Monday, 27 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Wadon Ka Mosam Aur Haqiqat Ka Sehra

Wadon Ka Mosam Aur Haqiqat Ka Sehra

وعدوں کا موسم اور حقیقت کا صحرا

ہمارے نمائندے الیکشن سے پہلے وعدوں کی بارش کرتے ہیں مگر اقتدار ملتے ہی وہی وعدے ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ یہ کوئی نئی کہانی نہیں بلکہ ایک مسلسل چلنے والا المیہ ہے۔ اپنی زندگی میں شاید ہی کوئی ایسا امیدوار یا سیاسی جماعت دیکھی ہو جس نے انتخابی وعدوں کو واقعی عملی جامہ پہنایا ہو چاہے پاکستان ہو یا گلگت بلتستان ہر جگہ الفاظ کا جادو تو ہے مگر عمل کی روشنی کم ہی نظر آتی ہے۔ 2024 کے انتخابات میں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملا۔ بڑے بڑے نعرے دلکش دعوے کہ غریبوں کو تین سو یونٹ بجلی مفت دی جائے گی بجلی کا بل حکومت خود ادا کرے گی۔ مگر جب حقیقت کا وقت آیا تو سب وعدے دم توڑ گئے نتیجہ وہی نکلا جو ہمیشہ نکلتا ہے عوام کے ہاتھ مایوسی اور حکمرانوں کے حصے میں مراعات 11 ارب کا جہاز اور عیاشی۔

اب صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ لوگ اپنی چھتوں پر اپنے خرچ سے سولر سسٹم لگاتے ہیں۔ اپنی ضرورت پوری کرتے ہیں مگر اس پر بھی ٹیکس کا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے سوال یہ ہے کہ جب سب کچھ عوام کا اپنا ہے چھت بھی سرمایہ بھی بجلی بھی تو پھر یہ ٹیکس کیسا؟ یہ کیسا انصاف ہے اس سے بھی زیادہ حیران کن بات عوام کا رویہ ہے ہم بحیثیت قوم شاید بہت جلد بھول جاتے ہیں کل کے وعدے آج کی خاموشی میں دفن ہو جاتے ہیں نہ احتجاج نہ سوال بس ایک خاموش قبولیت پٹرول مہنگا ہو۔ بجلی کے بل بڑھیں یا نئے ٹیکس لگیں ہم سب کچھ سہہ کر بھی چپ رہتے ہیں جیسے یہ سب ہمارا مقدر ہو۔

انسان کی اصل پہچان اس کے دعووں سے نہیں بلکہ اس کی کارکردگی سے ہوتی ہے مضبوطی کے دعوے ہر کوئی کر لیتا ہے۔ اہلیت کے قصیدے ہر زبان سجا لیتی ہے مگر وقت گواہ ہے کہ اصل سچ ہمیشہ عمل کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ یہ کہنا آسان ہے کہ میں اہل ہوں میں مضبوط ہوں مگر یہ ثابت کرنا صرف وہی جانتا ہے جو واقعی عوام کے درمیان رہ کر خدمت کرتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام لفظوں کے جادو میں نہ آئیں کیونکہ لفظ صرف سچ کا لباس ہی نہیں دھوکے کا ہتھیار بھی بن سکتے ہیں۔

