Shohrat Ki Bajaye Baqa, Fatah Ki Bajaye Istiqamat
شہرت کے بجائے بقا، فتح کے بجائے استقامت

ایران کو سمجھنے کے لیے واقعی نقشہ کافی نہیں یہاں جغرافیہ سے زیادہ نفسیہ کام کرتا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں جب کسی ملک کو دیکھتی ہیں تو وہ اس کی سرحدوں اس کے ہتھیاروں اور اس کی معیشت کا حساب لگاتی ہیں مگر ایران ان خانوں میں فٹ نہیں بیٹھتا۔ یہ ایک روایتی ریاست نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا نظامِ بقا ہے ایسا نظام جو جیتنے سے زیادہ بچنے پر یقین رکھتا ہے یہی وہ نکتہ ہے جسے مغرب بارہا سمجھنے میں ناکام رہا ہے۔
دنیا کے جنگی ماہرین جنگ کو ایک منصوبہ سمجھتے ہیں ایک ایسی مشق جس میں آغاز عروج اور انجام سب کچھ طے شدہ ہوتا ہے مگر ایران نے جنگ کو ایک امتحان کے طور پر لیا ایک ایسا امتحان جس میں سوال صرف یہ نہیں ہوتا کہ دشمن کو کیسے ہرایا جائے بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر سب کچھ ختم ہو جائے تو ہم کیسے باقی رہیں گے۔ یہ سوچ اچانک پیدا نہیں ہوئی اس کے پیچھے تاریخ کے وہ مناظر ہیں جنہوں نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔ بغداد کا زوال طرابلس کی خاموشی کابل کی بکھری ہوئی امیدیں یہ سب ایران کے لیے محض خبریں نہیں تھیں بلکہ سبق تھے اور انہی اسباق کے درمیان اس نے خود سے ایک خطرناک سوال کیا اگر سر قلم ہو جائے تو جسم کیسے زندہ رہے گا؟
اسی سوال نے ایران کی عسکری حکمتِ عملی کو جنم دیا ایران نے طاقت کو مرکز میں جمع کرنے کے بجائے اسے منتشر کر دیا اس نے ایک ایسا نظام بنایا جہاں کوئی ایک اعصابی مرکز نہیں بلکہ ہزاروں چھوٹے چھوٹے مراکز ہیں ہر ایک خودمختار ہر ایک متحرک پاسدارانِ انقلاب اسی فلسفے کی عملی شکل ہے۔ ایک ایسی قوت جو روایتی فوجی ڈھانچے سے ہٹ کر ایک نیٹ ورک کی طرح کام کرتی ہے یہاں کمانڈ کا تصور بھی مختلف ہے۔ اگر ایک کمانڈر ختم ہو جائے تو نظام نہیں رکتا بلکہ اسی لمحے خود کو نئے انداز میں ترتیب دے لیتا ہے نہ کوئی ہنگامی کیفیت نہ کوئی خلا صرف تسلسل۔
یہی وہ پہلو ہے جو انٹیلیجنس اداروں کے لیے سب سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ سی آئی اے ہو یا موساد وہ ایران کے نظام میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور بعض اوقات کامیاب بھی ہو جاتے ہیں مگر مسئلہ داخل ہونے کا نہیں سمجھنے کا ہے۔ ایران ایک ایسا آئینہ خانہ ہے جہاں ہر راستہ سیدھا نہیں بلکہ دہرایا ہوا ہوتا ہے آپ کو لگتا ہے کہ آپ اصل تک پہنچ گئے ہیں جبکہ حقیقت میں آپ ابھی بھی عکسوں کے درمیان بھٹک رہے ہوتے ہیں۔ یہاں نگرانی صرف ایک نظام نہیں بلکہ ایک عادت ہے اور شک ایک مستقل کیفیت ہر پرت کے نیچے ایک اور پرت ہے ہر اعتماد کے پیچھے ایک اور سوال اور پھر آتی ہے وہ قیمت جس کا ذکر کبھی کھل کر نہیں کیا جاتا وہ لوگ جو اس نظام کو سمجھنے یا توڑنے کی کوشش میں غائب ہو گئے وہ کہانیاں جو کبھی رپورٹوں کا حصہ نہیں بنتیں۔ ایران ان سب کو اعداد و شمار میں نہیں ڈالتا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ بعض اوقات خاموشی بھی ایک حکمتِ عملی ہوتی ہےاصل فرق یہی ہے دنیا جنگ جیتنے کی تیاری کرتی ہے ایران جنگ میں باقی رہنے کی وہ یہ نہیں پوچھتا کہ ہم دشمن کو کیسے شکست دیں؟
