Ye Na Insafi Kyun?
یہ نا انصافی کیوں؟

جمہوریت کی اصل خوبصورتی اس کے نعروں میں نہیں بلکہ اس کے عملی رویّوں میں ہوتی ہے۔ جہاں اختلافِ رائے کے لیے دروازے بند کر دیے جائیں، وہاں فکر و بیان کی ہوا بھی گھٹن کا شکار ہو جاتی ہے حال ہی میں گلگت کے الیکشن کمیشن آفس میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے موقع پر ایک بڑی سیاسی جماعت کے نمائندے کو داخلے سے روک دیا گیا۔ یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا سوال جنم دے گیا ہے جو جمہوری ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے۔ کیا ہم واقعی اختلاف کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
سیاسی عمل کی اصل روح شمولیت، برداشت اور برابری میں پنہاں ہے۔ اگر کسی ایک جماعت کو اس عمل سے باہر رکھا جائے تو پورا توازن بگڑ جاتا ہے اور اعتماد کی وہ نازک ڈور کمزور پڑ جاتی ہے جس پر جمہوری ڈھانچہ قائم ہوتا ہے۔ اختلافِ رائے کو دیواروں کے پیچھے قید کرنا مسائل حل نہیں کرتا بلکہ انہیں مزید پیچیدہ اور گہرا بنا دیتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی قوتوں کو ایک ہی نظر سے دیکھا جائے نہ کوئی قریب ہو نہ دور نہ کوئی پسندیدہ ہو نہ ناپسندیدہ یہی غیرجانبداری وہ بنیاد ہے جس پر شفاف اور مضبوط جمہوریت کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے اداروں کا وقار بھی اسی میں ہے کہ وہ ہر قسم کے دباؤ جھکاؤ اور سیاسی پسند و ناپسند سے بالاتر رہیں۔
مگر افسوس کہ چیف الیکشن کمشنر کی پریس کانفرنس بطور چیف الیکشن کمشنر کے بجائے اپوزیشن لیڈر کی سی لگ رہی تھی۔ ان کے لہجے میں پی ٹی آئی کے خلاف سخت زبان کے ساتھ ساتھ نفرت کی بو بھی جھلک رہی تھی یہ انتہائی شرم کا مقام ہے۔ جب ایک اہم آئینی عہدیدار خود کو متنازع بنا لے تو پھر اس کے فیصلوں پر عوام کا اعتماد کیسے قائم رہ سکتا ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی بے روزگاری اور سیاسی عدم استحکام کی زد میں ہیں اگر انہیں یہ احساس بھی ہو جائے کہ ان کے ووٹ کی حفاظت کرنے والا ادارہ غیرجانبدار نہیں ہے تو جمہوریت کا پورا ڈھانچہ کھوکھلا ہو جاتا ہے۔
گلگت بلتستان جیسے حساس علاقے میں یہ معاملہ اور بھی اہمیت کا حامل ہے یہاں کے عوام پہلے ہی آئینی حقوق اور نمائندگی کے حوالے سے احساسِ محرومی کا شکار ہیں ایسے میں اگر سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع نہ دیے جائیں تو یہ احساس مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس ایک ایسا پلیٹ فارم ہوتا ہے جہاں اختلافات کو سنا جاتا ہے روکا نہیں جاتا مگر اس بار اختلاف کو داخلے سے پہلے ہی روک دیا گیا یوں لگا جیسے جمہوریت کو خود اپنے دروازے پر ہی واپس بھیج دیا گیا ہو۔ راجہ زاکریا کو اس انداز میں روکنا صرف ایک سادہ انتظامی اقدام نہیں لگتا بلکہ اس کے پیچھے ایک واضح سیاسی جھکاؤ محسوس ہوتا ہے۔ اگر ایک سیاسی جماعت کو اظہارِ رائے اور شرکت کے بنیادی حق سے محروم کیا جائے تو پھر باقی عمل کو غیرجانبدار کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔ جمہوریت کی بنیاد برابری کے اصول پر ہوتی ہے ہر سیاسی جماعت کو آزادانہ سرگرمیوں یکساں مواقع اور انتخابی عمل میں مکمل شرکت کا حق حاصل ہونا چاہیے اگر کسی جماعت کو انتظامی فیصلوں تکنیکی وجوہات یا اختیارات کے غلط استعمال کے ذریعے محدود کیا جائے تو میدان سب کے لیے برابر نہیں رہتا یہیں سے اعتماد ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے۔
الیکشن کمیشن جیسا ادارہ صرف انتخابات کرانے والا نہیں بلکہ ان کی ساکھ اور شفافیت کا ضامن بھی ہوتا ہے اگر اس کے کسی فیصلے سے ایک مخصوص جماعت کو نشانہ بنائے جانے کا تاثر پیدا ہو تو لازم ہے کہ اس فیصلے کی مکمل شفاف اور قانونی بنیادوں پر وضاحت کی جائے۔۔ ابہام جمہوریت کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ اسلامی ریاست کی بنیاد عدل پر ہوتی ہے وہ عدل جو کمزور اور طاقتور کے درمیان کوئی فرق نہ کرے مگر جب طاقتور قانون سے بالاتر ہو جائے اور کمزور انصاف کے لیے دربدر پھرے تو نام اور حقیقت کے درمیان خلیج واضح ہو جاتی ہے۔
جمہوریت کا مطلب صرف ووٹ ڈالنا نہیں بلکہ عوام کی رائے کا احترام اداروں کی غیرجانبداری اور احتساب کا یکساں نظام ہے اگر فیصلے بند کمروں میں ہوں اور عوام صرف تماشائی بن کر رہ جائیں تو جمہوریت محض ایک رسمی ڈھانچہ بن جاتی ہے۔ یہ واقعہ محض ایک فرد کو دروازے سے واپس کرنے کا نہیں بلکہ پورے سیاسی نظام کے چہرے پر پڑنے والا ایک بڑا سوالیہ نشان ہے نیز ایک جماعت کے ساتھ یہ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیوں ہو رہا ہے یہ یہ کوئی جمہوری عمل نہیں ڈیکٹر نظام لگتا ہے
فیصلہ شاید ابھی نہیں ہوا مگر تاریخ ایسے لمحات کو خاموشی سے محفوظ کر لیتی ہے اور پھر ایک دن یہی خاموشیاں سب سے بلند آواز بن جاتی ہیں ناانصافی کرنے والوں کو بے نقاب کرتی ہیں اور ان سے حساب مانگتی ہیں جمہوریت کو زندہ رکھنے کے لیے نعروں کی نہیں رویّوں کی ضرورت ہے جہاں رویّے تنگ ہوں وہاں نظام بھی تنگ ہو جاتا ہے۔ سوال اب بھی وہی ہے کیا ہم واقعی ایک منصفانہ اور شفاف انتخابی نظام کی طرف بڑھ رہے ہیں یا صرف اس کا تاثر قائم رکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اس سوال کا جواب ہمارے رویّے دیں گے نہ کہ ہمارے نعرے۔

