Friday, 17 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Super Power Se Sifar Power Tak Ka Safar

Super Power Se Sifar Power Tak Ka Safar

سپر پاور سے صفر پاور تک کا سفر

طاقتور جب اپنے آپ کو خدا سمجھنے لگے تو اس کے زوال کی کہانی لکھنا شروع ہو جاتی ہے۔ تاریخ کے اوراق میں جھانکیں تو ہر وہ قوت جو اپنے آپ کو ناقابلِ شکست سمجھ بیٹھی بالآخر مٹی کی دھول میں تحلیل ہوگئی۔ فرعون کے محلات ہوں یا شداد کے باغات، قارون کے خزانوں کی چمک ہو یا کسی سلطنت کی فوجی طاقت، سب کا انجام ایک جیسا رہا عبرت۔ امریکہ بھی کبھی طاقت کا وہ استعارہ تھا جس کے اشارے پر دنیا کی سیاست کروٹ لیتی تھی۔ اس کی معیشت معیار اس کی فوجی قوت مثال اور اس کا بیانیہ جمہوریت کا علمبردار سمجھا جاتا تھا مگر مسئلہ ہمیشہ طاقت نہیں ہوتا مسئلہ طاقت کے استعمال کا ہوتا ہے جب طاقت انصاف کے تابع ہو تو وہ رحمت بنتی ہے اور جب خواہشات کی غلام ہو جائے تو زحمت یہی وہ موڑ تھا جہاں سے امریکہ کا زوال شروع ہوا۔

دنیا کو انسانی حقوق کا سبق دینے والا ملک خود انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث پایا گیا۔ عراق کی تباہی افغانستان کی بربادی فلسطین میں انسانوں پر ظلم یہ سب وہ داغ ہیں جو کسی سپر پاور کے چہرے پر اچھے نہیں لگتے۔ طاقت کے نشے میں جب کمزور اقوام کے وسائل پر قبضے کی کوشش کی گئی، جب جنگوں کو امن کا نام دے کر مسلط کیا گیا تو دنیا نے پہلی بار سوال اٹھانا شروع کیا کیا یہ وہی امریکہ ہے جو انصاف کا علمبردار تھا اور پھر وہ لمحہ بھی آیا جب انسانیت کا دعویٰ رکھنے والے ہاتھ معصوموں کے خون سے رنگے گئے۔ ایک سکول میں 169 بچوں کی جانیں ختم ہوئیں یہ صرف ایک واقعہ نہیں تھا یہ ایک سوال تھا ایک چیخ تھی جو عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی تھی مگر طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کے کان شاید بند ہو چکے تھے طاقت کا غرور ہمیشہ اندھا ہوتا ہے اور اندھے کو راستہ نہیں صرف کھائیاں نظر آتی ہیں۔

آج امریکہ کی حیثیت ایک ایسے طاقتور کی سی ہو چکی ہے جو بولتا بہت ہے مگر سنا کم جاتا ہے۔ عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو وہ دھچکا لگا ہے جس کی بازگشت برسوں تک سنائی دے گی۔ چین کا ابھار روس کی مزاحمت، ایران کا ڈٹ کر سامنا کرنا اور شکست سے دو چار کرنا اور دنیا کا بدلتا ہوا توازن یہ سب اس بات کا اعلان ہیں کہ یک قطبی دنیا کا سورج غروب ہو رہا ہے مگر سوال یہ نہیں کہ امریکہ کمزور کیوں ہوا سوال یہ ہے کہ وہ کمزور کیسے ہوا۔ جواب سیدھا ہے جب عدل ختم ہو جائے تو طاقت کھوکھلی ہو جاتی ہے۔

دنیا کی کوئی بھی طاقت چاہے وہ کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو اگر وہ انصاف برابری اور انسانیت کو پسِ پشت ڈال دے تو اس کا انجام وہی ہوتا ہے جو تاریخ کے اوراق میں دفن ہے۔ امریکہ نے اگر واقعی اپنے مقام کو برقرار رکھنا تھا تو اسے ٹینکوں اور میزائلوں سے زیادہ انصاف اور اخلاق کی ضرورت تھی، انسانیت سے ہمدردی کی ضرورت تھی، اخلاص کی ضرورت تھی مگر افسوس، طاقت کے ایوانوں میں اکثر یہ بات دیر سے سمجھ آتی ہے۔ آج دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت کا معیار بدل رہا ہے اب صرف ہتھیار نہیں، بلکہ سچائی انصاف اور اخلاقی برتری ہی اصل طاقت ہیں اور جو قومیں اس حقیقت کو سمجھ جائیں گی وہی مستقبل کی قیادت کریں گی ورنہ سپر پاور سے صفر پاور تک کا سفر منٹوں میں تبدیل ہوتا ہے۔

