Saturday, 06 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Wafadari Ki Saza (1)

Wafadari Ki Saza (1)

وفاداری کی سزا (1)

آج ایک بار پھر میں نے ایک تعلیم یافتہ سلجھے ہوئے صاحبِ شعور اور دانشور کہلانے والے شخص کو ایک ایسے سیاسی قافلے کے پیچھے چلتے دیکھا جس کی منزل کا خود اسے بھی علم نہیں تھا۔ میں نے اسے اس قیادت کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے دیکھا تو دل میں عجیب سا صدمہ پیدا ہوا۔ سوال یہ نہیں تھا کہ وہ کس جماعت سے تعلق رکھتا ہے سوال یہ تھا کہ آخر ہمارے پڑھے لکھے لوگوں کو ہوا کیا ہے؟

تعلیم تو شعور دیتی ہے آگہی عطا کرتی ہے اچھے اور برے میں فرق کرنا سکھاتی ہے حق اور باطل کی پہچان دیتی ہے مگر ہمارے ہاں الٹا منظر دکھائی دیتا ہے جتنا بڑا ڈگری ہولڈر اتنی بڑی سیاسی غلامی جتنا بڑا دانشور اتنی بڑی شخصیت پرستی۔ لوگ دلیل کی بجائے چہروں کے اسیر ہو چکے ہیں۔ سوال کی بجائے نعرے لگا رہے ہیں اور شعور کی بجائے ہجوم کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ گلگت بلتستان میں آج بھی قافلے پہ قافلہ چڑھا ہوا ہے لوگ جھنڈے اٹھائے، ہاتھ باندھے نظریں جھکائے اپنے سیاسی آقاؤں کے پیچھے آنکھیں بند کرکے چل رہے ہیں مگر کوئی یہ پوچھنے والا نہیں کہ منزل کہاں ہے۔

اناسی برس گزر گئے قافلے تو بہت نکلے مگر منزل آج تک نہ ملی وہی وفاقی غلامی ہے وہی طاقتور حلقوں کو سلام ہے وہی بے اختیاری ہے وہی آئینی محرومی ہے اور وہی بے بسی گلگت بلتستان کی سرزمین آج وقتی طور پر رنگین دکھائی دے رہی ہے جلسے ہیں جلوس ہیں نعروں کی گونج ہے سیاسی کاروان ہیں اور وعدوں کی بہار ہے کیوں نہ ہو؟

انتخابات سر پر ہیں حسبِ معمول وفاقی سیاست کے سوداگر موقع پرست اور مطلب پرست قافلوں کی صورت یہاں اتر آئے ہیں کوئی پچاس ہزار میگاواٹ بجلی دینے کا اعلان کر رہا ہے کوئی بائیں ہاتھ سے بجلی فراہم کرنے کے دعوے کر رہا ہے کوئی گلگت بلتستان کو سوئٹزرلینڈ بنانے کی نوید سنا رہا ہے کوئی ترقی کے ایسے خواب دکھا رہا ہے جن کی تعبیر شاید خواب دکھانے والے خود بھی نہیں جانتے یہ وعدے نئے نہیں ہیں یہی وعدے گزشتہ اناسی برس سے دہرائے جا رہے ہیں ہر پانچ سال بعد ان پر نئی پالش چڑھائی جاتی ہے اور عوام کے سامنے پیش کر دیے جاتے ہیں۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وعدے کرنے والے بھی نہیں تھکتے اور وعدے سننے والے بھی نہیں اکتاتے دونوں باکمال ہیں مطلب بے مثال ہیں چراغ لیکر ڈھونڈو نہیں ملیں گے اصل مسئلہ سیاستدان نہیں ہیں سیاستدان تو اپنا کام کر رہے ہیں اصل مسئلہ وہ عوام ہیں جو ہر بار تالیوں سے استقبال کرتی ہیں نعروں سے جواب دیتی ہیں اور سوال پوچھنے سے گریز کرتی ہیں۔ آج تک کسی سیاسی جماعت سے کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ پچھلے انتخابات میں جو وعدے کیے گئے تھے ان کا کیا ہوا؟ وہ ترقی کہاں گئی؟ وہ خوشحالی کہاں گئی؟ وہ روزگار کہاں گیا؟ وہ بجلی کہاں گئی؟ اور سب سے بڑھ کر وہ آئینی حقوق کہاں گئے؟

