Tehzeeb Hai Koi Tweet Nahi Ji Mit Jaye Gi
تہذیب ہے کوئی ٹویٹ نہیں جو مٹ جائے گی

ایک ایسا جہاہل شخص جو طاقت اور غرور کے نشے میں اپنے آپ کو خدا سمجھ بیٹھا ہے روز نئی ایک بونگی مار کر یہ بتلاتا ہے کہ مجھ سے بڑا احمق اس جہاں مین کوئی نہیں۔ ٹرمپ جیسے جاہل کا اعلان میں ایران کو ایک رات میں ختم کرونگا یہ حماقت اور جہالت نہیں تو اور کیا ہے۔ ایک رات میں ایک تہذیب کو ختم کرنے والا لگتا ہے احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ یہ محض ایک بیان نہیں تھا یہ طاقت کے نشے میں بدمست ذہن کی وہ بڑ ہے جس میں تاریخ کا شعور نہیں تہذیب کا احترام نہیں اور الفاظ کی حرمت بھی محفوظ نہیں رہتی ایک رات میں ایک تہذیب ختم ہو جائے گی یہ جملہ نہیں جہالت کا اشتہار ہے۔
دنیا کے نقشے پر کچھ چہرے ایسے ابھرتے ہیں جو خود کو زمانے کا محور سمجھ بیٹھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے ایک حکم سے موسم بدل جائیں گے ایک اشارے سے قومیں مٹ جائیں گی اور ایک رات میں تاریخ کے ہزاروں سال راکھ ہو جائیں گے مگر تاریخ جناب ٹویٹر کی ٹائم لائن نہیں ہوتی کہ ایک اسٹیٹس ڈیلیٹ کیا اور قصہ ختم۔ ایران یہ کوئی پروجیکٹ نہیں کوئی رجیم نہیں کوئی وقتی سیاسی بندوبست نہیں کہ جسے ایک میزائل سے اڑا کر نیا نقشہ کھینچ لیا جائے۔
یہ تہذیب ہے وہ تہذیب جس کے قدموں کے نشان مٹی میں نہیں وقت کی پیشانی پر ثبت ہیں چھ ہزار برس کی کہانی کو ایک رات کے اندھیرے میں دفن کرنے کا خواب دیکھنے والے شاید یہ نہیں جانتے کہ تہذیبیں بموں سے نہیں کردار سے مرتی ہیں اور ایران کا کردار ابھی زندہ ہے۔ سکندر آیا اپنی فتوحات کے زعم میں مست منگول آئے آگ اور خون کا طوفان لے کر بغداد کے کتب خانے جلائے گئے شہر مٹی میں ملائے گئے مگر فارس کی روح وہ نہ جلی نہ بکھری بلکہ مزید نکھر گئی۔ اس نے خود کو زبان میں ڈھالا ادب میں چھپایا اور نسلوں کے سینوں میں محفوظ کر لیا یہ وہ تہذیب ہے جو تلوار سے نہیں لفظ سے زندہ رہتی ہے۔
یہاں ابنِ سینا نے طب کو علم بنایا الخوارزمی نے اعداد کو زبان دی اور فردوسی نے تاریخ کو نظم میں امر کر دیا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے تہذیب کو کتابوں میں نہیں شعور میں زندہ رکھا اور شعور پر نہ پابندی لگتی ہے نہ میزائل گرتے ہیں اب آ جائیے ریاست کی طرف ایران کوئی ریت کا گھروندہ نہیں جسے ایک لہر بہا لے جائے یہ ایک منظم ریاست ہے اداروں کے ساتھ نظم کے ساتھ اور سب سے بڑھ کر ایک ایسے عوام کے ساتھ جو تاریخ سے جڑے ہوئے ہیں زخمی ضرور ہے، مگر کھڑا ہے۔ تھکا ہوا ہے مگر جھکا نہیں۔۔
رجیم چینج کے خواب؟ یہ بھی کوئی نئی فلم نہیں اسکرپٹ پرانا ہے اداکار نئے ہیں عراق میں دہرایا گیا افغانستان میں آزمایا گیا لیبیا میں کھیلا گیا نتیجہ؟ ملبہ، انتشار اور ایک نہ ختم ہونے والا خلا ای ران کو بھی اسی کڑاہی میں ڈالنے کی خواہش رکھنے والے شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر زمین ایک جیسی نہیں ہوتی ہر قوم ایک جیسے سانچے میں نہیں ڈھلتی اور پھر وہ عنصر جسے مغربی تجزیہ کار ہمیشہ نظر انداز کر دیتے ہیں۔ عقیدہ کربلا محض ایک واقعہ نہیں ایک ذہنی کیفیت ہے ایک جزبہ ہے وہ کیفیت جو خوف کو بے معنی بنا دیتی ہے جس قوم کے لیے موت شکست نہیں بلکہ ایک معنوی کامیابی ہو اسے آپ کس چیز سے ڈرائیں گے پابندیوں سے؟ وہ اس کے عادی ہیں تنہائی سے؟ وہ اس میں خود کفیل ہو چکے جنگ سے؟ وہ پچاس برس سے اسی کے سائے میں سانس لے رہے ہیں یہ جنگ اگر ہے تو صرف ہتھیاروں کی نہیں یہ بیانیے کی جنگ ہے حوصلے کی جنگ ہے کردار کی جنگ ہے سوچ کی جنگ ہے اور سب سے بڑھ کر تاریخ اور طاقت کے درمیان ایک پرانا مقابلہ ہے طاقت ہمیشہ جلدی میں ہوتی ہے تاریخ ہمیشہ صبر سے کام لیتی ہے اور آخرکار جیت ہمیشہ صبر کی ہوتی ہے۔
چالیس دن آپ کو بھی شاید خیبر یاد آئے مگر تاریخ خود کو دہراتی نہیں صرف اشارے دیتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کل کیا ہوگا اصل سوال یہ ہے کہ کون اپنی جگہ پر کھڑا رہے گا۔ تہذیبیں ایک رات میں ختم نہیں ہوتیں جناب ہاں، تکبر ضرور ایک لمحے میں دفن ہو جاتا ہے بس اپنے غرور کو دفن ہونے کا انتظار کریں اپنی جاہلانہ سوچ کی بربادی کا انتظار کریں یہ تہذیب والا ملک ہمیشہ اس دنیا میں قائم رہے گا تمہارا نام و نشان ضرور مٹ جائے گا۔