کہتے ہیں انسان اگر چاہے تو تلوار کے بغیر بھی فتوحات حاصل کر سکتا ہے اور یہ فتح زمینوں کی نہیں دلوں کی ہوتی ہے۔ اخلاق، سچائی اور انصاف وہ ہتھیار ہیں جو کسی بھی سپر پاور سے زیادہ دیرپا اور مؤثر ثابت ہوتے ہیں مگر جب کوئی قوم یا قیادت اس اصول کو بھلا بیٹھے اور طاقت کو ہی حق سمجھنے لگے تو اس کے زوال کی داستان لکھی جا چکی ہوتی ہے صرف وقت کا انتظار رہ جاتا ہے۔ دنیا نے بارہا دیکھا ہے کہ ظلم کی بنیاد پر کھڑی سلطنتیں زیادہ دیر قائم نہیں رہتیں وقتی طور پر وہ مضبوط دکھائی دیتی ہیں ان کے فیصلے دنیا کو ہلا دیتے ہیں مگر اندر سے وہ کھوکھلی ہو چکی ہوتی ہیں۔ یہی حال اس وقت امریکہ کی پالیسیوں میں نظر آتا ہے جہاں یکطرفہ مفاد پرستی نے انصاف کا گلا گھونٹ دیا ہے خاص طور پر Donald Trump کے دورِ حکمرانی نے اس طرزِ سیاست کو مزید نمایاں کیا جہاں سچائی کو پسِ پشت ڈال کر بیانیے تراشے گئے جہاں عالمی تعلقات کو اصولوں کے بجائے مفادات کی ترازو میں تولا گیا یہ وہ طرزِ حکمرانی ہے جو وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے مگر تاریخ میں عزت نہیں خرید سکتی طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ اقتدار کرسی کا نہیں کردار کا محتاج ہوتا ہے۔

جب ظلم کو پالیسی بنایا جائے جب جھوٹ کو حکمتِ عملی سمجھا جائے تو پھر نتائج بھی ویسے ہی آتے ہیں۔ دنیا بدل رہی ہے شعور بیدار ہو رہا ہے اور قومیں اب صرف طاقت کے سامنے جھکنے کے بجائے سوال کرنے لگی ہیں یہ وہ تبدیلی ہے جو کسی بھی بڑی طاقت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوتی ہے۔ ہر عروج کو زوال ہے یہ کوئی دعویٰ نہیں بلکہ تاریخ کا اصول ہے مگر زوال صرف طاقت کے کمزور ہونے کا نام نہیں بلکہ اخلاقی شکست کا نام بھی ہے جب دنیا آپ پر اعتبار کھو دے جب آپ کے الفاظ کی وقعت نہ رہے تو سمجھ لیجیے کہ زوال دروازے پر دستک دے رہا ہے۔

یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے زوال کسی ایک فرد کا نہیں ہوتا بلکہ ایک سوچ کا ہوتا ہے اگر قیادت ظلم، ناانصافی اور جھوٹ پر قائم ہو تو وہ دیر تک نہیں چل سکتی کیونکہ قدرت کا نظام عدل پر قائم ہے اور جو اس کے خلاف جائے وہ چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو انجام سے نہیں بچ سکتا۔ آج بھی وقت ہے کہ امریکہ اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرے دنیا کے ساتھ برابری اور انصاف کا رویہ اپنائے ورنہ وہ دن دور نہیں جب اس کی طاقت محض ایک قصہ بن کر رہ جائے گی ایسا قصہ جسے آنے والی نسلیں عبرت کے طور پر پڑھیں گی دنیا کو جیتنے کے لیے ہتھیار نہیں کردار چاہیے اور کردار جب گر جائے تو سلطنتیں خود بخود گر جاتی ہیں۔

Check Also

Digital Yaadein Aur Bhoolta Hua Insan

By Nouman Ali Bhatti