مکار لوگ الفاظ سے خواب بیچتے ہیں سبز باغ دکھاتے ہیں اور جب اقتدار ملتا ہے تو وہی خواب ادھورے چھوڑ کر خود آسائشوں کی دنیا میں کھو جاتے ہیں گلگت بلتستان میں جیسے جیسے انتخابات قریب آ رہے ہیں ویسے ویسے دعووں کا شور بڑھتا جا رہا ہے۔ ہر امیدوار خود کو سب سے زیادہ اہل سب سے زیادہ مضبوط اور سب سے زیادہ مخلص ثابت کرنے میں مصروف ہے۔ وعدوں کے پل باندھے جا رہے ہیں زمین و آسمان ایک کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہی لوگ گزشتہ پانچ سال عوام کے درمیان موجود تھے یا پھر وہ اسلام آباد کے ایوانوں میں گم مراعات کے سائے میں مگن تھے اور عوام کو محض ایک یادِ ماضی بنا چکے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب اقتدار ملتا ہے تو یہی دعوے دار چہرے بدل لیتے ہیں تم کون اور میں کون کی دیواریں کھڑی ہو جاتی ہیں پھر یہی لوگ الیکشن کے وقت لوٹے بن کر نئی قیمتوں پر فروخت ہوتے ہیں۔ یہ اپنے مفادات کا سودا کرتے ہیں اس میں عوام کہیں نہیں ہوتی پارٹیاں بدلتے ہیں اور ضمیر کو مفاد کی منڈی میں نیلام کر دیتے ہیں عوام کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے اگر آج بھی فیصلہ جذبات کی بنیاد پر کیا گیا برادری کی بنیاد پر کیا پارٹی کی بنیاد پر کیا اور پھر انہی چہروں پر اعتبار کیا جو بار بار رنگ بدلتے ہیں تو پھر آنے والے سال بھی مایوسی، محرومی اور دھوکے کے ہی ہوں گے۔

اس لیے اس بار فیصلہ مختلف ہونا چاہیے ووٹ کسی نعرے کو نہیں کسی وعدے کو نہیں بلکہ کارکردگی کو دیں۔ اس شخص کو منتخب کریں جس کا ماضی صاف ہو جس کا حال عوام کے ساتھ جڑا ہو اور جس کا مستقبل علاقے کی ترقی سے وابستہ ہو۔ جوش نہیں ہوش سے فیصلہ کریں کیونکہ آپ کا ایک ووٹ صرف ایک امیدوار نہیں چنتا بلکہ آنے والے وقت کی سمت متعین کرتا ہے یاد رکھیں ایماندار انتخاب ہی اصل کامیابی ہے اور باشعور عوام ہی حقیقی تبدیلی لاتے ہیں۔

گلگت بلتستان میں بھی انہی روایات کے ساتھ آج وہی پرانا کھیل جاری ہے وفاق سے آئے ہوئے سیاسی شکاری پھر سرگرم ہیں۔ میٹھی زبان بڑے وعدے، روشن مستقبل کے خواب صوبہ بنانے کا بیانیہ مگر اندر وہی پرانی چالاکیاں وہی دھوکہ، وہی مفاد پرستی تاریخ گواہ ہے کہ یہ کھیل بارہا کھیلا جا چکا ہے اب وقت آ گیا ہے کہ گلگت بلتستان کے باشعور عوام خود سے سوال کریں کیا ہم ہمیشہ اسی دائرے میں گھومتے رہیں گے کیا ہم پارٹی وابستگیوں، لسانی تقسیم اور وقتی مفادات سے اوپر اٹھ کر ایک قوم نہیں بن سکتے کیا ہم اپنی عقل بھی کبھی استعمال کریں گے یا ان چوروں کے ڈکٹیشن پر غلام بن کر آنکھیں بند کرکے مزید دھوکے کھاتے رہیں گے۔

اگر ہم نے اب بھی نہ سوچا خود کو نہ بدلا تو آنے والے مزید 78 سال بھی اسی غلامی اسی محرومی اور اسی استحصال کی کہانی کا حصہ بن کر رہین گے۔ آئینی حقوق، جو ہر انسان کا بنیادی حق ہے آج بھی اس خطے کے عوام اس سے محروم ہیں اور یہ ایک تلخ حقیقت ہے یہ بات شاید سخت لگے کچھ لوگوں کو ناگوار گزرے مگر سچ یہی ہے اور سچ کو بیان کرنا ضروری ہے بلکہ میری مجبوری ہے چاہے وہ کتنا ہی کڑوا کیوں نہ ہو اب فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے یا تو ہم پرانی روایتوں کے اسیر رہیں یا ایک نئی سوچ ایک نئی راہ کا انتخاب کریں۔

Check Also

Khamosh Deta, Phelta HIV

By Dr. Muhammad Tayyab Khan Singhanvi