Tuesday, 20 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Waqar Ke Sath Jeena Hai Ya Ghulami Ke Sath

Waqar Ke Sath Jeena Hai Ya Ghulami Ke Sath

وقار کے ساتھ جینا ہے یا غلامی کے ساتھ

دنیا کی طاقتیں آج بھی اسی مغالطے میں مبتلا ہیں کہ معاشی پابندیاں کسی قوم کی ریڑھ کی ہڈی توڑ دیتی ہیں کہ روٹی، بجلی، ادویات اور تیل کا دباؤ قوموں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتا ہے مگر ایران کی تاریخ اس مفروضے کی عملی تردید ہے۔ ایران نے ثابت کیا کہ پابندیاں صرف انہی قوموں کو توڑتی ہیں جن کے ارادے کرائے کے ہوں، جن کے حکمران بیرونی ایوانوں میں اعتماد ڈھونڈتے ہوں اور جن کے فیصلے قومی مفاد کے بجائے ذاتی بینک اکاؤنٹس میں تولے جاتے ہوں۔

ایران نے ایسی دنیا میں آنکھ کھولی جہاں اس کے لیے دروازے بند تھے مگر اس نے کھڑکیاں خود تراشیں محدود وسائل، مسلسل پابندیاں، سائنسی و عسکری بائیکاٹ اس سب کے باوجود ایران نے دفاعی صلاحیت مقامی بنیادوں پر استوار کی ٹیکنالوجی پیدا کی۔ اتحادی بنائے اور سفارتی محاذ پر اپنی موجودگی منوائی۔ دشمن کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے بلکہ سینہ تان کر ہر محاظ پر کھڑے رہے۔ یہ سب کسی بیرونی سہارے کے بغیر ممکن نہیں تھا اگر پیچھے ایمان غیرت اور قومی عزم جیسی نایاب طاقت موجود نہ ہوتی۔

یہی وجہ ہے کہ عالمی سیاست میں ایران اب محض ایک ریاست نہیں رہا بلکہ ایک ناقابلِ نظرانداز حقیقت بن چکا ہے دشمن جدید ترین اسلحہ عالمی حمایت اور میڈیا کے طوفان کے باوجود جانتا ہے کہ ایسے حریف کے ساتھ ٹکر لینا آسان نہیں جو ہار کو ذلت اور جھکنے کو موت سمجھتا ہو۔ طاقت ہمیشہ میزائلوں کی رینج یا بجٹ کے ہندسے نہیں ہوتے، اصل طاقت وہ حوصلہ ہے جو قوم کو آخری حد تک ڈٹ جانے پر مجبور کر دے اس کے برعکس جب ہم پاکستان کی طرف دیکھتے ہیں تو دل سوال کرتا ہے۔ ایٹمی قوت ہونے کے باوجود ہم کیوں کمزور نظر آتے ہیں؟ کیوں ہمارے فیصلوں میں خود داری نہیں بلکہ خوف جھلکتا ہے؟

اصل مسئلہ ہتھیاروں کی کمی نہیں مسئلہ ایمان کی کمزوری کا ہے ہمیں اللہ پر یقین کم اور انسانوں پر اعتماد زیادہ ہے۔ ہم امریکہ آئی ایم ایف اور عالمی طاقتوں سے اس طرح ڈرتے ہیں جیسے یہ ہمارے رزق کے مالک ہوں بلکہ ماضی میں ہمارے حکمرانوں نے بیانات داغے ہم امریکہ سے پنگا لیں گے تو وہ ہمیں پتھر کے دور میں لے جائے گا۔ یہ ہماری ایمان کی کمزوری کے ساتھ ہماری بزدلی کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کے مفادات پاکستان کی سرحدوں کے اندر نہیں بلکہ لندن دبئی، نیویارک اور پیرس کے فلیٹس میں دفن ہیں۔ عوام کے خون پسینے کے ٹیکسوں سے لوٹی گئی دولت بیرونِ ملک محفوظ ہے اس لیے انہیں نہ پابندیوں کا خوف ہے، نہ عوام کی تذلیل کا احساس ایران کے حکمرانوں کے بچے بیرونِ ملک جائیدادوں میں محفوظ نہیں اس لیے وہ دباؤ میں بھی ڈٹے رہتے ہیں۔ پاکستان کے حکمرانوں کے بچے یہاں نہیں اس لیے وہ ہر دباؤ پر جھک جاتے ہیں یہی بنیادی فرق ہے جو ایک قوم کو سینہ تان کر کھڑا رکھتا ہے اور دوسری کو مسلسل معذرت خواہ بنائے رکھتا ہے۔

آج کے دور میں جب بہت سی ریاستیں چند معاشی مفادات کے بدلے نظریاتی سرحدیں پار کر لیتی ہیں ایران کا رویہ ایک الگ مثال ہے۔ وہ کمزور ہو سکتا ہے دباؤ میں ہو سکتا ہے مگر بےغیرت نہیں تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی قوم غیرت کے ساتھ کھڑی ہو جائے تو بالآخر دشمن کو پیچھے ہٹنا پڑتا ہے چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو جو آج ہم نے پریکٹکلی اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لیا۔

پاکستان کو ایران سے میزائل نہیں مزاج سیکھنا چاہیے، پاکستان کو ایران سے ٹیکنالوجی نہیں غیرت سیکھنی چاہیے اور سب سے بڑھ کر پاکستان کو ایران سے یہ سبق لینا چاہیے کہ قومیں اللہ پر بھروسے سے بنتی ہیں عالمی طاقتوں کے سہارے سے نہیں۔

سوال یہ نہیں کہ ہم کب طاقتور ہوں گے، اصل سوال یہ ہے کہ ہم کب باوقار ہوں گے؟ کب ہم غیرت مند بنیں گے اگر ہم نے اب بھی غلامانہ ذہنیت ذاتی مفادات اور خوف کے بت نہ توڑے تو ایٹم بم بھی ہمیں عزت نہیں دلا سکے گا لیکن جس دن یہ قوم اپنے اللہ پر یقین اور اپنی خودداری واپس لے آئی اس دن کوئی طاقت ہمیں جھکا نہیں سکے گی یہ فیصلہ ہمیں کرنا ہے وقار کے ساتھ جینا ہے یا مفاد کے بدلے سر جھکا کر سانس لینا ہے؟

Check Also

Tehran Mein Kya Dekha (1)

By Javed Chaudhry