Monday, 06 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Shukriya Trump

Shukriya Trump

شکریہ ٹرمپ

کبھی کبھی تقدیر عجیب مذاق کرتی ہے۔ وہ لوگ جو اپنی حماقت میں دنیا کے معمار بننے کا دعویٰ کرتے ہیں غیر ارادی طور پر انسانیت کے لیے بیداری کے اسباب بن جاتے ہیں ایسا ہی ایک نام ہے Donald Trump.

ایک پرانی کہاوت ہے جو مخلوق کا شکر ادا نہیں کرتا وہ خالق کا بھی شکر گزار نہیں ہو سکتا سو آداب کے تقاضے یہی ہیں کہ ہم اس کی غیر متوقع خدمات کے لیے دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کریں۔

ٹرمپ! تیرا شکریہ تمہاری سیاسی حماقتوں نے دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو دینِ محمدیﷺ کی اصل روح سے روشناس کرایا تم نے اندھی نظریاتی آنکھوں کو بینائی دی نفرتوں میں بھٹے مسلمانوں کو یکجا کیا وہ جو کائنات کو محض ایک زاویے سے دیکھ رہے تھے اب دونوں آنکھوں سے حقیقت کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ تم نے امریکہ کا وہ بھیانک چہرہ بے نقاب کیا جو بچوں کے قاتل انسانیت کے دشمن اور دنیا کی ہر تباہی کا ماسٹر مائنڈ ہے اور ایران کے خلاف شیطانی مہم کی ابتدا نے حیرت انگیز طور پر مسلمانوں کے دلوں میں اتحاد کی روشنی پھونکی جو لوگ کل تک نظریاتی ہم آہنگی میں کمزور تھے آج وہ ایران حزب اللہ اور محورِ مزاحمت کے ہمدرد بن چکے ہیں۔ یہ کوئی نظریاتی انقلاب نہیں یہ محض شعور کی ایک بیداری ہے، ایک لمحاتی مکاشفہ کہ دشمن کی حرکتیں کبھی کبھی ہمیں ہماری اصل پہچان یاد دلا دیتی ہیں۔

ٹرمپ! تیرا شکریہ۔

سوشل میڈیا کی دنیا میں برسوں کی محنت کے باوجود میں شاید ایک شخص کو بھی متاثر نہ کر سکا مگر تمہاری حماقت نے ایک ماہ کے اندر ہزاروں دل کھول دیے۔

وہ لوگ جو امریکہ اور اسرائیل کو آزادی جمہوریت اور امن کا علمبردار سمجھتے تھے آج حقیقت دیکھ کر سمجھ گئے کہ یہ دونوں صرف خبیث کینسر ہیں جو بچوں کا خون پیتے اور انسانیت کی تذلیل کرتے ہیں اور پھر ایران کی جنگ نے مسلمانوں کے دلوں میں ایک اور عجیب نعمت چھوڑ دی اتحاد کی روح۔

اب ہم دیکھ سکتے ہیں کہ مسلکوں کی چھوٹے چھوٹے دیواریں ایک بار پھر گر رہی ہیں نفرتیں گھٹ رہی ہیں اور محبت، ہمدردی اور قربت کی روشنی سرک رہی ہے۔

یہ لمحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک ہی خدا ایک ہی رسول ایک ہی قرآن کے ماننے والے ہونے کے ناطے ہمیں دشمنی اور دست و گریباں ہونے کی بجائے یکجہتی اور محبت کی طرف بڑھنا چاہیے یہ لمحہ بھی غور طلب ہے ہم نے اتنی دیر کیوں برباد کی؟ کیوں اپنی چھوٹی چھوٹی مسلکی پہچانوں کو اتنی اہمیت دی کہ وہ اتحاد اور بھائی چارے کی راہ میں رکاوٹ بن گئیں؟

یہ وہ سوال ہے جس پر ہر مسلمان کو آج خاموش ہو کر سوچنا ہوگا یہ وہ لمحہ ہے جب ہمیں اپنی تاریخ کے ان تاریک گوشوں پر نظر ڈالنی ہوگی جہاں ہم نے نفرت تعصب اور تعصب کی بنیاد پر اپنی طاقت کھو دی۔

ایران جنگ۔ ایک طرح سے ایک آئینہ ہے اس آئینے میں ہم نے دیکھا کہ دشمن کی حرکتیں کبھی کبھار ہمارے لیے نعمت بن جاتی ہیں دشمن کے اقدام نے ہمیں اپنی اندرونی کمزوریوں اپنی تقسیموں اور اپنے تضادات کی پہچان دی۔

ٹرمپ! ہم تجھے اس پر بھی شکر گزار ہیں۔ کیونکہ تمہاری حرکتوں نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا اور ہمیں دکھایا کہ دشمن کی حماقتیں بعض اوقات ہمیں اپنی اصل شناخت یاد دلا دیتی ہیں اب وقت ہے کہ ہم نفرتیں چھوڑیں اختلافات بھلا دیں اور ایک نئی شروعات کریں ایک ایسی شروعات جو قرآن کی تعلیم رسولﷺ کی سنت اور امت کے اتحاد پر قائم ہو یہ لمحہ یاد رہے گا جب دشمن کی حرکت نے مسلمانوں کو اپنی اصلی پہچان سے روشناس کرایا اور یہ دکھایا کہ محبت اتحاد اور ہمدردی ہی ہماری اصل طاقت ہیں ہمیں دعا کرنی چاہیے کہ رب العزت اس اتحاد کو دوام دے رنجشوں کو مٹا دے اور امت مسلمہ کو ایک ہونے کی توفیق عطا کرے۔

یہی لمحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تاریخ کبھی کبھی عجیب طریقے سے ہمارے لیے سبق تیار کر دیتی ہے اور ہم چاہیں یا نہ چاہیں اس سبق سے سیکھنے کے لیے مجبور ہوتے ہیں اگر ہم تلخ طنز میں کہیں تو ہمیں ٹرمپ جیسی حماقتوں کے لیے بھی شکر گزار ہونا چاہیے جو لوگ تاریخ کے آئینے میں صرف اپنی انا دیکھتے ہیں وہ کبھی کبھار غیر ارادی طور پر اتحاد کا سبب بھی بن جاتے ہیں ایران کی جنگ میں ایک دشمن کی حرکت نے مسلمانوں کے دلوں میں بکھری ہوئی محبت کی راہ کھول دی اور یہی ایک غیر متوقع نعمت ہے اب وقت ہے کہ ہم اسے ضائع نہ کریں۔

نفرتیں چھوڑیں اختلافات بھلا دیں اور ایک نئی شروعات کریں ایک ایسی شروعات جو قرآن کی تعلیم، رسولﷺ کی سنت اور امت کے اتحاد پر قائم ہو یہ لمحہ یاد رہے گا۔ ایک لمحہ جب دشمن کی حرکت نے مسلمانوں کو اپنی اصلی پہچان سے روشناس کرایا اور ایک بار پھر یاد دلایا کہ محبت، اتحاد اور ہمدردی ہی ہماری اصل طاقت ہیں۔

Check Also

Tail Ki Barhti Qeematein, Jang Ki Bazgasht Aur Awam Ki Khamosh Cheekh

By Iqbal Bijar