شاید گلگت بلتستان کی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ یہاں کے لوگوں نے پاکستان کے ساتھ اپنی وابستگی کسی معاہدے کسی شرط یا کسی مفاد کے تحت اختیار نہیں کی تھی یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی جانوں قربانیوں اور وفاداریوں کا نذرانہ پیش کیا انہوں نے کسی قیمت کا مطالبہ نہیں کیا کسی شرط کا تقاضا نہیں کیا صرف محبت اور وابستگی کا رشتہ قائم کیا مگر تاریخ کا ایک تلخ باب یہ بھی ہے کہ اس بے لوث وفاداری کا صلہ آج تک سوائے محرومیوں کے سوا کچھ نہیں ملا۔ کچھ سزائیں عدالتیں سناتی ہیں کچھ حکمران دیتے ہیں اور کچھ سزائیں تاریخ دیتی ہے گلگت بلتستان کے لوگ شاید آج بھی اپنی وفاداری کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

یہ دنیا کا شاید واحد خطہ ہے جس نے بغیر کسی شرط کے الحاق کیا اور پھر اناسی برس سے اپنی ہی شناخت کا منتظر کھڑا ہے یہاں کے دریا دوسروں کے شہروں کو روشن کرتے ہیں مگر خود یہ خطہ اندھیروں میں رہتا ہے 22 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہے یہاں کے پہاڑ دوسروں کی معیشت کو سہارا دیتے ہیں مگر یہاں کے نوجوان روزگار کے لیے دربدر ہیں یہاں کے لوگ سرحدوں کے محافظ ہیں مگر اپنی ہی آئینی شناخت کے لیے سوال اٹھانے پر مجبور ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے گلگت بلتستان کے عوام کو ان کی وفاداری کا انعام نہیں بلکہ سزا دی جا رہی ہو اور یہ سزا بھی ایسی جس پر ہر گزرتے سال کے ساتھ سود بڑھتا جا رہا ہے۔

حقوق نہیں، اختیار نہیں، مکمل نمائندگی نہیں، وسائل پر ملکیت نہیں مگر قربانیوں کا مطالبہ ہر روز موجود ہے اور شاید اسی لیے آج سب سے اہم سوال سڑکوں، پلوں، بجلی گھروں اور ترقیاتی منصوبوں سے پہلے آئینی شناخت کا ہے سوال یہ ہے کہ آخر اناسی برس بعد بھی گلگت بلتستان کی حیثیت کیا ہے؟ اس کے عوام کا مقام کیا ہے؟ اور کب تک یہ خطہ قربانیوں کی فہرست میں تو شامل رہے گا مگر حقوق کی فہرست سے باہر رکھا جائے گا جس دن گلگت بلتستان کا عام آدمی طالب علم استاد، مزدور، تاجر اور نوجوان جلسوں میں تالی بجانے کی بجائے یہ سوال پوچھنا شروع کر دے کہ جناب! نئے وعدے بعد میں سنائیے پہلے پرانے وعدوں کا حساب دیجیے اس دن تبدیلی کی پہلی کرن طلوع ہوگی کیونکہ قومیں نعروں سے نہیں بنتیں شعور سے بنتی ہیں اور شعور کی پہلی نشانی سوال ہوتا ہے۔

اناسی برس گزر گئے حکومتیں بدلتی رہیں چہرے بدلتے رہے وعدے بدلتے رہے مگر گلگت بلتستان کے حصے میں آج بھی وہی سوال ہیں جن کے جواب تاریخ کے کسی اندھے کونے میں گم ہو چکے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس خطے کے لوگوں کو ان کی وفاداری کا انعام نہیں بلکہ سزا دی جا رہی ہو اور وہ سزا بھی ایسی جس پر ہر گزرتے سال کے ساتھ سود بڑھتا جا رہا ہے محرومیاں بڑھ رہی ہیں۔ وسائل چھینے جا رہے ہیں اختیارات محدود کیے جا رہے ہیں مگر وفاداری کا مطالبہ آج بھی پہلے دن جتنا ہی شدید ہے۔ شاید اسی کا نام "وفاداری کی سزا" ہے۔

Check Also

Kasb e Kamal e Kun: Baba Phatta

By Asif Masood