Friday, 20 March 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Shaheed Sibte Jafar Aik Ehad, Aik Fikr, Aik Chiragh

Shaheed Sibte Jafar Aik Ehad, Aik Fikr, Aik Chiragh

شہید استاد سبطِ جعفر ایک عہد، ایک فکر، ایک چراغ

شہید استاد سبطِ جعفرؒ کا شمار اُن نایاب شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے علم، ادب اور ذاکری کو ایک باوقار شناخت عطا کی۔ آپ کی پیدائش پاکستان کے علمی و ثقافتی شہر کراچی میں ایک مذہبی اور علمی گھرانے میں ہوئی جہاں دینِ اہلِ بیتؑ سے محبت آپ کو ورثے میں ملی۔ بچپن ہی سے آپ کے مزاج میں سنجیدگی شائستگی اور علم سے لگاؤ نمایاں تھا۔

ابتدائی تعلیم آپ نے کراچی ہی کے تعلیمی اداروں سے حاصل کی مگر اصل پہچان آپ کی ادبی و مذہبی تربیت سے بنی۔ آپ کو اردو زبان و ادب سے گہری دلچسپی تھی یہی وجہ ہے کہ بعد ازاں آپ نے اردو ادب کو بطور پیشہ اختیار کیا اور ایک بہترین استاد کے طور پر جانے گئے۔ طالب علمی کے زمانے میں ہی آپ نے شعر و سخن کی دنیا میں قدم رکھا اور جلد ہی اپنی منفرد طرزِ بیان کی وجہ سے پہچان بنا لی۔ ذاکری کا سفر بھی کم عمری میں ہی شروع ہوا جہاں آپ نے نہ صرف اپنے درد بھرے انداز سے سامعین کے دلوں کو متاثر کیا بلکہ کربلا کے پیغام کو ایک فکری اور شعوری انداز میں پیش کیا۔ آپ کی ابتدائی زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ وہ صرف ایک مقرر نہیں بلکہ ایک باعلم، باکردار اور مقصدی انسان تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی دین اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔

کچھ لوگ محض زندہ نہیں ہوتے، وہ اپنے عہد کی پہچان ہوتے ہیں اور کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے سینے پر اپنے وجود کا ایسا نقش چھوڑ جاتی ہیں کہ صدیوں بعد بھی ان کی گونج باقی رہتی ہے۔ شہید سبطِ جعفر بھی انہی نایاب ہستیوں میں سے ایک تھے، وہ صرف ایک استاد نہیں تھے وہ ایک مکتبِ فکر تھے ایک روایت تھے، ایک مزاحمت تھے علم، ادب اور عشقِ اہلِ بیتؑ سے سر سار تھے۔

سبطِ جعفر کی شخصیت کئی جہتوں کا حسین امتزاج تھی وہ جب قلم اٹھاتے تو لفظ فقط لفظ نہیں رہتے تھے وہ درد بن جاتے شعور بن جاتے اور کبھی کبھی انقلاب کی تمہید بھی ان کی شاعری میں کربلا کا فلسفہ زمانے کا نوحہ اور انسانیت کا کرب ایک ساتھ سانس لیتا تھا۔

ان کے اشعار میں نہ کوئی تصنع تھا نہ کوئی دکھاوا وہ دل سے نکلتے تھے اور سیدھا دلوں میں اتر جاتے تھے

سر میں سوراخ سے افکار نہیں مر سکتے

گولیوں سے میرے اشعار نہیں مر سکتے

یہ محض شعر نہیں ایک نظریہ ہے ایک اعلان ہے کہ فکر کو مارنا ممکن نہیں۔

جب وہ منبر پر آتے تو نہ کوئی پروٹوکول ہوتا نہ کوئی تعارف وہ خود اپنی پہچان تھے یعنی اپنی ایک انجمن تھے ان کی ذاکری میں ایک عجب تاثیر تھی سادگی میں لپٹی ہوئی گہرائی اور گہرائی میں چھپی ہوئی سچائی۔

