Tawaf e Kaba Ya Tawaf e Namood?
طوافِ کعبہ یا طوافِ نمود؟

آج کل عبادت بھی عجیب موڑ پر آ کھڑی ہوئی ہے۔ نیتیں اب دلوں میں کم اور کیمروں میں زیادہ محفوظ کی جا رہی ہیں۔ وہ سفر جو کبھی روح کی تطہیر، نفس کی شکست اور رب کی قربت کا وسیلہ ہوا کرتا تھا، اب سوشل میڈیا کی زینت بنتا جا رہا ہے۔ حج اور عمرہ جو سراسر بندگی عاجزی اور خود سپردگی کا مظہر ہیں آج کل اسٹیٹس اپڈیٹ اور اسٹوری ہائی لائٹس اور ٹک ٹاک کی زینت بنتی جارہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے ہم اللہ کے لئے نہیں بلکہ اپنے نفس کو خوش کرنے کے لئے اپنی تشہیر کے لئے آئے ہیں۔ بزنس کلاس کی نشست سے لے کر خانہ کعبہ کے سامنے تک ہر منظر کو محفوظ کرنے کی ایسی دوڑ لگی ہے کہ اصل مقصد کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ یہ کیسا طواف ہے جس میں نگاہیں کعبہ پر کم اور موبائل اسکرین پر زیادہ جمی ہوتی ہیں؟
یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا واقعی امیر لوگ ان غریب مسلمانوں کو حج و عمرہ پر نہیں بھیج سکتے جو زندگی بھر اس سعادت کے منتظر رہتے ہیں؟ یقیناً بھیج سکتے ہیں اور تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں اہلِ ثروت نے خاموشی سے بغیر کسی تشہیر کے، دوسروں کو اللہ کے گھر کی زیارت کروائی۔ مگر آج مسئلہ صرف نہ بھیجنے کا نہیں، بلکہ اپنی عبادت کو بھی نمائش میں بدل دینے کا ہے۔ رمضان کا آخری عشرہ آتے ہی ایک خاص روحانی فیشن شو شروع ہو جاتا ہے مہنگے ہوٹلوں کے کمروں سے لی گئی تصاویر، سجے ہوئے دسترخوان اور کیپشن میں پھر بلاوا آ گیا گویا اللہ کی طرف سے نہیں، بلکہ فالوورز کی طرف سے بلاوا آیا ہو عبادت جو اخلاص کا تقاضا کرتی ہے وہ دکھاوے کی نذر ہو جاتی ہے۔
سب سے افسوسناک منظر وہ ہے جب دورانِ طواف ویڈیوز بنائی جا رہی ہوتی ہیں لائیو اسٹریم چل رہی ہوتی ہے اور گھر بیٹھے لوگوں کو آن لائن حاضری دی جا رہی ہوتی ہے۔ کیا واقعی یہ وہی حاضری ہے جس کے لیے لاکھوں لوگ ترستے ہیں؟ اللہ کے گھر کی حاضری تو دل کی حاضری ہوتی ہے جہاں انسان خود کو بھول کر صرف اپنے رب کو یاد کرتا ہے وہاں کیمرے نہیں، آنسو بولتے ہیں وہاں اسٹیٹس نہیں، سجدے گواہی دیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ عبادت کا حسن اس کی خاموشی میں ہے جتنی زیادہ پوشیدگی، اتنا ہی زیادہ اخلاص۔ جو عبادت دنیا کو دکھانے کے لیے کی جائے وہ شاید دنیا میں داد سمیٹ لے، مگر آخرت میں خالی ہاتھ رہ جائے۔ ایسے لوگ لوگوں کی نظر میں تو حاجی بن جاتے ہیں مگر اللہ کے حضور ان کی حیثیت کیا ہے یہ صرف وہی جانتا ہے۔
اور جو ہر سال پریس ریلیز جاری کرتے ہیں کہ اس سال بھی اللہ نے بلایا شاید انہیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اللہ بلاتا ہے یا انسان خود اپنے وسائل کے بل بوتے پر پہنچتا ہے؟ اگر بلاوا واقعی ہوتا تو اس میں عاجزی ہوتی خاموشی ہوتی اور شکر کا وہ رنگ ہوتا جو دکھاوے سے کوسوں دور ہوتا ہے۔
عبادت کا سفر جسمانی تھکاوٹ کا نہیں روحانی بیداری کا نام ہے اگر اس سفر سے واپسی پر بھی دل میں وہی ریا، وہی نمود وہی خودنمائی باقی رہے، تو سمجھ لیجیے کہ ہم نے صرف کعبہ کا طواف نہیں کیا، بلکہ اپنے نفس کا طواف کرتے رہے آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی نیتوں کا محاسبہ کریں اگر اللہ کے لیے جا رہے ہیں تو پھر اللہ ہی کو کافی سمجھیں دنیا کو گواہ بنانے کی کیا ضرورت ہے؟ اپنے نفس کو خوش کرنے کی کیا ضرورت ہے یاد رکھیے اللہ کے گھر کی حاضری تصویر نہیں تقدیر بدلنے کا نام ہے اپنے گناہوں بخشوانے اور صدق دل توبہ کرکے ایک اچھے مسلمان بننے کا نام ہے۔

