تو اسے دشمن نہ بنائیں اسے رہنما بنائیں کیونکہ یہی سوالات ہمیں اندر سے پختہ کرتے ہیں۔ زندگی کی رفتار سے ڈرنا غیر معمولی ضرور ہے مگر شاید اسی ڈر میں ایک نیا توازن چھپا ہوتا ہے وہ توازن جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی دوڑ نہیں سفر ہے اور سفر میں سب سے اہم چیز رفتار نہیں شعور ہوتا ہے۔

اس دوڑ میں آخرکار جب سانسیں بوجھل ہونے لگتی ہیں اور قدم لرزنے لگتے ہیں تو انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اس نے زندگی کو جینے کے بجائے صرف دوڑا ہے۔ نہ راستوں کا حسن دیکھا نہ ہمسفر کی تھکن سمجھی نہ اپنے دل کی دھڑکن سنی ریس کا میدان جیت بھی لیا جائے تو کیا حاصل اگر اندر کا سکون ہار جائے شاید دانشمندی اسی میں ہے کہ کبھی رک کر خود سے پوچھ لیا جائے۔ کیا یہ دوڑ ضروری ہے کیونکہ زندگی کا حسن رفتار میں نہیں شعور میں ہے اور شعور ہمیشہ دوڑنے سے نہیں ٹھہرنے سے پیدا ہوتا ہے۔

Check Also

Hamari Tarjeehat Sirf Protocol Ya Maeeshat

By Malik Zafar Iqbal