وہ وقت کے پابند ایسے کہ مقررہ وقت پر پہنچنا ان کی پہچان تھا اور پڑھنا ایسا کہ سامعین کے دلوں پر نقش چھوڑ جاتے انہیں استاد کہنا محض ایک تعریفی لفظ نہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ حقیقت تھی وہ واقعی استاد تھے انہوں نے نہ صرف علم دیا بلکہ کردار بھی تراشے۔ ان کے شاگرد ہزاروں میں ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ استاد سبطِ جعفر جیسا کوئی نہیں بن سکا اور شاید بن بھی نہ سکے انہوں نے ادبی تنظیموں کو کھڑا کیا نئی نسل کو سوچنے کا سلیقہ دیا اور ادب کو محض الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ شعور کی بیداری بنا دیا۔

وہ صرف منبر کے آدمی نہیں تھے وہ میدان کے بھی آدمی تھے۔ کسی نے مدد کو پکارا تو وہ موٹر سائیکل پر کراچی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتے۔ یہ وہ دور تھا جب لوگ نام کے لیے کام کرتے ہیں اور وہ وہ شخص تھے جو کام کے لیے جیتے تھے۔ پھر وہ دن آیا جب ظلم نے ایک اور چراغ بجھانے کی کوشش کی شہادتِ سبطِ جعفر کوئی عام واقعہ نہیں تھا یہ ایک سوچ پر حملہ تھا، ایک آواز کو خاموش کرنے کی سازش تھی مگر وہ خود کہہ گئے تھے۔۔

گولیوں سے میرے اشعار نہیں مر سکتے

اور واقعی وہ آج بھی زندہ ہیں اپنے اشعار میں، اپنے شاگردوں میں اور ہر اس دل میں جو حق کی تلاش میں ہے یہ بھی ایک کڑوی سچائی ہے کہ ایسے لوگ حادثاتی طور پر نہیں مرتے انہیں مارا جاتا ہے ان پالیسیوں کے نتیجے میں جو وقتی مفادات کے لیے بنائی جاتی ہیں۔

محمد ضیاء الحق کے دور میں شروع ہونے والی پالیسیوں، افغان جہاد اور تزویراتی گہرائی جیسے نعروں نے جس انتہاپسندی کو جنم دیا۔ اس نے نہ صرف سبطِ جعفر جیسے لوگوں کو ہم سے چھینا بلکہ پورے معاشرے کو ایک مستقل خوف میں مبتلا کر دیا۔

آج بھی جب محرم، میلاد یا کسی جلوس پر حملہ ہوتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے ہم نے تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا۔

سبطِ جعفر چلے گئے مگر اپنے پیچھے سوالات چھوڑ گئے کیا ہم نے ان کے فکر کو زندہ رکھا؟ کیا ہم نے ان کے راستے پر چلنے کی کوشش کی؟ کیا ہم نے اس معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے کچھ کیا؟

حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں شاگرد ہونے کے باوجود، ایک بھی سبطِ جعفر پیدا نہ ہو سکا

ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے۔

وہ شخص جسے بیرونِ ملک جانے کی پیشکش ہوئی۔ مگر اس نے کہا میں کیوں جاؤں؟ میری زندگی امام حسینؑ کی خدمت میں گزری ہے میں اسی راہ میں شہید ہونا پسند کروں گا یہ جملہ نہیں یہ کردار ہے یہ وہ معیار ہے جو ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

استاد سبطِ جعفر محض ایک فرد نہیں تھے وہ ایک تحریک تھے علم کی عشق کی اور مزاحمت کی۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سچ بولنا، حق کے ساتھ کھڑا ہونا اور انسانیت کی خدمت کرنا کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔

آج ان کی برسی پر بس یہی کہا جا سکتا ہے استاد! آپ بہت یاد آتے ہیں آپکی یاد مین ہماری آنکھیں بھیک جاتی ہیں اور جب تک لفظ زندہ ہیں، آپ بھی زندہ رہیں گے۔

Check Also

Abna e Hormuz Aur Jazeera e Kharg

By Amir Mohammad Kalwar