وہ یہ پوچھتا ہے کہ جب دشمن اپنی تمام طاقت آزما کر تھک جائے گا تب ہم کیسے زندہ رہیں گے اور تاریخ کا مزاج بھی عجیب ہے وہ ہمیشہ فاتح کو یاد نہیں رکھتی بلکہ اس کو یاد رکھتی ہے جو آخر تک ڈٹا رہا ایران نے شاید اسی اصول کو اپنا لیا ہے شہرت کے بجائے بقا فتح کے بجائے استقامت۔ تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کسی بھی نظام کی طرح اس حکمتِ عملی کے اپنے تضادات اور چیلنجز ہیں طاقت اور بقا کے درمیان توازن قائم رکھنا آسان نہیں ہوتا اور یہی وہ امتحان ہے جس سے ایران آج بھی گزر رہا ہے سو ایران ایک مکمل کہانی نہیں بلکہ ایک جاری عمل ہے۔
ایک ایسا تجربہ جو وقت کے ساتھ خود کو لکھ رہا ہے اور شاید یہی اس کا سب سے بڑا راز ہے۔
ایران نے جنگوں سے صرف زخم نہیں لیے اس نے ہر زخم سے ایک نیا سبق کشید کیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج جب خطے میں بارود کی بو پھیلی ہوئی ہے تو ایران کی حکمتِ عملی محض ردِعمل نہیں بلکہ ایک طویل سوچ کا نتیجہ محسوس ہوتی ہے یہ وہی ایران ہے جسے کبھی کمزور سمجھا گیا جس کے بارے میں اندازہ لگایا گیا کہ چند ضربیں اسے جھکا دیں گی مگر وقت نے ثابت کیا کہ کچھ ریاستیں ہتھیاروں سے نہیں اپنے حوصلے اور حکمت سے پہچانی جاتی ہیں۔ طاقتور دشمن جب اپنے حساب کتاب لے کر میدان میں اترا تو اسے اندازہ ہوا کہ یہ کوئی روایتی حریف نہیں یہ ایک ایسا نظام ہے جو دباؤ میں ٹوٹتا نہیں بلکہ اور زیادہ مربوط ہو جاتا ہے۔
ایران نے اپنے دفاع کو اس انداز سے ترتیب دیا ہے کہ دشمن کی ہر چال کا جواب صرف میدان میں نہیں ذہن میں بھی دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ بظاہر طاقت کے توازن میں فرق کے باوجود نتائج ہمیشہ یکطرفہ نہیں رہے بعض اوقات بڑے بڑے دعوے زمینی حقیقت سے ٹکرا کر بکھر جاتے ہیں اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب طاقت کی تعریف بدلنے لگتی ہے مگر اصل کہانی صرف حکمتِ عملی کی نہیں، قوم کی بھی ہے۔
ایرانی قوم نے جس انداز میں اپنے ریاستی بیانیے کے ساتھ خود کو جوڑا ہے وہ اس پورے منظرنامے کو ایک نئی جہت دیتا ہے۔ ایک ایسی یکجہتی جو باہر سے دیکھنے والے کے لیے حیران کن ہو سکتی ہے ایک ایسا جذبہ جس میں اختلافات پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور بقا کا احساس غالب آ جاتا ہے یہی وہ مقام ہے جہاں دشمن کی سب سے بڑی غلطی سامنے آتی ہے۔ یہ سمجھ لیا گیا کہ اگر قیادت کو نشانہ بنایا جائے، تو نظام خود بخود زمین بوس ہو جائے گا۔ تاریخ میں ایسی مثالیں موجود بھی ہیں مگر ایران نے اپنی ساخت ہی اس انداز سے رکھی ہے کہ ایک چہرہ ختم ہونے سے کہانی ختم نہیں ہوتی یہاں قیادت ایک فرد نہیں ایک تسلسل کا نام ہے۔
نتیجہ وہی نکلا جو اکثر غلط فہمیوں کا انجام ہوتا ہے اندازے ٹوٹ گئے خواب بکھر گئے اور وہ منصوبے جو کاغذ پر بہت مضبوط لگتے تھے حقیقت کے سامنے چکنا چور ہو گئے ایران نے شاید یہی ثابت کیا ہے کہ جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتی بلکہ ارادوں، نظم اور اجتماعی شعور سے بھی لڑی جاتی ہے اور جب ایک قوم اپنے دفاع کو محض سرحدوں کا نہیں بلکہ اپنی شناخت کا مسئلہ بنا لے تو پھر اسے ہرانا آسان نہیں رہتا۔
یہ ایک نئی قسم کی جنگ ہے جہاں گولیاں چلنے سے پہلے ذہن کام کرتے ہیں اور جہاں فتح کا معیار صرف میدان نہیں بلکہ بقا ہوتی ہے ایران اسی فلسفے کے ساتھ کھڑا ہے اور یہی اس کی اصل طاقت ہے۔

