Tuesday, 10 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Teil Sasta Magar Qaum Mehangi Kyun?

Teil Sasta Magar Qaum Mehangi Kyun?

تیل سستا مگر قوم مہنگی کیوں؟

رات گئے قوم سے خطاب میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے حسبِ روایت قوم کو نازک حالات کی یاد دہانی کروائی اور عندیہ دیا کہ تیل کی قیمتیں مزید بڑھ بھی سکتی ہیں۔ قوم ابھی اس خطاب کے بوجھ سے سنبھل ہی رہی تھی کہ عالمی منڈی سے ایک اور خبر آ گئی۔ خام تیل کی قیمت 119 ڈالر سے گر کر 81 ڈالر تک آ گری۔ یعنی ایک ہی دن میں غیر معمولی کمی اب سوال سادہ سا ہے، مگر شاید اقتدار کے ایوانوں کے لئے بہت مشکل: کیا اس کمی کا فائدہ بھی عوام تک پہنچے گا یا نہیں؟

پاکستان میں ایک عجیب معاشی اصول رائج ہے۔ جب عالمی منڈی میں قیمت بڑھتی ہے تو حکومت فوراً عوام کو بتاتی ہے کہ حالات خراب ہیں اور قیمت بڑھانا مجبوری ہے۔ لیکن جب قیمت کم ہوتی ہے تو ریاستی مشینری پر ایک عجیب خاموشی طاری ہو جاتی ہے۔ گویا کمی کا تعلق عوام سے نہیں بلکہ صرف حکمرانوں کے حساب کتاب سے ہوتا ہے۔

اس وقت ملک کا عام آدمی مہنگائی کے ہاتھوں بری طرح پس چکا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ ہو یا دیہاڑی دار مزدور، سب کے لئے زندگی ایک مسلسل امتحان بن چکی ہے۔ بچوں کی تعلیم، علاج اور روزمرہ کی ضروریات اب ایک خواب بنتی جا رہی ہیں۔ گھروں کے چولہے بجھنے لگیں تو قوم کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہونے لگتا ہے۔

اسی دوران ایک اور منظر بھی قوم کے سامنے ہے۔ پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ خود کو اکثر "قوم کی ماں" کہہ کر مخاطب کرتی ہیں۔ ماں کا تصور تو قربانی، شفقت اور اولاد کے درد سے بے چین ہو جانے کا ہوتا ہے۔ مگر یہاں المیہ یہ ہے کہ ماں کے بچے مہنگائی اور غربت سے نڈھال ہیں، گھروں میں چولہے ٹھنڈے پڑے ہیں، نوجوان بے روزگاری کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں، مگر اقتدار کے ایوانوں میں قیمتی جہازوں اور شاہانہ اخراجات کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ عوام سوچتے ہیں کہ اگر ماں واقعی ماں ہوتی تو شاید سب سے پہلے اپنے بچوں کے خالی برتنوں کی آواز سنتی، نہ کہ آسائشوں کے نئے سامان کی گونج۔

پاکستان کی سیاست اور طاقت کے ایوانوں کی کہانی بھی عجیب ہے۔ یہاں اقتدار کے کھیل میں کبھی سیاستدان نمایاں نظر آتے ہیں اور کبھی طاقت کے دوسرے مراکز۔ مگر انجام اکثر ایک ہی نکلتا ہے: عوام کے حصے میں مہنگائی، بے بسی اور انتظار۔

ریٹائرڈ جرنیلوں اور بڑے سیاستدانوں کی زندگیوں پر نظر ڈالیں تو اکثر قصے بیرونِ ملک جائیدادوں، محلات اور آسائشوں کے سننے کو ملتے ہیں۔ محبِ وطنی کے ترانے بلند ہوتے ہیں مگر جب ان ترانوں کے پیچھے کی زندگیوں کو دیکھا جائے تو سوالات جنم لینے لگتے ہیں۔ قوم سوچتی ہے کہ حب الوطنی کے سب سے بلند دعوے کرنے والے ہی اگر سب سے زیادہ آسودہ حال نکلیں تو پھر قربانی کا بوجھ ہمیشہ عام آدمی کے کندھوں پر کیوں رکھا جاتا ہے؟

یہ ملک قربانیوں سے بنا تھا مگر آج قربانی صرف عوام سے مانگی جاتی ہے حکمرانوں سے نہیں آج جب عالمی منڈی میں تیل سستا ہو رہا ہے تو قوم صرف ایک سوال پوچھ رہی ہے کیا اس بار بھی ریلیف کا دروازہ بند رہے گا؟ کیونکہ ریاست کی اصل طاقت اس کے محلات بیانات یا پروٹوکول میں نہیں ہوتی ریاست کی اصل طاقت اس کے عوام کی خوشحالی اور اعتماد میں ہوتی ہے اور جب عوام کا اعتماد ٹوٹنے لگے تو پھر صرف قیمتیں ہی نہیں گرتیں ریاست کی ساکھ بھی گرنے لگتی ہے۔

یہ سوال تلخ ضرور ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ اس ملک کے عام شہری کو ہمیشہ قربانی کا درس دیا گیا ہے۔ اسے کہا جاتا ہے کہ حالات مشکل ہیں، صبر کرو۔ مگر صبر کی یہ آزمائش ہمیشہ ایک ہی طبقے سے کیوں لی جاتی ہے؟

آج عالمی منڈی میں تیل سستا ہو رہا ہے قوم صرف اتنا پوچھ رہی ہے کیا اس بار بھی ریلیف کا دروازہ بند رہے گا یا پھر پہلی بار ریاست اپنے عوام کو یہ احساس دلائے گی کہ یہ ملک صرف حکمرانوں کا نہیں بلکہ ان کا بھی ہے۔

کیونکہ ریاستیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ انصاف اور دیانت سے چلتی ہیں اور جب انصاف غائب ہو جائے تو قوم کے دل میں سوال جنم لیتے ہیں اور سوال کبھی مرتے نہیں اب پاکستان کی عوام کو قربانیوں کا بکرا نہ بنایا جائے اقتدار سے وابستہ لٹیروں کو کچھ شرم کرکے عوام کو ریلیف دینے کی ضرورت ہے۔

Check Also

Mick Hunt: Aik Aur Azeem Rukhsat

By Asif Masood